آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار19؍ربیع الاوّل 1441ھ 17؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کرکٹ ورلڈ کپ 2019 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا سفر اتار چڑھاؤ کا شکار ہے، کبھی خوشی اور کبھی غم کا سلسلہ جاری ہے ، بالکل ایسے ہی جیسے ورلڈ کپ 1992میں ہوا تھا۔

ہوبہو ویسا ہی، پاکستان کرکٹ ٹیم کا ورلڈ کپ 2019 کیلئے نعرہ ہے “وی ہیو ۔ وی ول” یعنی ہم نے پہلے بھی کر دکھایا تھا اور اب بھی کر دکھائیں گے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی پرفارمنس اس نعرے کی عکاسی یوں کررہی ہے کہ جس انداز میں پہلے کیا تھا اس بار بھی اس ہی انداز میں کریں گے۔

ورلڈ کپ 2019 میں پاکستان کی کارکردگی اور اگر مگر کی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو یہ 1992 سے بالکل بھی مختلف نہیں۔

ستائیس سال قبل بھی پاکستان نے ویسٹ انڈیز کیخلاف شکست کے ساتھ ٹورنامنٹ شروع کیا۔ اس بار بھی، پھر دوسرا میچ جیتا اور تیسرا میچ بارش کی نذر ہوا، یہ اس سال بھی ہوا اور ستائیس سال پہلے بھی ! چوتھے اور پانچویں میچ میں پہلے بھی پاکستان کو شکست ہوئی تھی اور اس بار بھی پاکستان کو شکست ہوئی۔

1992 میں پاکستان ٹیم جب اپنا چھٹا میچ جیتی تو مین آف دی میچ عامر سہیل تھے، اس بار جب ٹیم چھٹا میچ جیتی تو مین آف دی میچ حارث سہیل بن گئے، دونوں ہی بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے ہیں اور تو اور پہلے بھی پاکستان کی امیدیں آسٹریلیا سے وابستہ تھیں، آج بھی آسٹریلیا سے ہی امید ہے۔

پہلے پاکستانی ویسٹ انڈیز کیخلاف آسٹریلیا کی فتح کیلئے دعاگو تھے اور اب کی بار انگلینڈ کیخلاف، یہ بھی یاد رہے کہ بانوے میں بھی پاکستان کا سامنا کرنے سے قبل نیوزی لینڈ کوئی میچ نہیں ہارا تھا اور اس بار بھی کیویز ناقابل شکست اور بدھ کو پاکستان سے میچ کیلئے تیار ہیں۔

شائقین کرکٹ 1992 اور 2019 میں اس قدر یکسانیت دیکھنے کے بعد پر امید ہیں کہ پاکستان ٹیم کیلئے ورلڈ کپ کا نتیجہ بھی ویسا ہی ہو،  جیسا بانوے میں ہوا تھا۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید