آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ربیع الاوّل 1441ھ 13؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

غذاؤں کا انتخاب بلڈ گروپ سے کیجیے

آئیڈیل فٹنس، وزن اور صحت مندطرزِزندگی کے لیے متوازن غذا بنیادی عوامل میں سے ایک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طبی ماہرین، غذا کے انتخاب پرخاص توجہ دینے اور احتیاط برتنےکا مشورہ دیتے ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ غذا کا انتخاب عمر کے ساتھ ساتھ بلڈ گروپ کی مدد سے بھی کیا جاتاہے؟ بلڈ گروپ کے ذریعے غذا کا انتخاب کرنے کو ماہرین بلڈ گروپ ڈائٹ کا نام دیتے ہیں۔

بلڈ گروپ ڈائٹ

معروف نیچروپیتھک فزیشن پیٹر جے ڈاڈامو (Peter J D’adamo) نے 1966ء میں اپنی کتاب کے ذریعے ایک نظریہ ’’اِیٹ رائٹ فار یور ٹائپ‘‘ کے نام سےپیش کیا، جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ انسان کو روزمرہ خوراک کا انتخاب اپنے بلڈ گروپ کے مطابق کرنا چاہیے۔ چار بلڈ گروپس ہیں، جن کے ’پازیٹو‘ اور ’نِگیٹو‘ ملائے جائیں تو یہ تعداد آٹھ ہوجاتی ہے۔

ہر بلڈ گروپ کے اینٹی جینز دوسرے بلڈ گروپ سے مختلف ہوتے ہیں، جو مائیکروبائیوم (Microbiome) سمیت بہت سے بیکٹریا (بعض اوقات 50,000سے زیادہ ) سے براہ راست تعلق رکھتے ہیں۔ چونکہ ہر بلڈ گروپ کے اینٹی جینز مختلف ہوتے ہیں، اس لیے یہ ہر جسم پر اثر انداز بھی مختلف انداز میں ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ڈائٹ کی مدد سے جہاں ایک شخص 20کلو وزن کم کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے، اسی ڈائٹ سے دوسرے شخص کا وزن 10کلو بھی کم نہیں ہوپاتا۔ دراصل، اس بات کا تعلق انسان کے بلڈ گروپ سے ہی ہے کیوں کہ ایک بلڈ گروپ کے حامل شخص کے معدے کے مخصوص انزائم، دوسرا بلڈ گروپ رکھنے والے شخص سے قطعاًمختلف ہوتےہیں ( مثلاًI APایک مخصوص قسم کا انزائم ہے، جو بلڈ گروپ Oا ور Bمیں پایا جاتا ہے)۔ انزائم کی یہ تبدیلی غذا ہضم کرنے کے عمل پر ہر شخص میں مختلف طرح سے اثر انداز ہوتی ہے، جس کے باعث یہ ضروری نہیں کہ جوخوراک کسی دوسرے شخص کے جسم پرایک خاص انداز میں اثرپذیر ہورہی ہے،وہ آپ کے جسم پر بھی بالکل ایسی ہی اثر انداز ہو۔

بلڈ گروپ ڈائٹ چارٹ

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ بھی آئیڈیل فٹنس اور صحت مند طرزِ زندگی کے حقدار کہلائیں تو اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اپنی غذاکا انتخاب بلڈ گروپ کے مطابق کریں۔ یہ انتخاب کیسے کرنا ہے، اس سے متعلق ذیل میںطبی ماہرین کی جانب سے مرتب کیا گیا بلڈگروپ ڈائٹ چارٹ اورایکسرسائز گائیڈلائن آپ کے لیے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

بلڈ گروپ O

اس بلڈ گروپ کے حامل افرادکےپلازما میں A اورB اینٹی باڈیز پائی جاتی ہیں۔ ان سے متعلق ماہرین کا خیال ہے کہ ان کا نظام ہاضمہ دوسرے گروپ کی نسبت کمزور ہوتا ہے، لہٰذا ان کو اپنی غذا کا خیال زیادہ رکھنا چاہیے۔

٭ایسے ڈائٹ چارٹ پر عمل کریں جو ہائی پروٹین غذائی اجزا پر مشتمل ہو،مثلا ً بغیر چربی کا گوشت، سبزیاں (پالک، سیربین ڈشز)، مچھلی اور پولٹری۔

٭دیر سے ہضم ہونے والے کھانوں اور ڈیری مصنوعات(دودھ، دہی اور اناج وغیرہ) کے زیادہ استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔

٭Oبلڈ گروپ رکھنے والے افراد کے وزن بڑھنے کی خاص وجہ گندم سے بنائی جانے والی مصنوعات کا استعمال جبکہ کچھ حد تک دالیں، مکئی، لوبیا اور گوبھی وغیرہ کا استعمال بھی ہے۔

٭ایروبکس ،مارشل آرٹس اور کھیلوں کی مختلف اقسام، مثالی ایکسرسائز کے طور پرلائف اسٹائل کا حصہ بنائی جاسکتی ہیں ۔

بلڈ گروپ A

اس گروپ کے سرخ خلیات میں A اینٹی جینز جبکہ پلازما میں B اینٹی باڈیزپائی جاتی ہیں۔ یہ نایاب بلڈ گروپ میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ یہ بلڈ گروپ قلبی بیماریوں، کینسر اور ذیابطیس کا جلد شکار ہوسکتا ہے۔

٭اس گروپ کے لیےویجیٹیرین ڈائٹ کے ساتھ تازہ، خالص اور نامیاتی غذاؤں کا انتخاب ضروری ہے۔ انھیں اپنی غذاؤں میں گوشت کے بجائے سبزیوں،اناج، اور پھلوں کا اضافہ کرنا چاہیے۔

٭ اس بلڈ گروپ کے لیے ایسی ورزشیں ضروری ہیں، جو انھیں پرسکون اور توجہ مرکوز رکھنے کی طرف قائل کریں مثلاًیوگا،Tai Chiاور Qi Gongوغیرہ۔

بلڈگروپ B

اس بلڈ گروپ کے سرخ خلیات میںB اینٹی جینز جبکہ پلازما میں A اینٹی باڈیزپائی جاتی ہیں۔ یہ بلڈ گروپ نایاب بلڈ گروپ میں شامل ہے۔

٭اس گروپ کے حامل افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی غذاؤں میں انڈے،کم چربی والی ڈیری مصنوعات، مخصوص گوشت والی غذاؤں اور پتوں والی سبزیوں کو شامل کریں۔

٭گندم ،مکئی،دالوں، ٹماٹر اور مونگ پھلی کے زیادہ استعمال سے گریز کریں۔

٭ایسی ایکسرسائز کا انتخاب کریں، جوذہنی توازن میں مددگار ثابت ہوںمثلا ًپیدل چلنا، ٹینس کھیلنا، سائیکلنگ اور سوئمنگ وغیرہ۔

بلڈ گروپ AB

اس بلڈگروپ کے سرخ خلیات میں A اورB دونوںاینٹی جینز پائے جاتے ہیں جبکہ پلازما میںکوئی اینٹی باڈیز نہیں پائی جاتی۔

٭یہ افراد اپنی غذاؤں میں ہری سبزیوں، ٹوفو، ڈیری اور پروٹین کی حامل مخصوص غذاؤں کا استعمال زیادہ سے زیادہ کردیں۔

٭ کیفین کا استعمال کم سے کم کریں۔