آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ17؍ ربیع الاوّل 1441ھ 15؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

دنیا بھر میں بڑھتی فضائی اور زمینی آلودگی کےپیش نظر درخت اور پودے لگانے کی اہمیت میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ لازمی نہیں کہ آپ فطرت سے لگاؤ رکھتے ہوں تب ہی اپنےصحن کے لیے خوشنما اور رنگ برنگے پودوں یا ہریالی کا انتظام کریں بلکہ گھر کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی، فضا کی صفائی اور بڑھتے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی باغبانی ضرورت بن گئی ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس کا انتخاب کیسے کیا جائے! آج بات کرتے ہیں باغبانی کے کچھ نئے اور منفرد انداز کی، جس کے تحت نہ صرف گھر کی خوبصورتی اور قدروقیمت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی کی جانب پیش قدمی کی جاسکتی ہے۔

سادہ رکھنے کی کوشش کریں

ماہرین چھوٹے اور کم رقبہ پر تعمیر کیے گئے گھروں میں لینڈ اسکیپنگ کو سادہ مگر دلکش رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔مثال کے طور پر واک وے کے ساتھ باغیچہ تعمیر کرنے کے لیے دونوں جانب باڑ کا اضافہ کرنا، ورٹیکل یا پھر کارنر گارڈننگ وغیرہ۔ اس کے لیے درج ذیل تجاویز دی جاتی ہیں۔

٭گھر کے بیرونی حصے میں تعمیر کی جانے والی باڑ کو سیدھا یا ہموار رکھنے کے بجائے اگر اس میں خوبصورتی کے ساتھ چند اسٹیپ یا خم دار لائن کا اضافہ کردیا جائے تو یہ عمل آپ کے چھوٹے سے گھر میں بنے باغیچے کو مزید قدرتی اورخوبصورت انداز فراہم کرے گا ۔

٭ایک بنجر زمین، چاہے وہ گھرکے عقبی حصے میں ہو یا صحن میں، اس کے دونوں اطراف لکڑی کی باڑ یا کیاریاں بناکر خوبصورت شکل دی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کیاریوں میںباغیچے کی خوبصورتی میں اضافہ کرنے والے عناصر شامل کیجیے، مثلاًباڑ کے اندر پتھروں سے بھرا فرش ، اردگرد بکھرے رنگ برنگے پھول پودے یا کنٹینر پلانٹ وغیرہ۔

کم محنت اور کم لاگت

مصروف زندگی میں ایک متوسط طبقےسے تعلق رکھنے والے انسان کے لیے باغبانی کو وقت دینا آسان کام نہیں، اسی لیے ماہرین ایسے افراد کے لیے کم لاگت گارڈننگ ٹرینڈز کا چناؤ کرتے ہیں۔

٭گارڈن کے لیےایسے پودوں (جنھیں وافر مقدار میں پانی درکار ہو) کے انتخاب کے بجائے زیادہ عرصہ چلنے والے پودوں (Perennial Plants)کا انتخاب کیجیے۔ طویل عرصہ چلنے والے پودوں میں دن کا راجا، سَلوِيا، صعتر (خوشبودار پتیوں والا پودا ) اور کوراوپسس(پیلے اور سُرخ پُھول والا پودا) شامل ہیں۔ اس حوالے سے آپ اپنے اردگرد موجود باغات کا بھی دورہ کرسکتے ہیں، جہاں مالی سے طویل عرصہ چلنے والے مقامی پودوں کے متعلق معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

٭دوسری جانب باغیچے کےلیے پیچیدہ درختوں اور جھاڑیوں کا انتخاب کرنے سے گریز کیجیے۔ ان جھاڑیوں اور غیر منظم درختوں سے آپ ماحولیاتی فوائد حاصل نہیں کرپائیں گے۔ درختوں کے پتے متواتر جھڑنے سے آپ کو صفائی کے لیے مزید وقت درکار ہوگا۔

فرش کا انتخاب

لینڈ اسکیپنگ کے لیےفرش کا انتخاب بھی ضروری قرارد یا جاتا ہے۔ اس کے دگنے فوائد تسلیم کیے جاتے ہیں، پہلا یہ کہ آپ وسیع رقبے پر گھاس اور پودوں کی دیکھ بھال اور تزئین و آرائش سے بچ جائیں گے اور دوسری جانب پیدل چلنے کے لیے ایک خوبصورت راستہ میسر آجائے گا، جسے دیکھ کر گھر آنے والے مہمان بھی متاثرہوئے بنا نہ رہ پائیں گے۔ اگر آپ کا صحن وسیع ہے تو آپ وہاں باربی کیو کا انتظام بھی کرسکتے ہیں یا پھر بچوں کیلئے جھولے بھی لگاسکتے ہیں۔

صحن کے فرش کے لیےایسے مواد کا انتخاب کریں جو نہ صرف معیاری ہو بلکہ اس کی صفائی بھی آپ کے لیے آسان ہو۔ قدرتی پتھر کی بات کی جائے تو یہ بہت سی اقسام میں پایا جاتا ہے مثلاً فرشی پتھر، سلیٹ، زنگار اور چونے کا پتھر۔ اگرچہ یہ قدرے مہنگا لیکن معیاری اور پائیدار ہوتا ہے۔

مرکزی نقطہ نگاہ

ایک خوبصورت باغیچہ مرکزی نقطہ نگاہ کے بغیر ادھورا سا لگتا ہے۔ مرکزی نقطہ نگاہ باغیچے کی لمبائی اور چوڑائی کو مدِنظر رکھتے ہوئے بالکل درمیان میں بنایا جاتا ہے۔ یہ جگہ ایسی ہونی چاہیے کہ دیکھنے والے کی نگاہ ٹھہر جائے۔ مرکزی نقطہ نگاہ کے حوالے سے بعض عناصر ضروری تصور کیے جاتے ہیں مثلاًسائبان، سوئمنگ پول، دیوار، کنٹینر وغیرہ۔ یہ وہ تمام اشیا ہیں جنہیں ہم ہر گھر میں دیکھتے ہیں، تو کیوں نہ آپ اپنے باغیچے کے لیے کچھ حد خوبصورت اور منفرد منتخب کیجیے مثلاًبرن ووڈ (جنگلی لکڑی)، خوبصورت اور اینٹیک لوہے کے دروازے، سیمنٹ کے بجائےدیہاتی طرز پر تعمیر کروایا گیا سوئمنگ پول وغیرہ۔

تعمیرات سے مزید