آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ17؍ ربیع الاوّل 1441ھ 15؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

امریکی کمپنیاں چینی درآمدات پر محصولات سے بچاؤ کیلئے قانون میں خامیوں کی تلاش میں

نیویارک : الیسٹر گرے

اینڈریو ایجکلف جانسن

بین الاقوامی تجارت کرنے والے ادارے کنگ اینڈ اسپیلڈنگ کے سربراہ اسٹیو اوروا نے کہا کہ نت نئے طریقوں اور چالاکی سے وہ پابندیوں کا مسئلہ کیسے حل کرسکتے ہیں، امریکی کمپنیوں نے چینی درآمدات پرچند محصولات کے حوالے سے تدبیر کے طریقے تلاش کرلیے ہیں۔

امریکی کمپنیاں چین سے درآمد ہونے والی اشیاء پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عائد کردہ محصولات کی مد میں کمی کے لیے مدد کیلئے اپنے وکلاء کو کہہ رہی ہیں،وہ دوسرے ممالک میں اپنی پروڈکشن منتقل کیے بغیر محصولات میں کمی یا اس سے بچنے کیلئے معاون قانونی سقم تلاش کررہی ہیں۔

لاء فرمز اور کنسلٹنس کا کہنا ہے کہ ا ن پر کم ازکم سامان پر محصول کے قانون کی شق 321 ،جو 8سو ڈالر سے کم مالیت کے سامان کو ٹیرف عائد کیے بغیر بھیجنے کی اجازت دیتی ہے، کے استعمال کیے متلاشی درآمدکنندگان کی جانب سے مدد کیلئے درخواستوں کی بھرمار ہے۔

کارپوریٹ کے مشیر نے خبردار کیا کہ قیمت کو کم کرنے کی کوششوں میں کافی خطرات ہیں،اگر امریکی حکام کسی خاص ٹیرف سے بچنے کے طریقہ کار پر پابندی لگادیں توپیسے کو دوسرے طریقوں سے واپس لیا جاسکتا ہے اورجس کا ذمہ دار اعلیٰ سطح کے حکام کو ٹھہرایا جائے گا ۔

عالمی سپلائی چین الواویز اور مرسل کے رہنما جیوف پولاک نے کہا کہ کسٹمز میںعام طور پر آخری ذمہ دار کمپنی کا سب سے اعلیٰ آفیسر ہوتا ہے،لہٰذا یہ صرف آپ ہی نہیں جو ان سرگرمیوں میں ملوث ہیں بلکہ آپ کا سی ای او بھی ہے۔

اس ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جنگ پنگ کی اوساکا میں جی 20 سربراہی اجلاس میں طے شدہ ملاقات سے پہلے امریکی کمپنیوں نے تجارتی جنگ سے اقتصادی تعلقات خراب ہونے کے بارے میں تنبیہ کا سلسلہ جاری کیا ہوا ہے۔

چینی درآمدات پر لگائے گئے اربوں ڈالرز کے چارجز کے علاوہ ٹرمپ انتظامیہ نے مزید 3سو ارب ڈالر کی اشیاء پر محصول کی دھمکی دی ہے،جس نے چینی سپلائرز کے ساتھ طویل عرصے سے تعلقات رکھنے والی امریکی کمپنیوں پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔

الیکٹرونک ریٹیلر بیسٹ بائے کے چیف مرچنڈائزنگ آفیسر جیسن بونفگ نے واشنگٹن میں کانفرنس میں بتایا کہ بہت سی معروف مصنوعات کے پاس، تقریبا انہی شرائط پر چین سے باہر کوئی عملاََ متبادل دستیاب نہیں ہے۔

ٹرویس اینڈ روزنبرگ سینڈلر میں بین الاقوامی تجارت اور سرکاری تعلقات کے سینئر ڈائریکٹر ایڈورڈ اسٹینر نے کہا کہ نتیجے کے طور پر قواعد و ضوابط میں رہتے ہوئے کمپنیاں ٹیرف سے ہر ممکن بچاؤکے لیے حوصلہ افزائی کررہی ہیں۔ نجی شعبہ محصول میں کمی کے لیے حکمت عملی میں نت نئے طریقوں کی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔

بین الاقوامی تجارت کرنے والے ادارے کنگ اینڈ اسپیلڈنگ کے سربراہ اسٹیو اوروا نے کہا کہ نت نئے طریقوں اور چالاکی سے وہ پابندیوں کا مسئلہ کیسے حل کرسکتے ہیں، امریکی کمپنیوں نے چینی درآمدات پرچند محصولات کے حوالے سے تدبیر کے طریقے تلاش کرلیے ہیں۔

ڈرنجرر(کمپنی کا نام ہے) کے کسٹمز کے معاملات اور تعمیل کی ڈائریکٹر ایمی میگنس نے کہا کہ درآمد کنندگان نے بالخصوص کم از کم محصول کے قانون کی شق 321 میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔تین سال قبل ٹیرف کےبغیر درآمد ہونے والے سامان کی حد دو سو ڈالر سے بڑھا کر آٹھ سو ڈالر کردی گئی تھی۔تاہم ہر روز فی کسٹمر صرف ایک شمپنٹ کی اجازت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ اس شق سے متعلق سوالات کررہے ہیں کہ یہ قانون ان کے لیے کیسے کارآمد ہوسکتا ہے۔ ایسا پہلے سے ہی ہورہا ہے اور چینی درآمدات پر مزید چار ٹیرف کی لہر کی دھمکی سامنے آنے سے اس میں مزید اضافہ ہوگا۔

مسٹر اسٹینر نے کہا کہ پہلی بار فروخت پر قیمتوں کے تعین پر قواعد اہم محصولات سے بچنے کا ایک اور راستہ فراہم کرتے ہیں۔ محصولات درآمد ہونے والی اشیا کی قدر پر عائد کیے جاتے ہیں،فی الحال کمپنیاں کسٹمز اہلکاروں کو اشیاء کی کم تر قدر پر محصول کا تعین کرنے کیلئے قائل کرنے کے قابل ہیں، یعنی اگرسامان کم قیمت پر خریدا گیا تھا اور پھر اس کی قیمت سپلائی چین(supply chain )نے مزید کم کردی۔اگر آپ بڑے حجم میں سامان کے بارے میں بات کررہے ہیں تو آپ دراصل بڑی بچت کے بارے میں بات کررہے ہیں۔

ٹیریکس کی فہرست میں درج صنعت کے چیف ایگزیکٹو جان گیرسن نے’’ایسا طریقہ کار جس نے کنیکٹی کٹ کی کمپنیوں کو ٹیرف کے براہ راست اثرات سے کامیابی کے ساتھ نمٹنے کی اجازت دی تھی‘‘ کے موضوع پر سرمایہ کاروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی برآمدکنندگان محصول میں سہولت حاصل کرنے کیلئے محصولات کے قانون کی خامیوں کو بھی استعمال کرسکتے ہیںجیسا کہ ایسی درآمدات جو بعدازاں ملک سے باہر چلی جائیں گی۔

نام نہاد بنیادی انجینئرنگ ایک اور تیکنیک ہے۔ اشیاء عام طور پر جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ کسی دوسرے ملک سے آرہی ہیں جبکہ دراصل وہاں ان کی ہیئت بدلی جاتی ہے۔ یہ ثابت کرنے کیلئے کہ اشیاء دراصل چین سے باہر تیار کی گئی ہیں، کمپنیاں اپنی پروڈکشن کے پارٹس کہیں اور ایڈجسٹ کرنے کے قابل ہوسکتی ہیں۔

شکاگو کی میتحڈ الیکٹرانکس چین سے باہر اجزالا کر سپلائرز اور مینوفیکچرنگ کے مقامات کی آزمائش کررہی ہے۔تاہم چیف فنانشل آفیسر رون توماس نے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ مواد کی تبدیلی کی تشکیل پر یہ ٹیرف کے نقطہ نظر سے کافی پیچیدہ ہوجاتا ہے۔

کمپنیاں بانڈڈ گوداموں سے معروف سہولتوں کو استعمال کرکے بھی ٹیرف کے اخراجات میں کمی کا انتظام کرسکتی ہیں، جہاں محصول کی ادائیگی کیے بغیر درآمد شدہ سامان ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔ محصول اس وقت عائد کیا جاتا ہے جب سامان عمارت سے باہر منتقل کیا جائے۔

گوداموں کو یاتو وقت کے ساتھ بتدریج محصولات کو پھیلا کر رقم کے بہاؤ کا انتظام کرکے یا اگر بعد ازاں محصول کم ہوجائے تو کم شرح کی ادائیگی کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

مسٹر اوروا نے کہا کہ وکلاء کا کہنا ہے کہ روایتی حکمت عملی میں سے ایک بھی مؤثر حل پیش نہیں کرتی، تاہم ان میں سے کچھ فائدہ مند ہوسکتی ہیں،کچھ کافی مشکل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان سے کامیابی کے ساتھ فائدہ اٹھانے کے لیے کمپنیوں کو یہ یقینی بنانے کیلئے کہ وہ قواعد و ضوابط کے ساتھ مکمل طور پر مطابقت رکھتی ہیں،اکثر بہت سے اندرونی وسائل لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید