آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 21؍ ذوالحجہ 1440ھ23؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کو اپنی معیشت کی بہتری کے لئے پچیس ارب ڈالرز کی ضرورت ہے، پاکستان کو آئندہ ماہ بجلی کے ریٹس ڈھائی روپے فی یونٹ بڑھانا ہوں گے۔

پاکستان کی معیشت پر آئی ایم ایف نے نئی رپورٹ جاری کر دی۔

عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے پاکستان کی معیشت پر جاری رپورٹ میں واضح لکھا گیا ہے کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کےستائیس نکات پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ کو بتایا گیا کہ بجٹ میں 516 ارب روپے کے ٹیکس لگائے گئےجو حقیقتاً 733 ارب 50  کروڑ روپے کے تھے، پاکستان کوستمبرتک 1 ہزار ارب روپے ٹیکس جمع کرنا ہوگا۔

مئی سے کرنسی کی شرح تبادلہ مارکیٹ طے کر رہی ہے جسے اسٹیٹ بینک ماننے کو تیار نہیں، آئی ایم ایف کا پیکیج مکمل ہونے تک پاکستان کوئی ایمنسٹی اسکیم نہیں لاسکے گا۔

آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق پاکستان کو بجلی کےفی یونٹ نرخ میں ڈھائی روپے بڑھانا ہوں گے، نیا ٹیرف اگست 2019 میں جاری کیا جائے گا، جبکہ 2020 کے لیے بجلی کا نیا ٹیرف ستمبر 2019 میں جاری کرنا ہوگا ۔

اسٹیٹ بینک اور نیپرا خود مختاری کا بل دسمبر 2019 میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، پاکستان گیس سیکٹر کے واجبات کی وصولی یقینی بنائے گا، اور وصولی کا پلان ستمبر 2019 میں پیش کرناہوگا۔گردشی قرضے کے خاتمے کا پروگرام اوراوگرا کی خود مختاری کا ترمیمی بل بھی منظوری کےلئےپارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا ۔

ریئل اسٹیٹ سیکٹر اور زرعی آمدن پر ٹیکس لگانےاورپراپرٹی کی قیمتیں مارکیٹ ویلیو کے قریب لانے کی یقین دہانی کرائی، پاکستان نے سگریٹ، چینی اور سیمنٹ پر ایکسائز ڈیوٹی، درآمدی گیس اور لگژری اشیاء پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا ۔

2020 میں قرضوں کی شرح بلحاظ جی ڈی پی 80 اعشاریہ 5 فیصد تک پہنچ جائے گی، پاکستان نے ٹیکسز کی شرح میں جی ڈی پی کا 4 سے 5 فیصد بڑھانے پر اتفاق کیا۔

تجارتی خبریں سے مزید