آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جس طرح میچ شروع ہونے سے پہلے ٹاس میں ہار جیت کا فیصلہ ہوتا ہے اسی طرح انتخابات کا میدان سجنے سے پہلے ایک اور دنگل بھی ہوتا ہے اور وہ ہے انتخابی نشانات کے حصول کا معرکہ۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف دونوں کا مطالبہ تھا کہ انہیں”ترازو“کا انتخابی نشان الاٹ کیا جائے۔ مگر قرعہ فال جماعت اسلامی کے نام نکلا اور عمران خان ٹاس ہار گئے۔ویسے میرے خیال میں اگر انہیں ٹارچ کا انتخابی نشان بھی الاٹ ہو جائے تو انہیں چراغ پا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ 2002ء میں وہ چراغ کے نشان پر الیکشن لڑچکے ہیں ویسے بھی ترازو کے انتخابی نشان پر جماعت اسلامی کا حق فائق ہے کیونکہ 70ء کے انتخابات میں جماعت اسلامی اس انتخابی نشان پر لڑ چکی ہے۔ مولانا فضل الرحمن صاحب بھی پریشان ہیں کیونکہ الیکشن کمیشن ان کی کتاب بند رکھنے پر مصر ہے جبکہ ان کی خواہش ہے کہ کتاب ِ زیست کھول دی جائے ویسے اگر الیکشن کمیشن مولانا کا مطالبہ مان لے تو کھلی کتاب کے دونوں صفحوں پر یہ ضرور لکھا ہونا چاہئے کہ 73ء کے آئین کے تناظر میں ووٹ مولانا فضل الرحمن ہی کو دینا چاہئے ۔
انتخابی نشان جہاں سیاسی جماعتوں سے جڑ جاتے ہیں وہاں آزاد امیدواروں کی زندگی سے بھی ایسے چپک جاتے ہیں کہ ان کی شخصیت اور نام کا حصہ ہی بن جاتے ہیں مثلاً 85ء کے انتخابات تک سیاسی جماعتوں میں لوٹوں کا

تصور نہیں تھا اس لئے امیدوار لوٹے کے نشان پر بھی الیکشن لڑا کرتے تھے ۔ چونکہ مشرقی پاکستان میں سیلاب بہت آتے تھے اسلئے 70ء کے الیکشن میں عوامی لیگ نے کشتی کا انتخابی نشان حاصل کیا اور مجیب الرحمن نے خود کو ایسے ملاح کے طور پر متعارف کرایا جو بنگالیوں کی کشتی کو منجدھار سے نکال کر لے جا سکتا ہے۔ لالٹین جو اب اے این پی کا ا نتخابی نشان ہے یہ 70ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کونسل کا انتخابی نشان ہوا کرتا تھا جس کے سربراہ ممتاز دولتانہ تھے لالٹین کا نشان اس وقت سے زیادہ مقبول ہوا جب صدارتی الیکشن میں ایوب خان کو ”پھول“ اور محترمہ فاطمہ جناح کو ”لالٹین“ کا نشان الاٹ ہوا۔ کبھی لالٹین ہمارے معاشرے میں روشنی اور امید کی علامت ہوا کرتا تھا اب تو وہ کلچر ہی نہیں رہا۔ میری جانب سے تاسف کا اظہار کرنے پر چاچا پھتو کے دل کے پھپھولے جل اٹھے اور کہنے لگا‘ د ل پہ لینے کی کوئی ضرورت نہیں‘ ریلوے میں اب بھی لالٹینوں کا کلچر باقی ہے سگنلز پر لالٹین ہی جلائے جاتے ہیں اور اگر اس مرتبہ پھر اے این پی کو ووٹ دیا تو پورے ملک میں لالٹینوں کا دور واپس آ جائیگا گھبرائیں نہیں۔ اے این پی واقعی اس انتخابی نشان کی حقدار ہے۔کیونکہ وہ ملک کو لالٹینوں کے دور میں واپس لے جانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔77ء کے انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی طرف سے بہت بڑی چال چلی کہ قومی اتحاد کو ہل کا نشان دے دیا جو اس اتحاد میں شامل 9 جماعتوں میں سے کسی ایک سے بھی مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ لیکن پی این اے کے قائدین نے اسے کسان دوست اوزار کے طور پر متعارف کرایا اور ہل نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ دیئے۔ جلسوں میں نعرے لگا کرتے تھے ”ہل“ نے مچادی ہلچل۔ پھر85 کے انتخابات میں تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا اور ضیاء الحق نے پیپلز پارٹی کو مٹانے کیلئے ”تلوار“کے انتخابی نشان پر پابندی لگادی جس پر پیپلز پارٹی 70ء اور 77ء کے الیکشن لڑ چکی تھی۔ چونکہ بھٹو کانام بھی ذوالفقار تھا اس لئے تلوار کا انتخابی نشان بہت مطابقت رکھتا تھا جیالے اس تلوار کو علی اور حسین کی تلوار سے تعبیر کرتے تھے ۔ بھٹو جذباتی انداز میں کہتے تھے کہ یہ تلوار جاگیرداروں کی گردنوں پر چلے گی‘ یہ تلوار ظالموں اور یزیدوں کی گردنیں کاٹے گی۔ اب ”ہل“ اور ”تلوار“ دونوں نشانات بحال کر دیئے گئے ہیں ”ہل“ تو اب ناپید ہو چکا دیکھئے ”تلوار“ اب کون اٹھاتا ہے جو بھی اٹھائے چلے گی تو بہر حال عوام کی گردنوں پر۔اب آتے ہیں اس سوال کی طرف کہ یہ جو شیر ہے میاں نواز شریف کا‘ یہ میاں صاحب کس چڑیا گھر سے پکڑ کر لائے تھے۔ یہ واقعی جنگل کا شیر ہے یا کسی سرکس والے سے خریدا ہے میاں صاحب نے؟
شیر 1970ء کے انتخابات میں مسلم لیگ قیوم گروپ کا انتخابی نشان تھا غالباً مسلم لیگی دھڑوں میں سب سے زیادہ سیٹیں خان عبدالقیوم خان کے شیر نے ہی جیتی تھیں۔ جمعیت علمائے پاکستان جس کی قیادت شاہ احمد نورانی کے ہاتھ میں تھی ان کو ”چابی“ کا انتخابی نشان الاٹ ہوا تھا اور وہ اسے شاہ کلید کے طور پر پیش کرتے تھے یعنی وہ چابی جس سے ہر مسئلے‘ ہر پریشانی کا تالا کھل جائے۔ انتخابی مہم کے دوران جے یو پی نے ایک اور نادر خیال کے تحت چابی کو جنت کی چابی کے طور پیش کیا یعنی چابی پر مہر لگائیں اور سیدھے جنت میں جائیں۔ جے یو آئی ہزاروی گروپ جس کی قیادت مولانا فضل الرحمن کے والد مفتی محمود کے ہاتھ میں تھی انہیں 70ء کے الیکشن میں کھجور کا انتخابی نشان ملا۔ چونکہ سعودی عرب سے آنے والی کھجوروں کو مقدس سمجھا جاتا تھا اور کھجور کے درخت وہاں بہت ہوتے ہیں لہذا جے یو آئی نے کھجور کے پودے کو مکہ اور مدینہ کے ٹریڈ مارک کے طور پر استعمال کیا۔ میں نے ازراہ تفنن چاچا پھتو سے استفسار کیا‘ ویسے چاچا جی اگر آپ الیکشن کمشنر ہوں اور آپ نے سیاسی جماعتوں کو نشانات الاٹ کرنے ہوں تو کیا کیا نشانات کس کس کو الاٹ دینگے؟چاچا پھتو کا جواب ملاحظہ فرمائیں ”میرا خیال ہے کہ 70ء کے الیکشن میں جو پوزیشن کنونشن لیگ کی تھی وہی مسلم لیگ ق کی ہے لہٰذا سائیکل کے انتخابی نشان پر چوہدری شجاعت کا ہی حق بنتا ہے البتہ اس سائیکل کو پنکچر کر دیا جائے یا پھر وہ چھوٹی تین پہیوں والی سائیکل جو بچوں کو دی جاتی ہے وہ الاٹ کر دی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ ایم کیو ایم کو بھی پتنگ کا انتخابی نشان دینے میں کوئی حرج نہیں ہے کیوں کہ دہری شہریت‘ نئی حلقہ بندیوں اور پیپلز پارٹی سے کشیدہ تعلقات کے تناظر میں ایم کیو ایم کی حالت بھی کٹی پتنگ جیسی ہوگئی ہے۔ مسلم لیگ ن نے انتخابی نشانات میں سے بلی کو نکلوا کر کوئی اچھا کام نہیں کیا کیونکہ بلی بہرحال شیر کی خالہ ہے۔ پیپلز پارٹی کو تیر دیں یا تلوار ایک ہی بات ہے ویسے جس طرح ذوالفقار کی مناسبت سے تلوار کا انتخابی نشان دیا گیا تھا ایسے ہی اب زرداری کی مناسبت سے زرد- آری کا نشان دیا جانا چاہئے جس نے سب کو کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ اب چاچا پھتو سے میرا اگلا سوال یہ تھا کہ اگر مختلف سیاستدان آزاد حیثیت میں کھڑے ہوں تو انہیں کیا کیا انتخابی نشان دیئے جانے چاہئیں؟ چاچا پھتو کی رائے میں راجہ پرویز اشرف کو بلب کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑنا چاہئے‘ راجہ ریاض کو دیگ کا نشان ملنا چاہئے ‘امیر مقام کو ان کی اپنی تصویر ہی انتخابی نشان کے طور پر الاٹ کر دی جائے تاکہ لوگ پہچان لیں کہ سب سے بڑے منہ والی تصویر پر ٹھپہ لگانا ہے۔ کشمالہ طارق کو لپ اسٹک الاٹ کردی جائے‘ رانا ثناء ا للہ مونچھوں کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑیں‘ ڈاکٹر قدیر کو غوری میزائل کا انتخابی نشان دیا جائے‘ آپا فردوس عاشق اعوان کو سلطان راہی کا گنڈاسا دے دیا جائے‘ قمرزمان کائرہ کو لالہ موسیٰ کا سفوف منجن الاٹ ہوجائے‘ شیخ رشید کو سگار‘ مرشد پاک سید یوسف رضا گیلانی کو خط‘ الطاف حسین کو ٹیلی فون‘ شہباز شریف کو لیپ ٹاپ یا پیلی ٹیکسی اور رحمن ملک کو موبائل فون کا نشان الاٹ کر دیا جائے تو پہچاننے میں آسانی ہوگی۔
انتخابات کا اعلان ہونے دیں پھر دیکھئے کہ عوام کی بسوں میں معجونِ انقلاب‘ تبدیلی کا منجن ‘ سفوفِ احتساب‘ اسلام کا شربت فولاد‘ گڈ گورننس کی پھکی اور قومی مفاد کی گولیاں بیچنے والے کیسے کیسے ٹریڈ مارک لے کر زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں