آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 20؍ ذوالحجہ 1440ھ 22؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ میں گرمی کی لہر،شدت کے سبب اوقات کار میں رعایت کامطالبہ

لندن (پی اے) ٹریڈ یونین کانگریس نے آجرین سے مطالبہ کیا ہے کہ گرمی کی شدت کے دوران ملازمین کے اوقات کار میں کمی کردیں اور لباس کی پابندی میں بھی رعایت دیں، محکمہ موسمیات کے مطابق برطانیہ میں درجہ حرارت 35درجہ سینٹی گریڈ تک رہنے کی پیش گوئی ہے۔ ٹی یو سی کے جنرل سیکرٹری فرانسس او گریڈی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مالکان اور ا داروں کے سربراہوں کا اپنا مفاد اسی میں ہے کہ وہ ملازمین کو ٹھنڈا اور آرام دہ ماحول فراہم کریں۔ انھوں نے کہا کہ ٹی یوسی چاہتی ہے کہ لوگ مختلف اوقات میں ملازمت کیلئے سفر کرسکیں اور زیادہ آرام دہ لباس زیب تن کرسکیں۔ انھوں نے کہا کہ سٹاف کو بعض اوقات وقفہ دیا جانا چاہئے اور انھیں ٹھنڈے مشروبات دستیاب ہوں۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ ہم میں سے بہت لوگ سورج اور دھوپ دیکھنا پسند کرتے ہیں لیکن بھٹی نما دفاتر اور فیکٹری میں کام کرنا آسان نہیں ہے۔ کوئی بھی شخص اپنی حاضری لگانے کیلئے گرمی کی تکلیف اٹھانے کو تیار نہیں ہوگا، اداروں کے سربراہوں کو گرمی کی شدت کم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ جو ورکرز لباس تبدیل کر کے ہلکا پھلگا لباس استعمال نہیں کرسکتے اور جو لوگ ایسے دفاتر میں کام کرتے ہیں، جہاں ایئر کنڈیشننگ، پنکھے یا پانی دستیاب نہیں ہے، وہ تھک رہے ہیں اور ان میں تخلیقی

صلاحیتوں کا فقدان ہو رہا ہے۔ برطانیہ میں سخت گرمی میں کام کرنے کے حوالے سے کوئی قانون نہیں ہے لیکن ٹی یو سی اس کو تبدیل کرنا چاہتی ہے، وہ چاہتی ہے کہ جو لوگ سخت کام کرتے ہیں، ان کیلئے دفتر یا فیکٹری کے اندر کا ٹمپریچر 30یا 27 مقرر کیا جائے اور جب درجہ حرارت 24 درجہ سینٹی گریڈ سے تجاوز کرے تو آجرین ٹھنڈک کے لئے اقدامات کے پابند ہوں۔ ایچ اینڈ ایم گروپ کی بیہیوریل سائیکولوجسٹ پروفیسر کیرولن مائیر کا کہنا ہے کہ ویسٹ ٹاپس اور چست لباس پروگریسو صنعتوں مثلاً ٹیکنالوجی کی انڈسٹریز کیلئے اچھا ہو سکتا ہے لیکن روایتی مالیاتی اداروں کیلئے یہ زیادہ مناسب نہیں ہے۔

یورپ سے سے مزید