آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 20؍ ذوالحجہ 1440ھ 22؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پیرس(آئی این پی ) فرانسیسی موجد نے حال ہی میں اپنی ایک ایجاد کا عوامی مظاہرہ کیا ہے جس پر وہ کئی برسوں سے کام کررہے تھے اسے جدید عہد کا اڑن قالین قرار دیا جاسکتا ہے ۔ جیٹ پاور سے اڑنے والا یہ تختہ 140کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے اڑان بھرسکتا ہے 40سالہ فرینکی زپاٹا پیدائشی کلر بلائنڈہیں اور اسی بنا پر ان کی پائلٹ بننے کی شدید خواہش پوری نہ ہوسکی یہاں تک کہ انہیں ہیلی کاپٹر کا لائسنس بھی نہ مل سکا لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری اور پہلے پانی کی بوچھاڑ سے سمندر پر اڑنے والا نظام ہائیڈروجیٹ بنایا ۔ اس کے بعد انہوں نے اس میں مزید جدت پیدا کی اور آخر کار اپنی حیرت انگیز ایجاد بنائی ہے جس کا پورا نام زپاٹا فلائی بورڈ ایئر رکھا گیا ہے بقول زپاٹا یہ ایک مشکل کام ہے۔ آپ پورے جسم کے ساتھ اڑتے ہیں یہاں تک کہ ہاتھوں پر ہوا کی شدت محسوس ہوتی ہے۔ ٹانگوں پر دباؤ اور شدید درد محسوس ہوتا ہے فرینک زپاٹا نے کہاکہ گزشتہ دنوں انہوں فرانس کے قومی دن کے موقع پر جیٹ تختے کا عوامی مظاہرہ کیا ہے۔ فی الحال وہ 500میٹر کی بلندی پر اڑے اور 140فی گھنٹے کی رفتار سے پرواز کی جسے دیکھ کا دنیا حیران رہ گئی ہے تاہم تختہ اس سے بھی زیادہ بلندی پر جا سکتا ہے۔ اگلے مرحلے میں وہ انگلش چینل اڑ کر عبور کرنا چاہتے ہیں۔زپاٹا کے نزدیک ان کی ایجاد آپ کو اڑنے

کی آزادی دیتی ہے۔ انہوں نے اس کا مظاہرہ ایریزونا کے ریگستان میں بھی کیا ہےاڑن تختے میں پانچ چھوٹے جیٹ انجن لگے ہیں جو اسے آگے بڑھاتے ہیں اور پورا نظام انسانی جسم کی حرکات و سکنات سے کنٹرول ہوتا ہے۔

یورپ سے سے مزید