آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍ ذوالحجہ 1440ھ24؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت کشمیربڑی صفائی سے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر کھا گیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کا تبصرہ’’جو آج دو قومی نظریہ کی مخالفت کر رہے ہیںآنے والی نسل اس کو بھگتے گی ،وہی ہوا ہم مسئلہ کشمیر چلا تے چلاتے سکتے میں آگئے ۔ہم امریکی صدر کی کشمیر پر ثالثی نہ سمجھ سکے نہ بھارت کی تر دید اور پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ترجمان کا اصرارکہ بھارت نےخود ثالثی کی درخواست کی ۔ نہ اقوام متحدہ کی طرف سے کوئی خاص بیان نہ مسلمانوںکی تنظیم او آئی سی کی طرف سے سخت مذمت ،اب اٹوٹ انگ کی رٹ بھی ختم اب ہندو اور بھارتی فوج کے رحم و کرم پر کشمیری مسلمان ظلم سہنے کے لئے تنہا رہ گئے ہیں ۔ اب ہر کارروائی کو بھارت کا اندرونی معاملہ کہہ کر سب کو شٹ اپ کال دے دی جائے گی ۔ہمارے وزیر اعظم عمران خان اب یہاں بھی عجلت میں فیصلے کر رہے ہیں ۔انہیں چاہئے تھا کہ فوری طور پر اقوام متحدہ سے رجوع کرتے اور اپنے سفارتی گھوڑے دوڑاتے اور دوستوں سے مشورہ کرتے ۔ یہ تو اچھا کیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے قرارداد مذمت پیش کرکے قوم کو جگا دیا ۔بھارت کو ہماری تجارت سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہمیں ضرور پڑے گا ،بھارت کوہوائی راستوں کی بندش سے بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑتا البتہ ہمارے کرائے بڑھ گئے ہیں اور وقت کا ضیاع بھی ہے۔ ہم سی پیک پر بہت اچھل رہے تھے جس سے سب سے بڑا نقصان یو اے ای کو پہنچنے کا امکان تھا اس نے اس کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دے دیااور مشورہ دیا تینوں فریق مل بیٹھ کر مسئلے کو حل کریں۔ اس کی دیکھا دیکھی دیگر خلیجی ممالک بھی یہی سمجھیں گے کہ یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔اب آگے کیا کرنا ہے سفارتی عملہ واپس بلانے اور ان کا سفیر واپس بھجوانے سے ہم اور دور ہو گئے ہیں۔آج اس مسئلہ کے بانی شیخ عبداللہ کی روح ضرور کانپ رہی ہوگی کہ ہم نے کیوں بھارت سے الحاق کیا تھا ؟

سکھوں کے تارا سنگھ کی روح بھی تڑپی ہوگی کہ ہم نے قائد اعظم کا خالصتان بنانے کی تجویز کو کیوں نہیں سمجھا اور آج بھی بھارت میں اقلیت بن کر رہ رہے ہیں ۔71سال بعد یہ 25کروڑ مسلمان کس کی چھت کے نیچے پناہ لیں گے۔ آج وہ تمام مشکوک بن کر رہیں گے۔ بدقسمتی سے 9/11کے بعد مسلمان کا نام آتے ہی اسےدہشتگرد سمجھاجاتا ہے اگر کوئی غیر مسلم دن دہاڑے مسلمانوں کا قتل عام کرتا ہے تو وہ نفسیاتی مریض ٹھہرا یا جاتا ہے ۔نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملہ آور کو آج تک دہشت گرد نہیں قرار دیا گیا اور وہ صرف نفسیاتی مجرم کے طور پر جیل میں قید ہے اور اب خاموشی چھا چکی ہے۔امریکہ میں حالیہ قتل عام میں اسپینش باشندوں کے قاتل کو نفسیاتی مریض بتایا جا رہا ہے۔پوری دنیا کے اس روئیے کو دیکھتے ہوئے بی جے پی کی مودی سرکار نے فائدہ اٹھاتے ہوئے کشمیر میں واردات کر کے اپنی جماعت کو اور مضبوط بنادیا ہے ۔مودی سر کار نے پچھلے الیکشن میں جو قوم سے وعدہ کیا تھا وہ پورا کر دکھایا ۔ ہندوئوں کو اب کشمیر میں جائیدادیں خریدنے کی کھلی چھٹی ہوگی ۔ دور دورسے ہندولاکر اسرائیلی طرزپربستیاں آباد کی جائیں گی ، پھر فوج اور پولیس سے کنٹرول کرنے کے بجائے ہندو مسلم فسادات کی آڑ میں کشمیریوں کا گھیر ا ئو کیا جائے گا ۔ بھارت نے یہ سوچ کر بڑی غلطی کی کہ چونکہ اس وقت پاکستان سخت اقتصادی بحران کا شکار ہے تو وہ جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا ایسی صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے کشمیر پر مہم جوئی سے بڑا قدم اٹھایا ہے جب پوری دنیا کے پر امن لوگ کشمیری عوام کے لئے امن کے خواب تعبیر میں تبدیل ہونے کا انتظار کر رہے تھے ۔کشمیر پر بھی ایک جنگ ہونی ہے اور ضرور ہوگی وہ جنگ دور جدید کی مہا بھارت جنگ کہلا ئے گی کیونکہ یہ جنگ بھارت اور پاکستان کے درمیان نہیں بلکہ یہ پوری پر امن دنیا اور بھارت کے درمیان ہوگی اور یہ جنگ دنیا کی پہلی پر امن جنگ ہوگی جس میں میزائل اور جیٹ استعمال نہیں ہونگے بلکہ دنیا کی پہلی اور نا قابل فراموش سائبرعالمی جنگ ہوگی ۔کشمیریوں پر جنگ مسلط کر نے والے بھارت کو جلد ہی دنیا کی پر امن اورپر اثر سائبر ورلڈ وار کا سامنا کرنا پڑے گا ۔بھارتی خفیہ ایجنسیـ’’را‘‘کے سابق سربراہ ایس دلت نے بھی بھارتی آئین کی شق نمبر370کے خاتمے کو غلط اقدام قرار دیاہے بلکہ ان کی نظر میں مقبوضہ جموں کشمیر کی تقسیم مودی حکومت کا بد ترین فیصلہ ہے اس کے بعد کشمیری نوجوان فدائی حملوں میں تیزی لائیں گے جس کے لئے وہ پوری طرح تیار ہیں ۔