آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ16؍ربیع الثانی1441ھ 14؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

انڈیا نے جموں و کشمیر کی سابقہ شاہی ریاست کے لوگوں کا اعتماد مجروح کردیا

لندن (جنگ نیوز) پیپلز نیشنل پارٹی یوکے (پی این پی یوکے) نے کہا ہے کہ بھارت نے جموں و کشمیر کی سابقہ شاہی ریاست کے لوگوں کے اعتماد کو دھوکہ دیا ہے۔ اس امر کا اظہار ایک یادداشت میں کیا گیا ہے جو گزشتہ روز یوکے پی این پی کی جانب سے بھارتی ہائی کمیشن لندن کے باہر ایک مظاہرہ کے بعد پیش کی گئی۔ یادداشت میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کے حکمران مہاراجہ ہری سنگھ اور اس وقت کی ان کے نظریات پر یقین رکھنے والی سیاسی قیادت شیخ عبداللہ کو یقین تھا کہ ایک جمہوری انڈیا ہماری زندگی، آزادی، عزت، پراپرٹی اور ریاست کو تحفظ فراہم کرے گا۔ اسی یقین، باہمی اعتماد اور مشترکہ جمہوری اقدار کے باعث ہمیں اعتماد تھا کہ ہماری ریاست اور حقوق کو آرٹیکلز 370 اور 35Aکے تحت آئینی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی تھی کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہماری آزادی اور یقینی حقوق غصب کر لئے گئے مگر یہ بات یاد رہے اور جموں و کشمیر کے جمہوری اور تعلیم یافتہ لوگوں کو اس بات پر یقین ہے کہ جموں و کشمیر میں بھارت کی موجودگی ہمارے حکمران کے دستخط اور 13 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949کو منظور ہونے والی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔ وزیراعظم مودی نے جو کچھ کیا ہے، وہ ہماری نظر میں غیر قانونی، غیر آئینی اور تمام تر جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ وزیراعظم

مودی نے دائیں بازو کے حلیفوں اور حامیوں کو تو خوش کر دیا ہے مگرپوری دنیا میں بھارت کا ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہونے کا امیج تباہ ہوگیا ہے۔ نہ صرف ہم بلکہ بھارت کی تمام شہری اور جمہوری قوتیں، بشمول کانگریسی رہنما اور لبرل مفکرین بھی اس کی مذمت کر رہے ہیں۔ اپنے اس اقدام سے وزیراعظم مودی نے پاکستان اور پاکستان کے حامیوں کے اس دعویٰ کو سچ ثابت کر دیا ہے کہ انڈیا ہمیں دھوکہ دے گا اور ہمارے لوگ پچھتائیں گے۔ یادداشت میں کہا گیا ہے کہ یہ قدم ہمارے بنیادی حقوق، ہماری ریاست، ہماری شناخت، ہماری اقدار اور ہمارے مستقبل پر براہ راست حملہ ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ ایک سامراجی کارروائی ہے اور صرف جموں وکشمیر کے لوگوں کے لئے ہی نہیں بلکہ جمہوری اور سیکولر انڈیا کے مفادات کے خلاف بھی ہے۔ پیپلز نیشنل پارٹی یوکے نے یادداشت میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اس فیصلہ کے نتیجے میں مزید خونریزی ہوگی، مزید ظلم و ستم، مزید تشدد اور خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہوگا۔

یورپ سے سے مزید