آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 24؍ذوالحجہ 1440ھ 26؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر: روبینہ خان۔۔ ۔ مانچسٹر
کشمیر کی وادی سکوت میں ڈوبی ہے ۔ نظارے جاگ رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ کب وادی پر سے کرفیو کا سایہ اور اثر ختم ہوگا ۔ انٹرنیٹ سروس بند ہے۔ وادی نے اس سے پہلے ایسا شٹ ڈاؤن کبھی نہیں دیکھا ۔ سرینگر جو آزادی کے متوالوں کا گڑھ ہے، مکمل سیل بند ہے۔ اور پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔ بظاہر نظر والی خاموشی آنے والےطوفان کا پیش خیمہ ہے! گھروں میں بند لوگ کیا سوچ رہے ہیں!! لیڈر جیل میں بند ہیں یا ہاؤس اریسٹ ہیں۔انڈین پارلیمنٹ نے پیر کو آئین کی شق 370 ختم کرکے کشمیریوں کا اسپیشل اسٹیٹس ختم کیا اور اس کے نتیجے میں 35 اے خود بخود ختم ہو گئی جس کے تحت نوکریاں اور لین دین کے معاملات میں کشمیریوں کو دوسروں پر فوقیت تھی اب کشمیریوں کے حقوق ختم ہوگئے ہیں اور وہ انڈیا کا حصہ ہیں۔ جبکہ ستر سال سے کشمیری اپنے خصوصی حقوق سے بڑھ کر آزادی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس آرٹیکل کو سکریپ کرکے ان کی شناخت بالکل ختم کی جاچکی ہے جبکہ وہ مکمل آزادی اور خود مختاری کے لئے جدوجہد کر رہے تھے۔کشمیری انتظامیہ کی طرف سے بتایا جارہا ہے کہ ہر طرح کے ردعمل کو فوری طور پر سختی سے نمٹا جائے گا ۔ چند دنوں میں عید الاضحی ہے۔لوگوں کو قربانی کی جازت ملے گی یا لوگ عید کے تہوار کو اپنے غم و غصے کے اظہار کے لئے استعمال کریں گے

۔بھارتی حکومت کے خلاف اپوزیشن اور ایکٹیوٹس نے انڈیا کی ٹاپ کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے ۔ کشمیر میں کرفیو ہے ۔انڈین ریڈیو کے مطابق پانچ سو لوگوں کو امن میں خلل کے خدشے کی وجہ سے گرفتار کرلیا گیا ہے ہے۔خطہ ہمالیہ کو اسٹیٹ کے درجے سے گرا کر territory کا درجہ دے دیا۔دوسری جانب پاکستانی diaspora ہے جو کشمیریوں کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتا ہے ۔برطانیہ میں برٹش پاکستانیوں میں ساٹھ ستر فیصد کا تعلق میرپور آزادکشمیر سے ہے برطانیہ میں اور دنیا بھر میں ایسی تنظیمیں موجود ہیں جو کشمیریوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہتی ہیں۔ ان تنظیموں میں کچھ حق سچ کی بات کرتی ہیں یعنی جو کشمیریوں کے لیے حق خودارادیت کی بات کرتی ہیں لیکن کچھ لوگ چاہتے ہوئے بھی، کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ محض اس لیے نہیں لگا سکتے کہ اس سے زبردستی کی بو آتی ہے۔دنیا سمجھتی ہے کہ کشمیریوں کا حق ہے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ وہ اپنے لئے کیا چاہتے ہیں انڈیا کے ساتھ ضم ہونا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔ یا پھر وہ مکمل خودمختاری چاہتے ہیں ۔آپ حیران ہوں گے اول توکشمیر کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ کشمیریوں کی بہت ہی کم تعداد ہے جو عملی طور پر کسی بھی پرامن احتجاج کے لیے گھر سے نکلتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ انٹرنیشنل میڈیا پر کشمیر ایشو حقیقی معنوں میں اجاگر نہیں ہوتا۔دوسری جانب ملکوں کے اپنے مفادات ہیں وہ اپنے گھر کو پہلے دیکھتے ہیں اور ثالثی کی بات بعد میں کرتے ہیں البتہ تاریخ گواہ ہے کہ 1947 میں تقسیم کے نتیجے کو اگر کوئی بھگت رہا ہے تو کشمیری ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 1989 سےاب تک ایک لاکھ کشمیری اور انڈین ذرائع کے مطابق پچاس ہزار کشمیری مارے جا چکے ہیں۔ بات کی جائے یوکے موجود انڈین کمیونٹی کی توان کے بارے میں تاثر ہے کہ وہ ٹاپ لیول پر نیٹ ورکنگ کرتے ہیں لیکن عام طور پر سیاسی بحث و مباحثے میں نہیں پڑتے۔ جب کہ پاکستانی ہر جگہ سیاست پر بات کرتے نظر آتے ہیں لیکن موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس کی وجہ سے انڈین کمیونٹی کا نقطہ نظر بھی سامنے آتا رہتا ہے۔جس میں لکھنے والے مودی سرکار کی تعریفیں کرتے ہیں۔ان کے خیال کے مطابق کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد کشمیر پہلے سے بہت بہتر ہوجائے گا۔ کشمیر میں کارخانے لگائے جائیں گے اور کشمیریوں کی معاشی حالت پہلے سے بہتر ہو جائے گی۔نریندر مودی نے آرٹیکل ختم کرنے کے کئی دن کے بعد اپنی خاموشی توڑی تھی لیکن ان کی تقریر کا پورا متن انڈینز کی تحریروں میں موجود تھا۔ 8اگست کو وزیراعظم نریندرمودی نے تقریر میں فلم میکرز کو دعوت دے ڈالی ہے کہ وہ کشمیر جائیں اور فلمیں شوٹ کریں ۔ایسے وقت میں جب کشمیر میں انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں انڈین گورنمنٹ اپنے ملک کے کاروبار اور فلموں کی بات کر رہے ہیں ۔کشمیری ایسے حالات میں انڈین کو کیسے اپنا خیرخواہ سمجھ سکتے ہییں۔ اغیار کی بات چھوڑیں اور مسلمان ملکوں کی بات کریں تو وہ بھی ابھی اس معاملے کو، "دیکھ رہے ہیں"۔ پاکستانی گورنمنٹ کہ رد عمل میں جہاں جان نظر آتی ہے وہاں پاکستان کے کونصلیٹ حقیقی معنوں میں پاکستانیوں کی آواز نہیں بنتے۔بیرون ملک پاکستانی اورقونصل خانوں کا تعلق مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے جو فی الحال کمزور بھی ہے اور جھول بھی دکھائی دیتے ہیں ۔پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ ملاقات میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے ایشو پر پر ثالثی کی پیشکش کی گئی تھی، اس کے فوری بعد ہی بھارتی سرکار نے اپنے ہی معاہدوں اور آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا۔انڈیا نے ایک عالمی پلیٹ فارم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیشکش کو چیلنج کیا ہے کہ اب وہ ثالثی کروائیں جبکہ اب مقبوضہ کشمیر بھارتی یونین کا حصہ ہے۔ یہ گیم ہے جو بھارت کی جانب سے کھیلی گئی ہے ۔لیکن کھیل کا پانسا پلٹنے میں دیر نہیں لگتی۔ کشمیری عوام کرفیو کے بعد باہر نکلیں گے۔ اگر انٹرنیشنل کمیونٹی کی جانب سے غیر آئینی اقدام کی شدید مذمت ہوئی تو ایک ہی راستہ رہ جائے گا اور وہی ہوگا کہ انڈین پارلیمنٹ کے اقدام کو سپریم کورٹ سے ختم کروا دیا جائے۔مودی گورنمنٹ کے اس اقدام سے مسئلہ کشمیر زیادہ ابھر کر سامنے آیا ہے۔ چین اور پاکستان میں قربت مزید بڑھ جانے کا امکان ہے ،جو امریکہ کے لیے پریشانی کا باعث بنے گا اور افغانستان میں امن بھی کھٹائی میں پڑ جائے گا۔یہ بات نہ امریکہ کے حق میں ہے اور نہ ہی ہیں ہندوستان کے حق میں۔فی الحال wait and see، والی سیچویشن ہے۔

یورپ سے سے مزید