آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 18؍محرم الحرام 1441ھ 18؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2022میں ریٹائرمنٹ تک جنرل باجوہ کاملٹری کیریئرطویل ترین ہوگا


لاہور(صابرشاہ)11نومبر کو 59سال کے ہونےوالےموجودہ پاکستانی آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کووزیراعظم عمران خان کی جانب سےمدت ملازمت میں پیرکوتین سال کی توسیع دےدی گئی ہے، 29نومبر2016کواپنےپیشروجنرل راحیل شریف کی جانب سےکمانڈ باقاعدہ اُن کےحوالے کرنےکےبعدسےاب تک انھوں نےاپنےعہدےپر 995دن تک فرائض انجام دیئے۔ جنرل باجوہ نے1978میں پاکستان آرمی میں شمولیت اختیارکی اور24اکتوبر1980کو16بلوچ رجمنٹ میں کمشنڈ حاصل کیا، اس کا مطلب ہے2022 میں ان کی مدتِ ملازمت 44سال سے زائد ہوگی یا ملکی تاریخ میں سب سے طویل ملٹری کیرئیراُن کاہوگا۔ طویل ترین اور مختصرترین ملٹری کیریئروالے پاکستان کےفوجی سربراہان: آج تک پاکستان میں جتنے بھی فوجی سربراہان آئے ہیں ان میں سے جنرل پرویز مشرف کا فوجی کیرئیرسب سے طویل یعنی 45سال 7ماہ اور 9دن تھا۔ جبکہ فیلڈ مارشل ایوب خان کا کیریئرمختصرترین 30سال 10ماہ اور24دن تھا۔ مشرف اور ایوب دونوں نے وردی میں ملک کے صدور کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ جنرل مشرف نے9 سال ایک ماہ اور 22 دن بطورآرمی چیف فرائض سرانجام دیے۔ تاہم ، جہاں تک ایک پاکستانی آرمی چیف کے طویل ترین دور کی بات ہے تو ضیاء الحق نے یکم مارچ 1976 سے 17 اگست 1988 تک اس عہدے پر فرائض سرانجام دیئےتھے، جس سے پتہ لگتا ہے کہ ان کی مدت ملازمت 12 سال 5 ماہ اور16 دن تھی۔ جنرل گل حسن کی کمانڈر انچیف کی حیثیت سے سب سے کم مدت ملازمت رہی ، انہوں نے صرف 2 ماہ اور 11 دن تک اس عہدے پر فرائض سرانجام دیئے ۔2016 میں جنرل باجوہ اپنا عہدہ سنبھالنے کے وقت ملک کے چوتھے معمر ترین آرمی چیف تھے۔ گکھڑ منڈی (گوجرانوالہ) میں پیدا ہونےوالے جنرل باجوہ کی جائے پیدائش وہی ہے جو پاکستان کے 9ویں صدر محمد رفیق تارڑ (تاریخ پیدائش2نومبر1929)تھی، انھوں نےبطورسربراہِ ریاست 20جنوری 1998سے 20جون 2001تک فرائض سرانجام دیئے۔ لہذا وہ معمر ترین آرمی چیف تھے۔ معمرترین تین آرمی چیف مندرجہ ذیل ہیں: جنرل راحیل شریف (تاریخ پیدائش16جون1956)، انھیں نومبر2013کو 57سال 5ماہ13دن کی عمر میں تعینات کیاگیا، وہ اب تک کےمعمرترین جنرل ہیں۔دوسرے معمر ترین جنرل مرزااسلم بیگ (تاریخ پیدائش 2اگست1931)تھے، جو 17اگست 1988کو 57سال 15دن کی عمر میں آرمی چیف بنے۔ وہ یکم اگست 1992تک اپنے عہدےپررہے۔ تسیرے معمر ترین آرمی چیف جنرل ٹکا خان (7جولائی 1915تا 28مارچ 2002) تھے، انھیں3مارچ 1972کو 56سال اور7ماہ کی عمرپاکستانی فوج کی سربراہی سونپی گئی۔ وہ یکم مارچ 1976تک اپنے عہدے پر قائم رہے۔ پاکستانی فوج کےکم عمر ترین سربراہان مندرجہ ذیل ہیں: پاکستان کے پہلے کمانڈرانچیف فیلڈمارشل ایوب خان کواس عہدے پر 17جنوری 1951 میں صرف 43سال، 8ماہ اور تین دن کی عمر میں تعینات کیاگیا، اس طرح وہ اس عہدے پرآنےوالےسب سےکم عمر جنرل تھے۔ 1947 کے بعد سےپاکستان کےتمام کمانڈران چیف اور آرمی سربراہان کی سروس اورکیریئرکی مختصرتفصیلات: جنرل قمر جاوید باجوہ 1972کےبعد سے 10آرمی چیف ہیں، جب کمانڈرانچیف کےعہدے کو چیف آف آرمی سٹاف کا نام دیاگیاتھا۔ ’’جنگ گروپ اورجیوٹیلی ویژن نیٹورک‘‘ کی جانب سےکی گئی تحقیق سے پتہ لگتا ہے کہ ملک کی ملٹری فورس کی بھاگ دوڑ پچھلے 72 سالوں کے دوران 16 فور اسٹار جرنیل (چھ کمانڈر انچیف اور 10 آرمی چیف) کے پاس رہی، جس سے ان کی اوسطً مدت ملازمت 4.5 برس ہوگئی۔1947 سے 1972 کے درمیان ، پاک فوج کی سربراہی کرنے والے چھ کمانڈر ان چیف جن میں ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو میں پیدا ہونے والے جنرل فرینک میسری (1893-1974) ، جنرل ڈوگلس گریسی (1894–1964) ، ایوب خان (1907-1974)، جنرل موسیٰ خان (1908-1991) ، چکوال میں پیدا ہونے والے جنرل یحییٰ خان (1917-1980) اور کوئٹہ میں پیدا ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل گل حسن (1921- 1999)شامل تھے۔ پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف فرینک میسوری ، جو ایک بینک مینیجر کے بیٹے تھے،نے 15 اگست 1947 سے 10 فروری 1948 تک یا صرف 175 دن کے لئے پاک فوج کوکمانڈکیاتھا۔ 21جنوری 1913 کو انھیں ہندوستانی فوج میں کمشنڈ ملاتھا۔ اوروہ 22 اگست 1948 تک ملازمت پررہے ، اس کا مطلب ہے کہ بطور فوجی ان کاکیریئر تقریبا 35 سال 7 ماہ اور ایک دن تھا۔ دوسرے کمانڈر انچیف ، جنرل ڈوگلس گریسی نے11 فروری 1948 سے16 جنوری 1951 تک دوسال 11 ماہ اور5دن تک فوج کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ مظفر نگر (انڈیا) میں پیدا ہونے والےگریسی کو15 ستمبر 1915 کو کمیشنڈملا، جس کا مطلب ہے کہ 29 اپریل 1951 تک ان کا فوجی کیریئر35 سال 7 ماہ اور14 دن تھا۔ اپنے پیشرو میسوری کی طرح گریسی پر بھی قائد اعظم کے سٹینڈنگ آرڈرکےباوجود کشمیرکےمحاذ پر فوجی دستے نہ بھیجنے کا الزام تھا۔ پاکستان کے تیسرے آرمی کمانڈر ایوب خان کو 1951 میں اس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ملک کا پہلا مقامی کمانڈرانچیف تعینات کیا۔ آرمی چیف کے طور پر ایوب نے 17 جنوری 1951 سے26 اکتوبر 1958 کے تک خدمات انجام دیں۔ آرمی چیف کی حیثیت سے ان کی مدت ملازمت 7 سال 9 ماہ اور 9 دن رہی۔

اہم خبریں سے مزید