• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


گھوٹکی میں ڈہرکی کے قریب گاؤں نئوں کوٹ میں انسانیت سوز واقعے نے لوگوں کے دل ہلا دیے۔

گاؤں نئوں کوٹ میں کارو کاری کے الزام میں شیر محمد نامی ایک دیہاتی پر سخت تشدد کر کے اُس کا منہ کالا کردیا جس کے بعد اسے زخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا۔

ڈہرکی پولیس نے واقعہ کی ابتدائی رپورٹ درج کر لی۔

شیر محمد کے بیٹے پر ملزمان کی جانب سے کاروکاری کا الزام لگایا گیا تھا، کاروکاری کی پنچائت کا جرمانہ نہ ماننے پر ملزمان نے حملہ کیا۔ ملزمان کاروکاری کا جرمانہ مانگتے تھے۔

جرمانہ دینے سے انکار پر اُسے تذلیل اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سندھ کے ضلع گھوٹکی کی تحصیل ڈہرکی کے ایک نواحی علاقے میں’’فتو شاہ‘‘نامی قبرستا ن واقع ہے جسے’’ کاریوں کا قبرستان‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اس میں غیرت کے نام پر قتل کیے جانے والے افراد کو بغیر تجہیز و تکفین کے دفنایا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بالائی سندھ کے علاقوں خیرپور، سکھر، شکار پور، لاڑکانہ ،جیکب آباد، گھوٹکی ،کندھ کوٹ اور کشمور کے علاقوں میں غیرت کے نام پر قتل و غارت گری اور خون خرابے کے واقعات روزانہ کا معمول بن چکے ہیں۔

تازہ ترین