آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 18؍محرم الحرام 1441ھ 18؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’اینیمل تھراپی‘ جانوروں کے ذریعے علاج، مگر کیسے؟

انسان کو معاشرتی حیوان کہا جاتا ہے اور اسے حیوانوں کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھنے کا حکم بھی دیا گیاہے۔ انسانوں نے حیوانوں سے کئی چیزیں سیکھیں جیسے شکار کرنا، ہوا میں اڑنا یا پانی میں تیرنا وغیرہ۔ صدیوں سے انسان اپنی بقا کا انحصار اور زندگی کو چلانے کے طور طریقوں کا انتظام جانوروں پر ہی کرتا آیاہے ، اسی لیے آج بھی قدرت کی اس صناعی کے ذریعے ہم کئی بیماریوں کا علاج ڈھونڈرہے ہیں اور کامیاب بھی ہورہے ہیں۔

ہمارے یہاں بیشتر گھروں میں پالتو جانور ہوتے ہیں، جن میں معصوم سی بلیاں، موج مستی کرتے پپی، اٹکھیلیاں کرتی چھوٹی چھوٹی بکریاں ، دانہ چگتی مرغیاں یا پھر کبوتر اور طوطے شامل ہیں۔ انھیں دیکھ کر طبیعت خوش بھی ہوتی ہے اور کچھ لمحوں کیلئے ہم اپنی پریشانی بھول جاتے ہیں۔ طبی اور نفسیاتی ماہرین کے مطابق پالتو جانور نفسیاتی علاج میں اہم کردار اداکرسکتے ہیں اور یہ نفسیاتی علاج بہت حد تک قابلِ عمل ہوسکتا ہے۔

برطانیہ کی ایک سماجی تنظیم ’ہیک بیک‘ اینیمل تھراپی کو غیر طبی طریقہ علا ج کے طورپر رائج کروانے کی کوششو ں میں مصروف ہے تاکہ علاج کے ایک آسان طریقہ کار کے ساتھ ساتھ یہ کسی کی جیب پر بھاری بھی نہ پڑے۔ اس تنظیم کی بانی اور ماہر نفسیات انیتا مورس، الّوئوں کے ساتھ ٹاکنگ تھراپی بھی استعمال کرتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ انزائٹی اور آٹزم جیسے مسائل کا توڑ ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت کینسر سے متاثرہ 12سالہ الیگزینڈر گوڈون کیلئے ایک الّو کے ساتھ وقت گزارنا کارآمد ثابت ہوا۔ آٹھ سال کی عمر میں  نامعلوم بیماری کے باعث الیگزینڈر کا ایک سال سے زائد زندہ رہنا ناممکن تھا، تاہم بہت ساری کیمو تھراپی، ریڈیو تھراپی اور ہڈی کی پیوند کاری کے بعد گوڈون کے مرض کی تشخیص بہتر ہورہی ہے اور وہ ہیک بیک تنظیم کے ذریعے تین سال سے Owl Therapyکا سہارا لے رہے ہیں۔

اکثر آ پ نے بھی دیکھا ہو گا کہ ہم طوطے ، چڑیاں، کبوتر وغیرہ پالتے ہیں، ان سے باتیں کرتے ہیں، شام کے وقت کبوتروں کی ٹکڑیاں اڑاتے ہیں اور پھر انہیں چھت پر اترنے کی ترغیب دیتے ہیں یا پھر پرندوں اور جانوروں کو ہاتھ میں لیتے ہیں تو ہمیں یہ تمام امور انجام دینے میں اچھا محسوس ہوتا ہے۔

بہت سے اسکولوں اکثر فیلڈ ٹرپ پر بچوں کو چڑیا گھر لے جاتے ہیں، جہاں وہ بطخوں کو پانی میں تیرتے ہوئے، بندروں کو پنجرے میں اٹکھیلیاں کرتے اور دیگر جانوروں کی حرکات دیکھتے ہوئے بہت محظوظ ہوتے ہیں، وہ قدرتی ماحول سے لطف اٹھاتے ہیں، جس سے ان کی ذہنی صحت پر اچھا اثر پڑتاہے۔اس کے علاوہ یوگا، جو ذہنی سکون اور اعصاب کو آرام پہنچانے کیلئے کیا جاتاہے، کی مشقوں میں بکری کے بچوں کو بھی شامل کیا جانے لگا ہے۔ لاس اینجلس، امریکا میں ’’گوٹ یوگا‘‘ نامی کلب میں یوگا سیکھنے والے افراد ہاتھ جوڑنے کے انداز میں بیٹھتے ہیں اور یوگا سیکھنے کے دوران دماغی، جسمانی اور روحانی سکون حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ درجن کے قریب ننھی ننھی بکریوںکی اٹکھیلیوں سے بھی محظوظ ہوتے ہیں۔

اینیمل تھراپی کی بات کی جائے تو طویل عرصے سے جانوروں کو انسانی صحت، خاص طور پر ذہنی اور نفسیاتی مسائل کے حل کیلئے استعمال کیا جاتارہاہے اور ان سے بہت سے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں، مثلاً پالتو جانور تنہائی دور کرنے اور درد کی شدّت کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کچھ ہسپتالوں اور نگہداشت کے اداروں میں پالتو جانور بھی نظر آتے ہیں۔

مانچسٹر یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق کی سربراہ ہیلن بروکس کے مطابق پالتو جانوروں کا اپنے مالک کے ساتھ سماجی تعلق قائم ہو جاتاہے اور یہ دونوں کے ایک ساتھ وقت گزارنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اگر کسی انسان کو نفسیاتی مسائل ہوتے ہیں تو عموماً وہ اپنے پالتو جانور کے ساتھ زیادہ وقت صرف کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ٹھیک ہے پالتو جانور انسان کی نفسیاتی تھراپی کے کام آسکتے ہیں لیکن کسی بھی انسان کی شدید ذہنی بیماری کیلئے جانور کیسے مفید ثابت ہوسکتے ہیں ، اس سلسلے میں مزید اور گہری تحقیق کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر ہیلن کی تحقیق کہتی ہیں کہ پالتو جانور اپنے مالک کو ہر وقت مصروف اور اس کی توجہ کو مسلسل بٹا سکتا ہے۔ وہ ایک مخلص دوست کی طرح اپنے مالک کا غم، غصے اور پریشانی میں ساتھ دے کر ا س کے ذہن میں آنے والے پریشان کن، یہاں تک کہ خودکشی کرنے کے خیالات سے بھی روک سکتاہے۔ پالتو جانور ان لوگوں کیلئے انتہائی مددگار ثابت ہوتے ہیں، جن کے انسانی رابطے محدود ہوتے ہیں یا وہ زیادہ تروقت گھر پر گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ڈاکٹر ہیلن نے جانوروں کی افادیت سے متعلق ایک تحقیق میں 54 ایسے شرکاء سے سولات کیے جو اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔ ان میں سے ایک شخص کا کہنا تھا کہ میں اپنے کتے پر لوگوں سے زیادہ اعتماد کرتا ہوں، وہ میرا ہم راز ہے اور میں  ایسا کرنے سے لوگوں کے فالتو سوالات کے جوابات دینے سے بچ جاتا ہوں۔ اسی طرح ایک خاتون نے اپنا تجربہ بتایا کہ میری پالتو بلی جانتی ہے کہ اسے کب میری گود میں بیٹھنا ہے اورکب نہیں، یعنی اسے ہدایات دینے کیلئے مجھے اپنا وقت ضائع نہیں کرنا پڑتا، اسے میری ہر چیز کا خیال رہتا ہے۔ اس تحقیق میں موجود 60 فیصد شرکاء کو اپنے جانور سب سے زیادہ عزیز تھے، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ ذہنی طور پر پریشان اور نفسیاتی بیماری میں مبتلا لوگوں کے علاج کیلئے دوائوں پر انحصار کرنے بجائے پالتو جانوروں جیسا غیر طبی طریقہ علاج اپنا کر انہیں نارمل زندگی گزارنے کی جانب راغب کیا جاسکتا ہے۔

صحت سے مزید