آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ20؍محرم الحرام 1441ھ 20؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’حالات بہتر ہوئے ہیں، ثمرات عام آدمی تک پہنچنا چاہئیں‘‘ وزیراعظم کے مشیر خزانہ اور ان کی اقتصادی حکمت کاروں کی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے یہ الفاظ روز افزوں مہنگائی اور ہولناک رفتار سے بڑھتی بے روزگاری سے نیم جاں کروڑوں پاکستانیوں کیلئے امید کی کرن ہیں۔ مشیرِ خزانہ نے یہ بات گزشتہ روز حکومتی اقتصادی ٹیم کی وزیراعظم سے طویل ملاقات کے بعد میڈیا کو اس کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہی۔ کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی کا اصل پیمانہ فی الحقیقت یہی ہے کہ اس کے اثرات عام آدمی تک کس قدر پہنچ رہے ہیں۔ کسی معاشرے میں دولت کی مجموعی مقدار کتنی ہی بڑھ جائے اگر وہ چند ہاتھوں میں مرتکز رہے تو یہ معاشرے کی نہیں چند افراد کی ترقی ہوتی ہے، جس کے باعث غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ تقسیمِ دولت کا یہ فرق سماج میں بلند اور پست طبقوں کو جنم دیتا اور ان کے درمیان فاصلوں کا سبب بنتا ہے جسکے منفی اثرات بالآخر پورے معاشرے کی تباہی پر منتج ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے دنیا پر عشروں سے جس سرمایہ دارانہ نظام کی حکمرانی ہے، دولت کی یہ غیر منصفانہ تقسیم اس کے خمیر میں شامل ہے۔ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ نے ستر سال پہلے اسٹیٹ بینک کے شعبہ تحقیق کے افتتاح کے موقع پر مغربی سرمایہ

دارانہ نظام کی تباہ کاریوں کی بھرپور نشاندہی کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ پاکستانی تحقیق کار اس استحصالی معاشی نظام کے مقابلے میں اسلام کا عادلانہ نظام معیشت اس ملک میں رائج کر کے پوری دنیا کے لئے ایک قابلِ تقلید مثال قائم کریں گے، تاہم سات دہائیاں گزر جانے کے باوجود اس سمت میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ اس پسِ منظر میں ریاستِ مدینہ کے اصولوں پر نظامِ مملکت استوار کرنے کے عزم کے ساتھ مسندِ اقتدار پر فائز ہونے والے وزیراعظم عمران خان کی اقتصادی ٹیم کے سربراہ کا معاشی بہتری کے اثرات عام آدمی تک منتقل کرنے کی ضرورت کا اظہار یقیناً محض زبانی جمع خرچ نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کے پیچھے ٹھوس منصوبہ بندی بھی ضروری ہے اور مشیرِ خزانہ نے اپنی پریس بریفنگ میں اس کی کچھ تفصیلات پیش بھی کی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ ترقیاتی پروگرام کے لئے مختص ساڑھے نو سو ارب روپے کے منصوبے مکمل ہونے سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے جبکہ کم آمدنی والے طبقوں کی حالت بہتر بنانے خصوصاً صحت کارڈ کے لئے 192ارب روپے اور 262ارب روپے عام آدمی کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لئے سبسڈی کی مد میں رکھے گئے ہیں۔ مشیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ ’’اسٹاک مارکیٹ اور برآمدات میں اضافہ اور توازنِ ادائیگی میں بہتری امید افزا علامات ہیں۔ جولائی کے اعداد و شمار گزشتہ ماہ کے مقابلے میں بہت اچھے ہیں۔ یہ تمام چیزیں ہماری حوصلہ افزائی کر رہی ہیں تاکہ عوام تک تیزی سے ان کے فوائد پہنچائے جائیں‘‘۔ تاہم قومی معیشت پر روپے کی قدر میں کمی اور شرح سود میں اضافے جیسے اقدامات کے جو منفی ثرات نظر آرہے ہیں وہ بظاہر سخت تشویشناک ہیں۔ ایک تازہ رپورٹ میں ملک کی صرف ایک صنعت یعنی کار سازی پر ان اقدامات کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ گاڑیوں کی فروخت آدھی رہ گئی ہے، روزگار کے اٹھارہ لاکھ مواقع ختم ہو گئے ہیں اور حکومتی آمدنی میں 225ارب روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔ سرکاری یوٹیلٹی اسٹورز تک پر گھی، تیل اور چائے جیسی بنیادی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ مسلسل جاری ہے۔ اس بنا پر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ غیر منصفانہ نظامِ معیشت سے نجات کے لئے زیادہ مؤثر اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ کام مروجہ سنگدلانہ نظام سرمایہ داری کے اندر رہتے ہوئے ممکن نہیں، ریاستِ مدینہ کی تشکیل کا عزم رکھنے والی حکومت کو قائداعظمؒ کی ہدایت کے مطابق اسلامی اصولوں کی روشنی میں غیر منصفانہ ارتکازِ دولت کے سدباب اور وسائل کی عادلانہ تقسیم کے ضامن معاشی نظام کی جانب پیش قدمی کرنا ہوگی، اس کے بغیر ریاست مدینہ کے خواب کا حقیقت بننا ممکن نہیں۔