آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ذیقعد 1441ھ 10؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پانی: جنگی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت!

پاکستان کو اس وقت بہت سے سنگین مسائل کا سامنا ہے، ان میں سے ایک سنگین مسئلہ پانی کی بڑھتی ہوئی قلت ہے۔ ملک کی بڑی آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ زراعت اور صنعتوں کے لئے پانی کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لیکن ہم پانی کی مسلسل کمی کا شکار ہیں۔ اس صورتحال کے پاکستان کی معیشت، سیاست اور سماج پر انتہائی پیچیدہ اور خطرناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس کے تدارک کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں پانی کے وسائل کی کمی نہیں ہے لیکن منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ خاص طور پر پانی کو ذخیرہ کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ جب بھی پانی کے ذخائر یا ڈیمز تعمیر کرنے کی بات کی جاتی ہے تو اس پر کچھ سیاسی گروہ اور ماحولیاتی تحفظ کے لئے کام کرنے والے کچھ نام نہاد ادارے تنازعات کھڑے کر دیتے ہیں حالانکہ پوری دنیا میں پانی کو ذخیرہ کرنے اور پانی کے بہتر استعمال کے لئے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے بلکہ دنیا اس میں بہت آگے جا رہی ہے کیونکہ اس میں ہی دنیا نے ترقی کا راز پا لیا ہے۔ دنیا کو یہ بھی پتا چل گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی پانی کی ضرورتوں کو بہتر انتظام کے ساتھ اگر پورا نہیں کیا گیا تو نہ صرف ماحول کو سب سے زیادہ خطرات دوچار ہوں گے بلکہ خود لوگوں پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ چین میں اس وقت 80ہزار چھوٹے بڑے ڈیمز ہیں۔ امریکہ 9200چھوٹے بڑے ڈیمز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ بھارت میں 3200سے زائد چھوٹے بڑے ڈیمز موجود ہیں اور مزید سینکڑوں ڈیموں پر کام ہو رہا ہے۔ اس طرح جاپان، برازیل اور دیگر ملکوں میں ہزاروں ڈیمز موجود ہیں۔ پاکستان میں لگ بھگ 150چھوٹے بڑے پانی کے ذخائر یا ڈیمز ہیں، جو پانی کے وسائل کو ذخیرہ کرنے کے لئے انتہائی ناکافی ہیں کیونکہ ہر سال بہت سا پانی ضائع ہو جاتا ہے اور چند سالوں کے وقفے سے خطرناک سیلاب بھی تباہی مچاتے ہیں۔

یہ ٹھیک ہے کہ دریائے سندھ سمیت کسی بھی دریا، ندی یا نالے پر اسٹیک ہولڈرز کے اتفاق رائے کے بغیر ڈیمز نہیں بننا چاہئیں۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ قدرتی ماحول کا تحفظ ہونا چاہئے مگر ڈیمز نہ بننے کے ماحول اور انسانی آبادی پر خطرناک اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ ڈیمز یا ’’ریزروائرز‘‘ کی تعمیر بہت ضروری ہے۔ اسٹیک ہولڈرز کے مفادات اور ماحول کے تحفظ کیلئے وہ راستے اختیار کئے جائیں، جو دنیا اختیار کر رہی ہے۔

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے بڑے کام کرنے کے لئے بحیثیت قوم اپنے اندر صلاحیت ہی پیدا نہیں کی۔ اگلے روز ایک خبر پڑھ کر بہت افسوس ہوا۔ خبر کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات کو ایک اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ میں تعمیر ہونے والے نئی گاج ڈیم کی لاگت 17ارب روپے سے بڑھ کر 47.7ارب روپے ہو گئی ہے۔ اس کا سبب یہ بتایا گیا کہ ڈیم کے ڈیزائن میں تبدیلی ہوئی اور دیگر تاخیری حربے استعمال کئے گئے۔ ڈیم کی تعمیر میں تاخیر کے معاملے پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا ہے اور یہ کیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔ لہٰذا اس معاملے پر مزید تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہو گا مگر اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ ہم بڑے منصوبے بنانے کے اہل ہی نہیں ہیں۔ اب جب یہ ڈیم بنے گا تو 100ارب کی لاگت ہو گی۔ اگر یہ ڈیم بن جائے تو پاکستان میں ایسے ڈیمز بڑی تعداد میں بن سکتے ہیں۔ یہ ڈیم گاج نامی پہاڑی ندی پر بنایا جا رہا ہے۔ پہاڑی ندی کو مقامی زبان میں ’’نئی‘‘ یا کہیں ’’نائیں‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ندیاں بارشوں کے موسم میں بہتی ہیں۔ پاکستان کے پہاڑی سلسلوں میں ایسی ہزاروں ندیاں ہیں، جو بارشوں کے سیزن میں میدانی علاقوں میں سیلاب کا باعث بنتی ہیں۔ ان سیلابوں سے نہ صرف تباہی ہی نہیں ہوتی بلکہ پانی بھی ضائع ہوتا ہے۔

دیامیر بھاشا ڈیم پر سب کا اگرچہ اتفاق نہ ہو مگر کسی کو بڑا اختلاف نہیں ہے۔ اس ڈیم کی تعمیر کے لئے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے فنڈ قائم کیا تھا، جس میں لوگوں نے بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالا۔ ڈیمز کی تعمیر پاکستان کے منصوبہ ساز اداروں کا کام ہے لیکن جب عدالت نے اس کام کے لئے مہم شروع کی تو لوگوں نے اس کی پذیرائی کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے لوگ پانی کی قلت کے سنگین مسئلے پر بہت زیادہ حساس ہیں اور ان خطرات کو بھانپ رہے ہیں، جن سے ہمارے منصوبہ سازوں اور حکمرانوں نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ’’سندھ بیراج‘‘ کے نام سے زیریں سندھ میں ایک بیراج تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے زیریں سندھ خصوصاً ساحلی علاقوں میں واٹر مینجمنٹ بہتر ہو سکے گی اور سمندر کا پانی اوپر نہیں چڑھے گا۔ اسی طرح اتفاق رائے والے دیگر منصوبوں پر بھی کام کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر ڈیمز 1960سے 1975کے درمیان بنے۔ اس کے بعد کوئی بڑا منصوبہ نہیں بنا۔

پاکستان میں پانی کے ذخائر نہ صرف انتہائی کم ہیں بلکہ یہ ذخائر آلودہ ہو چکے ہیں۔ دریا، نہریں، جھیلیں اور دیگر ذخائر میں شہروں اور صنعتوں کا گندہ پانی اور فضلہ جا رہا ہے۔ یہ ایک اور سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔ نئے ذخائر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ان ذخائر کو آلودگی سے بچانا بھی ضروری ہے کیونکہ جو پانی میسر ہے، وہ بھی انسانوں، جانوروں اور زراعت کیلئے خطرناک بن چکا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنے مالیاتی وسائل کا زیادہ تر حصہ پانی کے سنگین مسئلے کو حل کرنے کیلئے مختص کرے لیکن اس سے پہلے نیشنل واٹر پالیسی کی تشکیل کیلئے بھرپور اور نتیجہ خیز نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے کہ پانی پر تنازعات جنگوں کی صورت اختیار کریں یا پانی کی قلت اور آلودہ پانی سے کوئی بڑی تباہی پھیلے، ہمیں جنگی بنیادوں پر پانی کے مسئلے سے نمٹنا ہو گا۔