آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار15؍محرم الحرام 1441ھ 15؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر سعدیہ طارق

انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (International Federation of Red Cross and Red Crescent Societies) کے زیرِ اہتمام ہر سال ستمبر کے دوسرے ہفتے کو ’’ابتدائی طبّی امداد‘‘ کا عالمی یوم مختلف تھیمز کے ساتھ منایا جاتا ہے، جس کا بنیادی مقصد عوام النّاس کو ابتدائی طبّی امداد کی اہمیت و افادیت سے متعلق معلومات فراہم کرنا اور تربیت کے حصول کی جانب متوجّہ کرنا ہے۔پہلی بار یہ دِن2002ء میں منایا گیا، جس کے بعد سے ہر سال دُنیا بَھر میں موجود ایک سو سے زائد ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائیٹیز اس عالمی یوم کے حوالے سے مختلف پروگرامز ترتیب دیتی ہیں۔رواں برس یہ یوم14ستمبر کومنایا جارہا ہے، جس کے لیے"First aid and road safety"کا تھیم مقرر کیا گیا ہے۔

کسی بھی جان لیوا حادثے کی صُورت میں زیادہ ترافرادزخموں کی تاب نہ لا کر یا بروقت ابتدائی طبّی امداد نہ ملنے کے سبب زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ انسانی زندگی بہت قیمتی ہے۔کسے، کب، کہاں، کوئی حادثہ پیش آجائے، اس حوالے سے قبل از وقت کچھ نہیں کہا جاسکتا، لیکن یہ ضرور ہے کہ اگر متاثرہ فرد کو فوری طبّی امداد فراہم کر دی جائے، تو وہ کسی بڑے نقصان سے بچ سکتا ہے۔ مثلاً خدانخواستہ کوئی فرد کسی حادثے کا شکار ہوجائے اور ایمبولینس آنے تک شدید تکلیف سے دوچار رہے تو اُس کے دِل میں یہ خیال ضرور آئے گا کہ اے کاش! میرے اردگرد موجود افراد میں سے کوئی ایک تو ایسا ہوتا، جو میری مدد کرسکتا کہ کسی طور میری یہ تکلیف کم ہوجائے۔ ابتدائی طبّی امداد یا ’’فرسٹ ایڈ‘‘ ایسی ہی صُورتِ حال میں پیشہ ورانہ طبّی امداد میسّر آنے یا اسپتال پہنچنے سے قبل زخمی یا بیمار افراد کو مہیا کی جانے والی بروقت اور فوری مدد کا نام ہے۔ یاد رکھیے، اگر کوئی فرد حادثے کا شکار ہوجائے، تو اسپتال لے جانے سے قبل کا وقت بےحد اہم ہوتا ہے کہ اس دورانیے میں مہیا کی جانے والی ابتدائی طبّی امداد کسی بڑے نقصان سے بچانے میں نہایت مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔ جیسے حادثے کی صُورت میں خون بہنے سے روکنا، زخموں کی دیکھ بھال، مرہم پٹّی یا خون روکنے کے لیے صاف ستھرے ہاتھوں کا استعمال ،زخموں کو جراثیم سے بچانا،صدمے کی حالت میں نفسیاتی امداد دینا، خوف دُورکرنا، حوصلہ دینا، اگر متاثرہ فردکی ہڈی ٹوٹ گئی ہو، تو اُسے سہارا دے کر جائے حادثے سے دُور لے جانا،بعد ازاں اسے آرام دہ حالت میں قریبی اسپتال تک پہنچانا وغیرہ۔ البتہ ابتدائی طبّی امداد دینے والے رضا کار کے لیے ضروری ہے کہ وہ فرسٹ ایڈ سے متعلق مکمل معلومات رکھتا ہو۔ بدقسمتی سے ہمارے مُلک میں جہاں روڈ ایکسیڈنٹس کی شرح دیگر مُمالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے، وہیں عام شہریوں میں ابتدائی طبّی امداد سے متعلق معلومات کا سخت فقدان پایا جاتا ہے، بلکہ اکثر اوقات یہ دیکھا گیا ہے کہ امدادی رضاکارمناسب معلومات نہ ہونے کے سبب زخمی/بیمار کی تکلیف کم کرنے کی بجائے اس میں اضافے کا سبب بن جاتے ہیں۔نیز،حادثے کے فوری بعد کا قیمتی وقت بھی ضایع کردیاجاتا ہے،یہی وجہ ہے کہ متعدد کیسز میں متاثرہ فرد جائے وقوع یا پھر اسپتال پہنچائے جانے کے دوران ہی دَم توڑ دیتا ہے۔عمومی طور پرفرسٹ ایڈ کی تربیت کا دورانیہ چند گھنٹوں پر مشتمل ہے اور یہ تربیت کوئی بھی شخص حاصل کرکے کئی قیمتی جانوں کو بچا نے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔انسانی زندگی بچاتی ایمبولینس سروس کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن اگرہر شہری طبّی امداد کی تربیت حاصل کرلے، تو حادثات کی صُورت میں متاثرین کو طبّی امداد فراہم کر کے کئی خاندان اُجڑنے سے بچائے جاسکتے ہیں۔ حادثات میں زیادہ تر اموات سانس اور دِل بند ہونے یا جسم سے خون کے وافر مقدار میں زیاں کے سبب ہوتی ہیں۔ ایسے میں ایک تربیت یافتہ فرد ہی مہارت سے وہ امور انجام دے سکتا ہے، جو زندگی بچانے میں معاون ثابت ہوسکیں، کیوں کہ اُسے معلوم ہوتا ہے کہ اگر چند منٹ تک دماغ کو آکسیجن کی فراہمی معطّل ہوجائے، تو نہ صرف دماغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے، بلکہ موت بھی واقع ہو سکتی ہے، لہٰذا اس کی اوّلین ترجیح اپنےحواس قابو میں رکھتے ہوئے چوٹوں سے بہتے خون کو روکنااور خون کے بہاو ٔپر فوری توّجہ دیتے ہوئے دِل کو متحرک اور سانس کی روانی برقرار رکھنا ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق ماہانہ ٹریفک حادثات میں لقمۂ اجل بننے والوں کی تعداد، سالانہ بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔ ٹریفک ایمرجینسی نہ صرف پاکستان، بلکہ دُنیا بَھر بالخصوص ترقّی پذیر مُمالک کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ٹریفک حادثات کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ مثلاً تیزی رفتاری، غیر محتاط ڈرائیونگ، سڑکوں کی خستہ حالی،گاڑی کی کوئی اپنی خرابی، اوورلوڈنگ، وَن وے کی خلاف ورزی، اوورٹیکنگ، اشارہ توڑنا، غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز ، دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال، نو عُمری میں بغیر لائسنس کے ڈرائیونگ، بریک فیل ہوجانا اور زائد مدّت ٹائر وں کا استعمال وغیرہ، لیکن ان میں سب سے اہم وجہ ڈرائیورز کا جلد بازروّیہ ہے۔ 80سے 90فی صد ٹریفک حادثات اسی غیر محتاط روّیے کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ نو عُمر افراد اپنے پُرجوش روّیے کی وجہ سے ٹریفک قوانین کی پاس داری نہیں کرتے اور ٹریفک سگنلز اور قوانین کو نظر انداز کردیتے ہیں، بلکہ اکثر نوجوان تربیت یافتہ ڈرائیورز ہی نہیں ہوتے اور ان کا تیز رفتاری سے گاڑی چلانے کا جنون بے شمار حادثات کا باعث بن جاتا ہے۔ ترقّی یافتہ مُمالک روڈ سیفٹی کے لیے قانون سازی، ٹریفک قوانین پر مؤثر عمل درآمد، سٹرکوں کی تعمیر اور گاڑیوں کو محفوظ بناکر ان ٹریفک حادثات میں نمایاں کمی لاچُکے ہیں۔ پاکستان میں بھی ’’روڈ سیفٹی‘‘ کے قوانین تو موجود ہیں، مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ اگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دینے کی روش اختیار کرلی جائے، تو ٹریفک حادثات کی شرح میں واضح کمی لائی جاسکتی ہے، جس کے لیے نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس، سٹی ٹریفک پولیس اور متعلقہ حکّام کو اپنی اپنی ذمّے داریاں ایمان داری سے ادا کرنی ہوں گی۔ہمارے یہاں ہر سطح تک روڈ سیفٹی ایجوکیشن عام کرنے کے ساتھ بعض حفاظتی اقدامات بھی ناگزیر ہیں، تاکہ روڈ سیفٹی کو یقینی بناکر حادثات کی شرح میں خاطر خواہ کمی لائی جاسکے۔ مثلاًکم عُمر اور نو آموز ڈرائیوروں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ نصاب میں ٹریفک قوانین سے متعلق مضامین شامل کیے جائیں۔ڈرائیورز دورانِ سفر جلد بازی سے اجتناب کرتے ہوئے دیگر ٹریفک، بالخصوص پیدل چلنے والوں کا خیال رکھیں۔ سڑکوں کے درمیان موجود کُھلے مین ہولز اور سڑکوں کے اطراف سے ناجائز تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے۔ نیز،دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال پر سخت سزا دی جائے۔ اسی طرح ڈرائیورز کو لائن اور لین کا پابند بنایا جائے۔ نیز، سلو موونگ گاڑیوں کے ڈرائیورز کو الگ سے تربیت دی جائے،تاکہ سڑکیں حادثات سے محفوظ ہوں اور شہریوں کی قیمتی جانوں کا تحفّظ یقینی بنایا جا سکے۔شہریوں میں روڈ سیفٹی سے متعلق سوچ اور روّیوں میں بہتری لانے کے اقدامات بھی ضروری ہیں۔ جیسے قومی اور صوبائی سطح پر روڈ سیفٹی انسٹی ٹیوٹس کا قیام، روڈ سیفٹی اور فرسٹ ایڈ سے آگاہی کے لیے ہر گھر، اسکول، کالج اور دیگر تربیتی اداروں میں خصوصی مہم کا آغاز وغیرہ۔

فرسٹ ایڈ کا عالمی دِن منانے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو ابتدائی طبّی امداد کی تربیت حاصل کرنے کی راغب کیا جائے،کیوں کہ ابتدائی طبّی امداد کی فراہمی ہر زخمی کا بنیادی حق ہے۔ اگر ہر ادارہ اس کی اہمیت اُجاگر کر کے اس کی تربیت لازمی قرار دے دے، تو حادثات میں لوگوں کا جم غفیر خاموش تماشائی بننے کے بجائے متاثرین کی مدد کر کے بہت سی جانوں کو بچانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

(مضمون نگار، ریلوے جنرل اسپتال اور اسلامک انٹرنیشنل میڈیکل کالج، راول پنڈی میں خدمات انجام دے چُکی ہیں۔ ڈاؤ یونی ورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، کراچی سے فیملی میڈیسن میں ڈپلوما کررہی ہیں، نیز پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن(پیما) کی بھی رکن ہیں)