آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 18؍محرم الحرام 1441ھ 18؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مسئلہ کشمیر: پہلی ترجیح کیا ہونی چاہئے؟

پاکستان میں6ستمبر کا دن ہر سال کی طرح اس سال بھی بڑے جوش وجذبے سے منایا گیا اس روز بھارت کو جنگی میدان میں اس کی بھرپور جارحیت کے نتیجے میں تاریخ ساز شکست ہوئی تھی، اس تاریخی پس منظر میں PTI حکومت اور پاک فوج کی قیادت نے اس سال یوم ستمبر اور کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے قومی سطح پر مختلف تقریبات کا اظہار کرکے ثابت کیا کہ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے خلاف پاکستان کی تمام سیاسی اور فوجی قیادت اور عوام سب ایک ہیں۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو کشمیر کی موجودہ صورتحال ہو یا ستمبر 1965ء کے حالات دونوں کا تعلق کسی نہ کسی طرح پاکستان کی معیشت سے ہے۔ 1965ء سے پہلے پاکستان کی معاشی صورتحال اور اکنامک گروتھ ہر لحاظ سے تسلی بخش تھی۔ جنگ ستمبر سے پہلے پاکستان میں پرائیویٹ سیکٹر کی سرمایہ کاری کی شرح جی ڈی پی کے لحاظ سے 11.3فیصد تھی جو کہ 1965/66میں کئی وجوہ کی بنا پر 9.7فیصد رہ گئی یہ سلسلہ کئی سال جاری رہا اسکے بعد 1971-72ءمیں بھی زیڈ اے بھٹو دور میں کئی حکومتی فیصلوں کی وجہ سے یہ شرح کم ہو کر 6.5فیصد تک آگئی تھی اس وقت بھٹو صاحب نے NEW PAKISTANکا نعرہ لگایا تھا اور اب PTI حکومت نے اس نعرے کو نیا پاکستان کا نام دے کر حالیہ الیکشن میں کامیابی حاصل کی۔اس طرح اب بھی کشمیر میں بھارت کی طرف سے یکطرفہ طور پر کشیدگی بڑھنے سے

جہاں پاکستان کے معاشی حالات پر اس کے منفی اثرات بڑھ رہے ہیں وہاں پورے جنوبی ایشیا میں سماجی اور معاشی ترقی پر منفی اثرات پڑنے سے غربت اور معاشی عدم استحکام کا بڑھنا کسی بھی طرح اطمینان بخش نہیں ہے ۔کشمیر میں بھارتی جارحیت کا منصوبہ نیا نہیں ہے وہ کشمیر کے بعد گلگت، بلتستان کی پٹی کو بھی ہڑپ کرنا چاہتا ہے ۔ پاکستان کی طرف سے کشمیر کی صورتحال کے حقائق بیان کرنے کے لئے عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کی بڑی کوششیں ہو رہی ہیں لیکن بھارت کو اپنی ایک ارب کی مارکیٹ کے جیو پولیٹکل اور مارکیٹنگ کے بڑے فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔اسلئے حکومت کو چاہئے کہ اپنی دفاعی اور خارجی پالیسی کو جامع انداز میں ضرور چلاتی رہے لیکن اس کیساتھ ساتھ پاکستانی معیشت کو اتنا مضبوط بنانے کی حکمت عملی تیار کرے کہ مسلم ممالک اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اقتصادی طور پر مضبوط پاکستان کیساتھ اپنی پالیسیوں میں توازن رکھیں۔ اس وقت کئی ممالک کے حوالےسے صورتحال اور حقائق اطمینان بخش نہیں ہیں اسلئے وزیراعظم ذاتی طور پر اس بارے میں سوچ بچار کریں اور اس بات کا خیال کریں کہ اقتصادی طور پر مضبوط ملک میں نہ تو عوام میں بلاوجہ کی مایوسیاں پیدا کی جا سکتی ہیں اور نہ قومی سطح پر قوم کے جذبے کو کمزور کیا جا سکتا ہے ۔اس طرح جب پاکستان میں صنعت کا پہیہ چلے گا اور ہر گھر کو روٹی ملے گی تو ہر قسم کے حالات میں قوم کے جذبے کی طاقت بڑھے گی اور پاکستان کے معاشی حالات تباہ کرنے کی کوئی بھی بیرونی سازش کامیاب نہیں ہو سکے گی۔اس وقت بھی کشمیر کی صورتحال نے ہر پاکستانی کو فکرمند کر رکھا ہےلیکن اسکے برعکس بھارت اور مودی حکومت عالمی سطح پر اسلئے پذیرائی حاصل کر رہی ہے کہ وہ اقتصادی طور پر پاکستان سے بہتر پوزیشن میں ہے۔گو کہ اب کشمیر میں بھارتی جارحیت کے بعد کچھ عالمی اداروں کی رپورٹوں میں بھارتی معیشت کو دبائو میں دکھایا جا رہا ہے اس طرح بھارت میں ایک چہرہ ترقی کرتا ہوا بھارت ہے اور دوسرا وہاں سماجی حالات کی بدترین صورتحال کی عکاسی کرتا ہے لیکن جو لوگ یا ممالک معاشی طور پر طاقتور ہوتے ہیں ان کی یہ سب چیزیں نظر انداز ہو جایا کرتی ہیں۔ اسلئے ہماری پہلی ترجیح معاشی طور پر حالات میں بہتری اور ہر شعبہ زندگی میں قومی وسائل میں اضافہ ہے اس سے ہمارا دفاع بھی مضبوط ہو گا اورقومی سطح پر حب الوطنی کا جذبہ بھی بڑھے گا۔