آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار15؍محرم الحرام 1441ھ 15؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’میون‘ ایک ذرّہ جو بڑی تعمیرات کی اندرونی کیفیت کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے

مرزا شاہد برلاس

میون(muon) ایک ایسا پارٹیکل یاذرّہ ہے جو طبیعیات سے باہر کم ہی جانا جاتا ہے اور جو دراصل الیکٹرون کا بھاری مبدل(ورژن) ہے، جس کی زمین کے ہر مربع سینٹی میٹر پر بارش ہوتی رہتی ہے۔ گذشتہ سال اس کی مدد سے آثار قدیمہ کے ماہرین نے ایک حیران کن دریافت کی تھی۔یعنی عظیم مصری اہرام میں ایک غیر معلوم چیمبر(کوٹھری) کی نشاندہی کی تھی۔ ماہرین زلزلہ (Volcanologists) اور جوہری انجنیئرز اس تیکنیک کے نئے استعمال وضع کر رہے ہیں، جس کو میو گرافی (mougraphy) کا نام دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے بھاری تعمیرات کے اندرون کی بابت معلومات فراہم کی جاسکتی ہیں۔چند کمپنیاں اس سے مالی منفعت حاصل کرنے کے لیے کام کررہی ہیں ۔گزشتہ سال عظیم اہرام مصر کی ایک نئی دریافت نے اس کو دنیا کے نقشے پر روشناس کروایا ہے ۔یونیورسٹی آف گلاسگویو کے ماہرین ڈیوڈمیہون کے مطابق میون میں بھی ویسا ہی منفی چارج ہو تا ہے جو الیکٹرون میں ہوتا ہے لیکن یہ اس کے مادّے سے 200 گنا زیادہ وزنی ہوتا ہے ۔اس توانائی کے پارٹیکل جب وجود میں آتے ہیں جب کاسمک شعاعیں زمین کے ماحول میں داخل یہاں کے ایٹموں سے ٹکراتی ہیں ۔ان شعاعوں کی رفتار روشنی کی رفتار کے قریب ہوتی ہے اور یہ زمین کے کرۂ پر ہر زاویے سے ٹکراتی ہیں۔انسانی ہاتھ کے برابر زمین کے ہر رقبے پر ایک میون فی سیکنڈ کے حساب سے آتے ہیں پھر یہ پارٹیکل سیکڑوں میٹر ٹھوس مادّے سے گذر کر زمین میںجذب ہو جاتے ہیں ۔فرانس کی کیلیریا یمونٹ فیرینڈ لیبارٹری کی فزسٹ کار لیگانونے کا کہنا ہے کہ میون کی ہر جگہ پر موجودگی اور گذرنے والی قوت ان کو بڑی اور ٹھو س اشیاء کو نقصان پہنچائے بغیر ان کی ایکسرے جیسی تصاویر لینے کے لیے ان کو انتہائی موزوں بناتی ہے ۔زیادہ ٹھوس میٹیریل والی چیزیں پارٹیکل سے زیادہ توانائی حاصل کرتی ہیں ،اس طر ح ماہرین مختلف توانائی کےمیون کے نشان زدہ چیز کے گرد بغیر کسی روکاٹ کے ڈیٹیکٹر تک پہنچ کر اس کے ٹھوس پن سے تھری ڈی تصاویر بنا سکتے ہیں ،جس کو میون میپنگ (muoun mapping) کا نام دیا گیا ہے

ماہرین طبیعیات 1950 ءسے اس تیکنیک کے تجربات کررہے ہیں، جس میں گیزاکے دوسرے عظیم اہرام میں چھپے ہوئے خفیہ چیمبر کا سراغ لگانے کی ناکام کوشش بھی شامل تھی، کیوں کہ کمرے کے برابر کے ڈیٹیکٹر بہت مہنگے اور غیر عملی تھے۔رافیلو ڈی الیسینڈ رو کے مطابق ڈیٹیکٹر 10 ٹن سے زیادہ وزنی ہونے کے علاوہ ان کا انحصار بھی میون کی پارٹیکل کو آیو نائز کرنے کی صلاحیت پر ہوتا ہے جو کبھی کبھار دھماکہ خیز گیسیں ہوتی تھیں ۔چار جڈ پارٹیکل کے راستے کا درست تعین کے لیے سوئٹزر لینڈ میں جینیوا کےنزدیک پورپ کی پارٹیکل فزکس کی سرن لیبارٹری میں چھوٹے ،محفوظ اور زیادہ حسا س میون ڈیٹیکٹر بنائے گئے تھے ۔یہ چند مربع میٹر کے ہوتے ہیں اور شمسی توانائی کے پینل سے چلتے ہیں ،اسی لیے ان کو دور دراز کی فیلڈ میں کسی جگہ پر بھی لے جایا جاسکتا ہے ۔

اس تیکنیک کے استعمال کے لیے آتش فشاں پہاڑ مقبول ہدف ہے ،جس کے لیے جاپانی محققین نے بنیادی اور قابل ذکر کام کیا ہے ۔اس کے لیے لاوے کی نالیوں کی میپنگ کرتے ہوئے اس کے نقشے بنائے جاتے ہیں جو اردگرد کی ٹھوس چٹانوںکی بہ نسبت میون سے کم توانائی جذب کرتی ہیں ۔ماہرین کو اُمید ہے کہ اس تیکنیک سے ایک دن وہ آجائے گا جب آتش فشانی کی پیش گوئی کرنا ممکن ہوجائے گا ۔کار لوگانوکا کہنا ہے کہ رواں سال تحقیق کار اٹلی کے مائونٹ ویسیووس کے اندر لاوے کے ٹھوس بن جانے والے پلگ کا عکس لینےکی کوشش کریں گے اور اس کو روایتی جیوفزیکل طر یقوں کے ساتھ ملا کر ماہرین یہ دریافت کرسکیں گے کہ سب سے پہلے آتش فشاں میں کو نسا حصہ شق ہوگا ۔

اٹلی کی نیپلر یونیورسٹی کے فزسٹ گیولیو سارا سینو کے مطابق اب چھوٹے ڈیٹیکٹر آثار قدیمہ میں استعمال ہو رہے ہیں ۔وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مائونٹ ایچیا کی زیریں سر نگوں اور سراخوں کا معائنہ کریں گے جو آٹھویں صدی قبل مسیح سے موجود ہیں ۔اس کے علاوہ ماہرین کیو مائے کے قدیم شہر ایکو اڈکٹ (پانی کی نالی ) کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔میو گرافی سے مالی منفعت کے حصول کی کئی کوششیں ممکن ہیں ۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال ایٹمی فضلہ کے ڈرم ہے ۔جن میں ذرا مختلف تیکنیک استعمال کی جا تی ہے ،جس میں میون ایٹمی فضلہ کے ایٹموں کے نکلیائی سے ٹکرا کر راستہ تبدیل کرلیتے ہیں ،جس سے فضلے کی شناخت کی جاتی ہے ۔

اس میں نمونہ کے دونوں اطراف میں ڈیٹیکٹر رکھے جاتے ہیں فزسٹ کے ماہرین کسی پارٹیکل کا مدار دوبارہ تخلیق کرسکتے ہیں ۔چونکہ انعکاس کے زاویے میٹیریل کی کثافت کی مطابقت میں ہوتے ہیں، جس سے میون کے ٹکرانے والے تفتیش کردہ میٹیریل کی کثافت کے خاکے تیار کئے جاتے ہیں۔ اس طر ح سے انجنیئرزادھر ادھر جانے والے میون سے کنٹینر میں موجود یورینیم کے ٹکڑوں کو شناخت کرسکتے ہیں چاہے وہ ایٹمی فضلہ کنکریٹ میں دفن ہو یا فولادی چادروں کے اندر رکھا ہواہو۔یہ معلوما ت حاصل کرنے کے لیے اندر مرکز میں ہوتےہے۔ اس کا سراغ صرف میون ہی لگاسکتے ہیں ۔ٹیکنالوجی نامی فرم کے ڈائریکٹرمیہون گلاسگو کے مطابق چند ماہ بعد سیلا فیلڈ میں واقع یوکے نیشنل لیبارٹری کے ایٹمی فضلہ کے نمونوں کے خاکے بنائیں گے جو اس کمپنی کا پہلا کمرشل معاہدہ ہوگا۔اس کے علاوہ یو ایس اے کی نیو میکسیکو کی ریاست میں لاس الاموس کی نیشنل لیبارٹری میںآزمائشی طور پر پتہ چلا ہے کہ خرچ کردہ ایٹمی ایندھن کے تابوت سے کچھ سلاخیں چرالی گئیں ہیں ،کیوں کہ ایسی چار سلاخوں سے کافی پلوٹونیم حاصل ہوجائے گا کہ اس سے ابتدائی قسم کا جوہری ہتھیار بنایا جاسکے گا ۔یہ بات لاس الاموس کے فزسٹ کرسٹو فرمارس نے بتائی تھی ۔ایک اسرائیلی کمپنی اس تیکنیک کو حفاظتی اسکریننگ کے لیے استعمال کرنے کے لیے تفتیش کررہی ہے ۔اس طر ح بارڈر کراسنگ پر اسمگل شدہ جو ہری میٹیرل کی شناخت کی جاسکے گی ۔اس کے ساتھ ساتھ کچھ کمپنیاں میوگرافی کی مدد سے تیل کی صنعتوں کے بوسیدہ تیل وگیس کے پائپوں کی شناخت کرنا چاہتی ہیں اور بعض پرانی کانوں میں بچی ہوئی دھاتوں کی شناخت کے لیے بھی اس تیکنیک کو استعمال کرنا چاہتی ہیں ۔

لیکن علمی حلقوں میں اس تیکنیک کو غیر اطمینان بخش اور مضحکہ خیز سمجھ جاتا ہے اس حقیقت کے باوجود کہ اس نے عظیم اہرام میں چھپے ہوئے کمرےکا سراغ لگایا تھا، کیوں کہ ابھی تک یہ تیکنیک ثابت نہیں ہوئی ہے۔ یہ ایک بالکل نئی ٹیکنالوجی ہے جو بہت ہائی انرجی فزکس (انتہائی توانائی طبیعیات) کی دنیا سے آئی ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید