• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فلم کے آغاز کے بعد فن موسیقی میں بڑے بڑے فن کاروں نے اپنی فنی خدمات سے شہرت پائی۔ پاک و ہند کی فلمی موسیقی نے نامور موسیقار اور گلوکار پیدا کیے۔ ان میں ایک معتبر نام موسیقار نثار بزمی کا بھی ہے۔ ان کا پُورا نام سید نثاراحمد تھا۔ فن موسیقی میں نثار بزمی کے نام سے شہرت پائی۔ ممبئی کے مضافاتی علاقہ جل گائوں ضلع خاندیش میں سید قدرت علی کے گھر میں 5؍ دسمبر 1925ء کو پیدا ہونے والے سید نثار اس زمانے کے ایک بزرگ قوال یاسین خان کےساتھ قوالی سے فن موسیقی کی تعلیم کا آغاز کیا۔ یہ 1934ء کا ذکر ہے ان کے والد آلو اور لہسن کے آڑھتی تھے۔ نثار بزمی نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1944ء میں کیا ۔ اس سے قبل وہ آل انڈیا ریڈیو بمبئی پر بہ طور موسیقار ملازم بھی رہے۔ 

بہ حیثیت موسیقار ان کی پہلی فلم ’’جمنا پار‘‘ 1946ء میں ریلیز ہوئی تھی، مگر ان کی شہرت کا آغاز فلم ’’کھوج‘‘ میں محمد رفیع کے گائے ہوئے اس نغمے سے ہوا، جس کے بول تھے’’چندا کا دل ٹوٹ گیا‘‘۔ یہ فلم 1953ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ بھارت میں انہوں نے محمد رفیع کے علاوہ لتا منگیشکر، آشا بھوسلے، شمشاد بیگم، مہندر کپور، خان مستانہ، سمن کلیان پوری جیسے نامور گلوکاروں سے گانے گوائے۔ بھارت میں انہوں نے 26؍ فلموں کی موسیقی دی، معروف موسیقار ناشاد جو بعد میں پاکستان آگئے تھے۔ وہ بھارت میں نثار بزمی کےساتھ بہ طور شریک موسیقار فلم غضب میں شامل تھے۔ یہ فلم 1951ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ بھارت میں نثار بزمی کی موسیقی کوئی خاص مقبول گانے نہیں دے پائی، کیوں کہ ان کی بنائی ہوئی دُھنوں پر بڑے شعراء کے بجائے سی کلاس شاعروں سے گیت لکھوائے گئے، جس کی وجہ سے وہ وہاں سی کلاس درجے کے موسیقاروں میں شمار ہوتے تھے۔

نثار بزمی 1962ء میں بمبئی چھوڑ کر پاکستان آگئے۔ ان کے عزیز و اقارب اور چار بھائی پہلے ہی پاکستان آچکے تھے۔ معروف فلم ساز ہدایت کار اور شاعر فضل کریم فضلی سے ان کی دوستی بمبئی سے تھی۔ ان ہی کے توسط سے وہ فلم ’’ایسا بھی ہوتا ہے‘‘ کے موسیقار بنے۔ یہ 1962ء کے اوائل کا زمانہ تھا، اس فلم کے لیے انہوں نے سب سے پہلے ملکہ ترنم نور جہاں کی آواز میں ایک گانا ریکارڈ کروایا، جس کے بول تھے ’’بہار کے دن آئے سنگھار کے دن آئے‘‘ یہ اپنے دور کی سپرہٹ نغماتی فلم ثابت ہوئی۔ یہ فلم 1964ء میں ریلیز ہوئی، لیکن اس فلم سے قبل ان کی موسیقی سے آراستہ ہدایت کار نذیر صوفی کی فلم ’’ہیڈکانسٹیبل‘‘ ریلیز ہوگئی۔اس فلم میں انہوں نے میڈم نور جہاں سے ایک خوب صورت المیہ گیت گوایا جس کے بول یہ تھے’’اے کاش میرے لب پہ تیرا نام نہ آتا‘‘ یہ نغمہ اپنے دور کا مقبول ترین نغمہ تھا۔ یہ پاکستان میں ان کی پہلی ریلیز شدہ فلم تھی۔ بزم موسیقی میں ہیڈکانسٹیبل سے موسیقار نثار بزمی کا دوسرا دور شروع ہوا، جو ان کی آخری ریلیز شدہ فلم ’’ویری گڈدُنیا ویری بیڈ لوگ‘‘ تک جاری رہا۔ انہوں نے اپنے پورے کیریئر میں 68 ریلیز شدہ فلموں کی موسیقی ترتیب دی ،جو تمام کی تمام اردو زبان میں تھیں۔

’’ساجنارے موسے پیت نبھانا رے‘‘ فلم ناگ منی کا یہ سُریلا اور مدھر گیت سر و سنگیت کا حسین مرکب بزمی صاحب کے فن کو سلام پیش کرتے ہوئے آج بھی اپنی تازگی و مٹھاس برقرار رکھے ہوئے ہے۔ وہ ایک موسیقار ہونے کے ساتھ ادبی و جمالیاتی ذوق کے بھی مالک تھے۔ اگر موسیقار کا اعلیٰ ادبی ذوق رکھتے ہو تو دُھنیں کچھ اس طرح سے نکھرتی ہیں کہ ان سے جنم لینے والے گیت سماعتوں میں مدتوں سنائی دیتے ہیں۔ انہوں نے فن موسیقی کے اسرار و رموز سے متعلق ایک کتاب ’’پھر ساز صدا خاموش ہوا‘‘ مرتب کی۔ اس تصنیف میں ان کا شاعرانہ کلام بھی شامل ہے۔ ان کی بعض فلمی طرزیں شاعری کے معیار کا بہترین آمیزش ہیں۔ ان کی دھنوں پر جن نغمہ نگاروں نے گیت لکھے، ان میں فضل کریم فضلی، فیاض ہاشمی، تنویر نقوی، مسرور انور، تسلیم فاضلی، کلیم عثمانی اور سیف الدین سیف اور قتیل شفائی، جیسے ادبی شہرت کے حامل شعراء کے نام شامل ہیں۔

نثار بزمی نے اپنی دھنوں میں زیادہ تر تاروں والے ساز استعمال کیے۔ ان سازوں کے ذریعے انہوں نے ہر گیت میں ایک بڑی دل کش انفرادیت اور ندرت پیدا کی۔ فلم ’’امرائو جان ادا‘‘ کے ایک گانے’’مانے نہ بیری بلما میرا من تڑپائے‘‘ میں انہوں نے 50؍ سے زائد آرکسٹرا کا استعمال کیا۔ اس فلم کے تقریباً تمام گانوں میں انہوں نے آرکسٹرا کی زیادہ سے زیادہ تعداد رکھی۔ ان کے نزدیک اس طرح سے گانوں کی (Base) بڑی متاثر کن بنتی ہے، اسی وجہ سے وہ اپنے دور کے سب سے زیادہ شاہ خرچ موسیقار مشہور تھے۔ فلم ’’لاکھوں میں ایک‘‘ کا بھجن ’’من مندر کے دیوتا‘‘ اور ناگ منی کا بھجن ’’پگ لاگے داسی‘‘کو بڑے بڑے انڈین موسیقاروں نے سنا تو حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے ایسے بھجن ہم نے کیوں نہیں بنائے۔

نغمہ نگار مسرور انور کا ساتھ نثار بزمی کے ساتھ فلم لاکھوں میں ایک کے اس صدا بہار نغمے سے شروع ہوا، جس کے بول تھے ’’حالات بدل نہیں سکتے‘‘ اس کے بعد ان کی جوڑی نے بے شمار مقبول و مدھر گیت تخلیق کیے۔ موسیقار نثار بزمی کے تخلیق کیے ہوئے فلمی گیت علمی، ادبی، تہذیبی اور ثقافتی حوالوں سےبڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کی موسیقی میں طربیہ، المیہ، حزنیہ کا جو عنصر پایا جاتا ہے۔ اس نے انہیں اس بزم موسیقی کے ایک عہد ساز موسیقار کے طور پر آج لوگوں میں زندہ رکھا ہوا ہے۔ یہ عہد ساز موسیقار 22؍ مارچ 2007ء کو دنیائے فانی سے انتقال فرماگئے۔ اللہ نہیں غریق رحمت فرمائے، آمین۔ ان کے سریلے، رسیلے نغمات ’’گائے گی دنیا گیت مرے‘‘ کے تاثر کو بڑی آن و شان کےساتھ برقرار رکھے ہوئے ہے۔

تازہ ترین
تازہ ترین