• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرف کے بیرون ملک جانے پر حکومت کو مسلسل سبکی کا سامنا

کراچی(ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“میں میزبان محمد جنید نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی کیلئے حکومت سے ڈیل ہوئی یا نہیں صورتحال اب تک غیرواضح ہے ،پرویز مشرف نے وزیراعظم نواز شریف اور چوہدری نثار کا شکریہ ادا کر کے وفاقی حکومت کو شرمندہ کردیا ہے، پرویز مشرف کا یہ بیان بہت اہم ہے، پرویز مشرف کا نواز شریف کو شکریہ کہنا ان کے موقف میں نرمی کے ساتھ حکومتی موقف کی تائید بھی ہے۔ محمد جنید نے کہا کہ پرویز مشرف کی نرمی حکومت کو بھاری پڑسکتی ہے کیونکہ پرویز مشرف کے بیرون ملک جانے کے معاملہ پر حکومت کو مسلسل سبکی کا سامنا ہے، حکومت ابھی تک اپوزیشن کے طعنوں اور تنقید کی زد سے باہر نکل نہیں پائی تھی کہ پرویز مشرف کے وزیراعظم اور وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کرنے نے حکومت کومزید شرمندگی سے دوچار کردیا ہے، پرویز مشرف کے تازہ بیانات حکومت کی سیاسی مشکلات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔بھارتی ایجنٹ کی گرفتاری سے متعلق تجزیہ میں محمد جنید نے کہا کہ بھارت نے بلوچستان سے گرفتار ایجنٹ بھوشن یادو کو بھارتی شہری تسلیم کرلیا ہے اور یہ اعتراف بھی کیا کہ بھارتی نیوی کا ملازم رہا ہے، ترجمان بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق گرفتار شخص وقت سے پہلے بھارتی نیوی سے ریٹائر ہوگیا تھا، بھوشن یادو اپنا نام تبدیل کر کے حسین مبارک پٹیل کے نام سے پاکستان میں رہ رہا تھا، بھوشن یادو کے پاسپورٹ پر ایرانی ویزا لگا ہے اور اس کی تعیناتی ایرانی پورٹ چاہ بہار میں تھی اور وہ ایران کے راستے ہی بلوچستان آیا تھا۔ محمد جنید نے کہا کہ پچھلے سال مئی میں خبر آئی تھی کہ را نے پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف کام کرنے کیلئے ایک سیل بنایا ہے، اس تناظر میں بھوشن یادو کی گرفتاری بہت اہم ہے،پاکستان کے فوجی اور سویلین حکام کافی عرصہ سے پاکستان میں بھارتی مداخلت کا معاملہ اٹھاتے رہے ہیں۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے حوالے سے تجزیہ کرتے ہوئے محمد جنید نے کہا کہ آسٹریلیا سے شکست کا قومی ٹیم کا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا خوفناک سفر انجام کو پہنچ گیا، قومی ٹیم نے ایک بار پھر مایوس کن کارکردگی دکھائی ، قومی ٹیم کا مستقبل کیا ہوگا، کرکٹ بورڈ کے پاس اہم فیصلوں کیلئے تین مہینے ہیں۔ایرانی صدر کے دورئہ پاکستان پر تجزیہ کرتے ہوئے محمد جنید نے کہا کہ ایرانی صدر حسن روحانی تاریخی دورے پر پاکستان پہنچے ہیں، ایرانی صدر کا یہ دورہ اس لئے بھی اہم ہے کہ پابندیوں کے خاتمےکے بعد حسن روحانی کا خطے کے کسی بھی ملک کا یہ پہلا دورہ ہے، ایرانی صدر کا دورئہ پاکستان خطے کی سیاست پر ہی نہیں تجارتی سرگرمیوں پر بھی اثر انداز ہوگا، ایک ملک توانائی سے مالا مال ہے تو دوسرا ملک توانائی کے بحران کا شکار ہے، پاکستان اور ایران پڑوسی ہیں مگر دونوں کے درمیان تجارتی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں، پاک ایران تعلقات پر عالمی پابندیوں کے ساتھ سعودی عرب کا سایہ بھی رہا ہے، خاص طور پر داعش کیخلاف 34ملکی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت پر ایران ناراض دکھائی دیالیکن اس سب کے باوجود ایرانی صدر پاکستان آئے ہیں، ایران ہی نہیں پاکستان بھی اس دورے کو خاصی اہمیت دے رہا ہے۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میرنے کہا کہ بلوچستان سے ’را‘ کے ایجنٹ کی گرفتاری نہایت اہم موقع پر ہوئی ہے، وزیراعظم نواز شریف اگلے ہفتے ایک کانفرنس میں شرکت کیلئے امریکا جارہے ہیں جہاں ان کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات متوقع ہے جبکہ اتوار کو پاکستان کی تحقیقاتی ٹیم پٹھان کوٹ حملے کے سلسلے میں انڈیا جارہی ہے، بھارت ہمیشہ پاکستان کے غیر ریاستی عناصر کی مداخلت کی بات کرتا ہے لیکن پاکستان نے بلوچستان سے بھارت کا ریاستی مہرہ پکڑلیا ہے۔ حامد میر نے کہا کہ جب بھی بھارت کا کوئی بھی حاضر سروس افسر جب پاکستان میں پکڑا جاتا ہے تو وہ اس سے اعلان لاتعلقی کردیتا ہے، ماضی میں بھارتی ایجنٹ رویندرا کوشک پکڑا گیا تو انڈین حکومت نے اس سے کوئی تعلق تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا، بھوشن یادو کے بارے میں بھی انڈیا اپنا پرانا موقف دہرا رہا ہے۔ حامد میر نے بتایا کہ حکومت بھارتی ایجنٹ کی پاکستان میں گرفتاری کے بعد یہ معاملہ دوست ممالک کے ساتھ عالمی برادری کے سامنے اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے، بھارت اب اس بات کو جھٹلا نہیں سکتا کہ بھوشن یادو ان کا شہری نہیں ہے، پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیاں ملک دشمن عناصر کے اندر گھس چکی ہیں، پاکستان نے کچھ عرصہ قبل انڈیا میں جن دہشتگردوں کے داخلے کی جو اطلاع دی تھی ان دہشتگردوں کا تعلق بھی ’را‘ سے تھا، پاکستان نے بھارت پر واضح کردیا ہے کہ پاکستان میں بھارتی ایجنٹوں کیخلاف کریک ڈاؤن کے باوجود ہم بھارت سے بات چیت جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ ماضی میں پاکستان میں جو بھارتی ایجنٹ پکڑے گئے وہ نچلی سطح کے لوگ ہوتے تھے اس لئے بھارت ان سے لاتعلقی کا اظہار کردیتا تھا، بھوشن یادو کی گرفتاری سے بھارت لاتعلق نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ انڈین نیوی کی آفیسر کور کا آدمی ہے، بھارتی ایجنٹ کی گرفتاری کا معاملہ امریکا اور مغربی ممالک کے بجائے چین اور ایران سمیت دوست ممالک کے سامنے رکھنا چاہئے۔ امجد شعیب نے کہا کہ بھوشن یادو کی گرفتاری سے پاکستان میں بھارتی نیٹ ورک کی تفصیلات بے نقاب ہوں گی، پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے اہم کامیابی حاصل کی ہے، حکومت پاکستان میں انڈیا کی مداخلت کے ثبوت عالمی برادری کے سامنے پیش کرے۔سابق ٹیسٹ کرکٹر سکندر بخت نے کہا کہ پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں نئے کھلاڑی شامل کرنے چاہئیں، سرفراز احمد کو ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے ٹیم کا بااختیار کپتان بنایا جائے، شعیب ملک، عمر اکمل ، محمد حفیظ اور احمد شہزاد کی فی الحال ٹیم میں جگہ نہیں بنتی ہے، شاہد آفریدی کو بھی ٹیم میں نئے کھلاڑیوں کیلئے جگہ چھوڑدینی چاہئے، محمد حفیظ اور شعیب ملک کو کپتان نہیں بنایا جائے، کرکٹ ٹیم کو غیرملکی کوچ کی ضرورت ہے، ٹیم کے کوچ کو بھی سلیکشن کمیٹی کا حصہ بنایا جائے، سلیکشن کمیٹی ڈومیسٹک کرکٹ دیکھ کر لڑکے منتخب کرے، کرکٹ بورڈ کو سلیکشن کمیٹی، کوچ اور کپتان کے فیصلوں میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد یوسف نے کہا کہ موجودہ ٹیم میں سرفراز احمد، شرجیل، محمد عامر، اسد شفیق اور وہاب ریاض پر کرکٹ بورڈ کو محنت کرنی چاہئے، یہ کرکٹرز آئندہ پاکستان کرکٹ کیلئے اثاثہ ثابت ہوسکتے ہیں۔معروف صنعتی شخصیت امین ہاشوانی نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود پاکستان اور ایران کے معاشی تعلقات بہتر ہونے چاہئیں، دونوں ممالک کو آپس میں تجارتی تعاون بڑھانا ہوگا، پاکستان کو توانائی کی ضرورت ہے تو ایران کے پاس توانائی کے ذخائر ہیں،دنیا میں پڑوسی ممالک آپسی تجارت بڑھارہے ہیں ہمیں بھی اپنے پڑوسیوں سے تجارت بڑھانی ہوں گی، ایران کے ساتھ معاشی تعلقات میں پاکستان کیلئے بہت پوٹینشل ہے۔  
تازہ ترین