آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 22؍ صفر المظفّر1441ھ22؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سب کچھ خرید لینے کی طاقت والے ملزم، ہر شعبے میں بیٹھے غلام، مذاقیا قانون، مہربان عدالتیں، چپڑاسیوں، کلرکوں کو چھتر مارنے جو گے رہ گئے ملکی ادارے، قدم قدم پر چور دروازے، ڈیلیں، ڈھیلیں، احتساب خواب ہو رہا، مایوس نہیں۔

مایوسی گناہ، مگر اخلاقیات لیس معاشرے میں اتنے اسپیڈ بریکرز اور ایسے اسپیڈ بریکرز کہ چند کلومیٹر چل کر ہی احتساب گاڑی کے انجر پنچر ہل گئے، نیب، ایف آئی اے، پولیس کی اہلیت، قابلیت، نیت آپ کے سامنے، تبدیلی سرکار کی آئے روز کی نالائقیاں، نوٹنکیاں آپ ملاحظہ کر رہے، اوپر سے بڑوں کے کیس، تاریخ پہ تاریخ، ریمانڈ پہ ریمانڈ، شہباز شریف کے 56کمپنی اسکینڈلز، بات تین چار کمپنیوں تک ہی پہنچ پائی۔

آصف زرداری کے منی لانڈرنگ، جعلی اکاؤنٹس کیس، کچھوے کی رفتار، ڈاکٹر عاصم کیس، 4سال ہوگئے، کچھ نہ بن پایا، خالص زیتون والے شرجیل میمن، کیسوں کو 2سال ہوگئے، کچھ حاصل وصول نہیں، نون لیگ کے 25، پی پی کے 10اور حکومتی 9کیس، صورتحال یہ، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے، 3پلی بارگین ہوئیں، کوئی بڑا نام نہیں، قوم نواز، زرداری سے برآمدگیوں کے انتظار میں، اب سوال، کوئی حل، جواب، جی ہے، احتساب عدالتوں کو ماڈل کورٹس کا درجہ دیا جائے، روزانہ کی بنیاد پر سماعت، مقررہ وقت کے اندر فیصلہ، یہ نہیں تو احتساب، وقت کا ضیاع۔

ایک شہزاد اکبر ہوا کرتے، روز خوش خبریاں سنایا کرتے، فلاں گھپلے، ڈاکے کا پتا چل گیا، فلاں ملک سے معاہدہ ہوگیا، فلاں کیخلاف گھیرا تنگ، فلاں کو بس ہتھکڑیاں لگنے والیں، فلاں باہر سے آنے ہی والا، مگر سال گزر گیا، پرویز مشرف کو تو چھوڑیں، اس حوالے سے تو کوئی کوشش ہی نہ ہوئی، اسحاق ڈار واپسی پر تو حکومت کئی پریس کانفرنسیں فرما چکی، کدھر ہیں اسحاق ڈار؟ حسن، حسین بدستور مفرور، کیوں نہ لایا جا سکا؟ شہباز شریف کے لختِ جگر سلمان شہباز، داماد علی عمران اشتہاری، کیا پیش رفت، جج ارشد ملک وڈیو اسکینڈل کے دو اہم کردار ناصر بٹ، میاں رضا بھاگ گئے، کیا کر لیا؟

اب ذرا یہ ملاحظہ ہو، جن عدالتوں سے نواز شریف کو سزا ہوئی، جن عدالتوں سے نواز شریف بری ہو سکتے ہیں، جو عدالتیں بار بار کہہ رہیں کہ اصل وڈیوز اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کرو، انہیں اصلی ثابت کرو اور میاں صاحب کو ریلیف دلواؤ۔

ان عدالتوں میں جب وڈیوز پیش کرنے اور اصلی ثابت کر کے میاں صاحب کی مشکلیں کم کرنے کا وقت آیا، بھائی شہباز انکاری ہوگئے، بیٹی مریم مکر گئیں، وڈیو منصوبہ ساز ناصر بٹ لندن جا کر خود ہی وڈیوز کا فرانزک کروا کر خود ہی انہیں اصلی بنا کر خود ہی فرانزک رپورٹ لے کر پاکستان ہائی کمیشن لندن پہنچ گیا، بھئی چلو مان لیا، وڈیوز اصلی، پاکستان تشریف لائیں، اسلام آباد ہائیکورٹ میں وڈیوز کو اصلی ثابت کریں اور لے جائیں میاں صاحب کو لندن ان کے ڈاکٹر لارنس کے پا س، نواز شریف پاکستائی ہائی کمیشن کی سنائی سزا پر اندر نہیں، انہیں پاکستانی ہائی کمیشن نے نہیں چھوڑنا، لندن فرانزک آڈٹ پاکستانی ہائی کمیشن میں دیئے جانے سے کچھ نہیں ہونا، بقول مریم نواز آپ وڈیو منصوبہ ساز، آپ کے پاس سب کچھ،آپ کو سب کچھ پتا، اب تو بقول آپ کے لندن فرانزک لیبارٹری بھی وڈیوز کو اصلی ثابت کر چکی تو لائیں، سب کچھ میاں صاحب کے وکیل خواجہ حارث کو پکڑائیں، عدالت میں سب کو جھوٹا ثابت کر دیں، ورنہ ان ڈراموں کا کیا فائدہ؟ اس طرح کے ڈرامے بہت ہو چکے۔

ویسے میاں صاحب نے بھی کیا قسمت پائی، حسن، حسین سگے بیٹے، بے گناہی کے گواہ، وقت آیا، عدالتیں کہہ کہہ تھک گئیں آؤ اپنے باپ کے حق میں گواہی دو مگر لختِ جگروں کے کان پر جوں بھی نہ رینگی، باقی چھوڑیں، بہن مریم دوسری بار گرفتار ہو چکیں، سگے بھائی ٹس سے مَس نہ ہوئے، دوسری طرف ناصر بٹ میاں صاحب پر جان چھڑکنے والے، وہ بھی ہمراہ وڈیوز، آڈیوز فرار، میاں صاحب بدستور اندر، کیا نفسانفسی کا عالم ہے۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی، کچھوا چال سے بھی سست احتساب کی، اندازہ کریں، یہاں کسی نے کسی کا کیا کر لینا، نیب نے سال 2018میں بیرونِ ملک ملزمان، غیر قانونی جائیدادوں، کالے دھن کی معلومات کیلئے مختلف ملکوں کو 50خط لکھے، صرف 5کے جواب آئے، وہ بھی معذرت نامے، 2018میں ہی بیرون ملک مفرور ملزمان کی حوالگی کیلئے 7تحریری درخواستیں کی گئیں، ایک کا بھی جواب نہ آیا، دنیا آپ کو لفٹ نہیں کراتی، انٹر پول آپ کو گھاس نہیں ڈالتا، لاغر کیس، کمزور انگریزیاں، نتیجہ یہی نکلنا تھا۔

جسٹس فائز عیسیٰ کیس، پھر نیا موڑ، جج صاحب نے 7رکنی لارجر بینچ پر بھی اعتراض فرما دیا، ان کے وکیل منیر اے ملک نے کہا ’’لارجر بینچ کے دو ارکان پر اعتراض، سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبران کے علاوہ باقی ججز پر مشتمل نیا بنچ بنایا جائے‘‘۔

بنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا ’’وہ عوامل بتانا پسند کریں گے، جن کی بدولت دو ججز کی جانبداری ثابت ہو رہی‘‘، منیر اے ملک بولے ’’اس بینچ میں دو ججز نے ممکنہ چیف جسٹس بننا، چیف جسٹس بننے سے ان کی تنخواہ بڑھے گی، مفاد کا تاثر ابھرتا ہے‘‘

جسٹس عمر عطا بندیال بولے ’’آپ نے تو عدلیہ کو مضبوط کرنا، آپ ججز پر ذاتی اعتراض کر رہے، یہ محض افواہوں کا دروازہ کھولنے کے مترادف، آپ چاہتے ہیں جس جج نے 2025ء میں چیف جسٹس بننا، وہ بھی مقدمہ نہ سنے‘‘، جسٹس بندیال نے اعتراض مسترد کرتے ہوئے آدھ گھنٹے کا وقفہ کیا اور پھر بینچ توڑتے ہوئے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا۔

کیا ملک ہے، نواز شریف کو 9فورمز پر صفائی کا موقع ملا، 10والیومز والی جے آئی ٹی رپورٹ خلاف، ایک گواہ، ثبوت نہ منی ٹریل اور جھوٹ، جعلسازی، کرپشن پکڑی گئی مگر آج بھی سچے، سندھو دیش تک پہنچے بلاول کے پاس ابھی تک اس ایک سوال کا جواب نہیں کہ ’’ان کے خرچے، ان کے کتوں کی خوراکیں اور انکے اور ایان علی کی ٹکٹوں کے اخراجات ایک اکاونٹ سے کیوں‘‘،

مگر بلاول بھی سچے، جسٹس فائز عیسیٰ کی نظر میں صدرِ مملکت، وزیراعظم، چیف جسٹس، سپریم جوڈیشل کونسل، حکومتی ادارے، مطلب پورا پاکستان جانبدار، صرف وہی صراطِ مستقیم پر، کیا ملک ہے، واقعی کیا ملک ہے۔