آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار20؍ صفرالمظفر 1441ھ 20؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کا دورہ مکمل کر کے یو این جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے نیو یارک پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا قیام پی آئی اے کے ملکیتی روز ویلٹ ہوٹل میں ہے جو یو این ہیڈ کوارٹر سے چند قدم کے فاصلے پر ہے۔ ایک ہفتے پر محیط دورے کے دوران وزیراعظم مختلف اجلاسوں میں شرکت کریں گے اور 27ستمبر کو یو این جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے جس میں وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی اس دورے کے دوران وزیراعظم کی معاونت کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان کی نیو یارک آمد سے قبل مشیر برائے اوور سیز پاکستانی زلفی بخاری اور وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے نیو یارک پہنچ کر وزیراعظم کے دورہ امریکہ اور کشمیریوں پر ظلم کے خلاف احتجاج کے حوالے سے متعدد کمیونٹی پروگرامز میں شرکت کی۔ بیرون ملک خصوصاً برطانیہ اور امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کے لئے زلفی بخاری انتھک محنت کر رہے ہیں جبکہ امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد طاہر جاوید، ڈاکٹر آصف محمود، ڈاکٹر عبداللہ ریار، سجاد برکی اور دوسرے بہت سے محب وطن پاکستانی امریکیوں کی ملک کے لئے خدمات قابل ستائش ہیں۔ پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے ایک نام سابق سفیر اور موجودہ ایمبسیڈر برائے انویسٹمنٹ علی جہانگیر صدیقی کا ہے جنہوں نے قلیل مدت میں اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر امریکی انتظامیہ اور پولیٹکل سسٹم میں پاکستان کا اصولوں پر مبنی موقف بیان کیا اور امریکہ کے سرد مہری پر مبنی رویے کو بڑی حد تک تبدیل کیا۔

نیویارک سٹی اور قرب و جوار میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد کئی دہائیوں سے مقیم ہے اور پاکستان کی سیاست سے بڑی دلچسپی رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ حکومتی اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاسی لیڈران کی اکثریت کا زیادہ قیام ٹرائی اسٹیٹ نیو یارک میں ہوتا ہے۔ عمران خان اپنا سیاسی کیریئر شروع کرنے سے قبل شوکت خانم اسپتال کی فنڈ ریزنگ کے لئے اکثر امریکہ خصوصاً نیویارک جاتے تھے اور اپنے دیرینہ دوستوں محمود اعوان، پرویز محمود، شوکت میکس اور سجاد برکی کے ہمراہ کینسر اسپتال کے لئے چندہ جمع کرتے تھے۔ میاں نواز شریف اور شہباز شریف بھی اکثر اپنے قریبی دوست اور کشمیری لیڈر کیپٹن خالد شاہین کے مہمان ہوتے تھے۔ سیاسی وابستگیوں کو بالاتر رکھ کر کیپٹن شاہین نے تمام پاکستانیوں کی خدمت کی اور کشمیر کاز کے لئے ہمیشہ متحرک رہے۔ ان کی خدمات اور تعلقات کو مدِنظر رکھتے ہوئے میاں برادران نے انہیں اوورسیز پاکستانی کمیشن کا سربراہ اور سینیٹر بنوایا۔

جہاں وزیراعظم سفارتی اور سیاسی محاذ پر مظلوم کشمیریوں کے لئے آواز اٹھا رہے ہیں وہاں نیویارک اور دوسرے شہروں میں مقیم پاکستانی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک بڑے احتجاج کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور اچھی پیشرفت یہ ہے کہ تقریباً تمام سیاسی جماعتیں کشمیری عوام کے لئے آواز اٹھانے کے لئے اکٹھی ہو گئی ہیں اور اس تاریخی احتجاج کے لئے بھرپور تیاریاں ہو رہی ہیں۔ امریکہ میں بھارتی کمیونٹی بہت منظم، سیاسی طور پر متحرک اور زیادہ وسائل کی حامل ہے جبکہ پاکستانی کمیونٹی نہ صرف غیر منظم بلکہ تمام اعتبار سے بہت پیچھے ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی امریکن روایتی طریقوں سے ڈالر کما کر پیچھے کوٹھیاں اور بیش قیمت گاڑیاں لینے کے بجائے نئی نسل کو تعلیم و تربیت پر پیسہ خرچ کریں اور امریکہ کے سیاسی نظام میں ہر سطح پر شمولیت اختیار کریں تاکہ ان کی آواز بھی سنی جا سکے۔

(صاحب مضمون سابق وزیر اطلاعات پنجاب ہیں)

ادارتی صفحہ سے مزید