آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ذیقعد 1441ھ 5؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

(گزشتہ سے پیوستہ)

دلّی سے اجمیر تک ریل کا سفر بہت طویل اور جان لیوا ہے۔ مجھے یہ خوش خبری سنائی گئی کہ اجمیر سے تھوڑی ہی دور کشن گڑھ کا نیا نکور ہوائی اڈہ بنا ہے، وہاں سے اجمیر تک پچیس تیس منٹ کا فاصلہ ہے۔ ابھی میں حیران ہو ہی رہا تھا کہ اجمیر سے دس قدم کے فاصلے پر بننے والے ہوائی اڈے کا نام اجمیر کیوں نہیں رکھا گیا، کشن گڑھ کا نام کیوں طے پایا، ذہن نے میرے اس سوال کے کئی الٹے سیدھے جواب دیئے جنہیں میں نے پیچھے پڑ جانے والی مکھی کی طرح جھٹک دیا اور اس لڑکی کو سوچنے لگا جو صبح ہی سے بے قرار ہوگی کہ آج وہ اپنے بڑے پاپا کو اڑتیس سال بعد دیکھے گی۔ میں نے ہوائی اڈے پر رضوانہ کے بھیجے ہوئے ڈرائیور کو تلاش کرتے ہوئے اسے یہ بتانے کے لئے فون کیا کہ میں آگیا ہوں۔ اسی وقت طے پایا کہ سینے سے لگ کر تھوڑا سا رو لینے کی کارروائی میرے آنے تک اٹھا رکھی جائے گی۔

میرے سامعین اور فیس بک کے دوست رضوانہ سے خوب واقف ہیں، جو نہیں ہیں ان کے لئے اس داستان کا دہرایا جانا اکتاہٹ کا سبب نہیں بنے گا۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں بی بی سی کے سننے والوں کے خطوں کا بہت مقبول پروگرام ’انجمن‘ پیش کیا کرتا تھا۔ اجمیر سے ایک سامع مشرف خان کا خط آیا، جس میں لکھا تھا کہ ہمارے گھر میں ساری ہی خوشیاں موجود ہیں لیکن ہمارے چمن میں اولاد کا پھول نہیں کھل سکا۔ آپ کے سننے والے اگر دعا کریں تو ممکن ہے کسی کی دعا قبول ہو جائے۔ ہم نے مشرف خان کا خط نشر کر دیا۔ بڑا پُراثر خط تھا۔ نشر کرکے ہم بھول بھال گئے۔ پورے ایک سال بعد ان ہی مشرف خان کا خط آیا، جس میں لکھا تھا کہ آپ کو یہ سن کر خوشی ہوگی کہ 23اگست کو میرے گھر چاند سی بیٹی پیدا ہوئی ہے اور میں نے اپنی بیٹی کا نام بی بی سی کی ایک اناؤنسر کے نام پر رضوانہ رکھا ہے۔ اتفاق سے میں انہی دنوں اپنے پروگرام ’کتب خانہ‘ کی تیاری کے لئے بھارت گیا اور ٹونک جارہا تھا کہ راہ میں اجمیر آیا تو میں وہاں اتر گیا اور لوگوں سے پتا پوچھتا ہوا مشرف خان کے گھر پہنچ گیا۔ میں نے ان کے دروازے پر دستک دی۔ انہوں نے دروازہ کھولا۔ میں نے کہا کہ میں رضا علی عابدی ہوں۔ کہنے لگے میں سمجھا نہیں۔ میں بتانے ہی والا تھا کہ وہ مجھ سے لپٹ گئے اور مجھے گھر میں لے گئے۔ بیٹھک کا دروازہ کھلا۔ سامنے مسہری پر ایک منّی سی، سانولی سی اور پیاری سی بچّی نیا لباس پہنے، بال جمائے اور آنکھوں میں بہت سا کاجل لگائے بیٹھی تھی۔ مشرف خان نے کہا یہ ہیں رضوانہ۔ ماشاء اللہ کہہ کر میں نے دونوں ہاتھ پھیلائے۔ کسی اجنبی کی گود میں بچے کم ہی آتے ہیں مگر اس نے بانہیں پھیلا دیں اور میری گود میں آکر اپنا سر میرے شانے پر رکھ دیا۔ بالکل یہی منظر آج پورے اڑتیس سال بعد دہرایا جانے والا تھا۔ اس کی سال گرہ میں تین دن باقی تھے۔

اس دوران ایک عجب واقعہ ہوا۔ 82ء میں یہ میرا چھ ہفتوں سے بڑا دورہ تھا اور میں پورے ہی بر صغیر میں گھومتا پھرا تھا اور گھر گھر گیا تھا۔ پورے تیس سال بعد میں نے اپنے کاغذ ٹٹولے تو 82ء کی یادیں تازہ ہو گئیں۔ میں نے وہ یادیں قلمبند کرنے کا فیصلہ کیا اور ساتھ ہی ایک اور فیصلہ کیا۔ میں نے سوچا کہ ٹیلی فون نے بہت ترقی کی ہے، کیوں نہ اُس وقت ملنے والے ان تمام لوگوں کو تلاش کروں اور دیکھوں کہ تیس سال بعد کون کس حال میں ہے۔ (’تیس سال بعد‘ کے نام سے کتاب بھی چھپ گئی ہے)۔ اب سنئے کیا ہوا۔ سب مل گئے، رضوانہ نہیں ملی۔ ان لوگوں کا پورا کنبہ اپنا علاقہ چھوڑ کر اجمیر کے کسی دوسرے علاقے میں آباد ہو گیا تھا جس کا مجھے علم نہ تھا۔ مشرف خان کے گھرانے سے میرا اس دوران کوئی رابطہ نہ رہا البتہ فیس بُک پر کبھی کبھار رضوانہ کی وہ تصویر ابھرتی رہی جس میں وہ میری گود میں چڑھی ہوئی اپنی گول گول آنکھوں سے کیمرے کو گھور رہی تھی۔

اب جو تیس سال بعد سب کی تلاش شروع ہوئی تو سبھی مل گئے، رضوانہ نہیں ملی۔ بہت لوگ دوڑائے، کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ مشرف خان کے ڈاک کے پتے پر خط ڈال دیا جائے، ڈاکیہ پرانا ہوگا تو سب جانتا ہوگا۔ یہی ہوا۔ ڈاکیے نے میرا وہ خط بڑی مستعدی سے اسی پرانے پتے پر پہنچا دیا۔ اس میں لکھا تھا کہ میں آپ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گیا ہوں۔ آپ لوگ کسی دوسرے علاقے میں منتقل ہو گئے اور مجھے خبر بھی نہیں کی۔ اب اگر آپ کے گھر کے موجودہ مکین میرا یہ خط آپ تک پہنچا دیں تو دلّی میں میرے دوست عبید صدیقی کو فون کر کے اپنا اتا پتا بتائیے۔ خط بھیج کر ہم سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے۔ ایک صبح ہمارے فون کی گھنٹی بجی۔ میری بیوی نے فون اٹھایا۔ ذرا دیر بعد اس کی آواز گونجی ’’رضوانہ مل گئی‘‘۔

پھر تو لندن اور اجمیر قریب آگئے۔ میں دوسرے تیسرے مہینے رضوانہ کو فون کرتا رہا اور اس کا حال یہ تھا کہ بڑے پاپا، بڑے پاپا کہتے کہتے اس کی زبان تھک جاتی ہوگی۔ اُس روز جب میں کشن گڑھ کے ہوائی اڈے سے اس کے گھر جا رہا تھا، اس نے ڈرئیور کو راستہ سمجھا دیا تھا۔ ٹیکسی اجمیر کی پُر پیچ اور ادھڑی ہوئی گلیوں سے گزر کر رضوانہ کی گلی میں پہنچی تو میں نے ڈرائیور سے پوچھا کہ تمہیں مکان کا نمبر معلوم ہے؟ اس نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں۔ میں نے پوچھا ’کیوں بھلا‘۔ اس نے کہا وہ سامنے کھڑی ہے آپ کی بٹیا۔

کار کے رکنے اور میرے باہر نکلنے کی دیر تھی کہ رضوانہ میرے سینے سے لگ گئی اور اُس وقت ہم دونوں کے آنسوؤں نے زمانے کی پروا نہیں کی۔ وہ میرا ہاتھ تھام کر اپنے بڑے سلیقے سے سجے دھجے گھر میں لے گئی۔ گیٹ کے ستون پر مکان کا نمبر لکھا تھا۔ اگلے روز سے سال گرہ کے مہمانوں کی آمد شروع ہو گئی۔ اس کے سسرال والے، میکے والے، سارے ہی چلے آئے اور جس وقت کیک کٹ رہا تھا اور سب مل کر ہیپی برتھ ڈے ٹو یو گا رہے تھے، رضوانہ نے مجھ سے کہا: یہ پہلی بار میری سالگرہ منائی جا رہی ہے، آپکی وجہ سے۔وہ کچھ دکھی سی لگی۔ معلوم نہیں کیوں۔