آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

عالمی بدمعاشوں سے اللہ بچائے

عالمی سطح کے بڑے بڑے بدمعاشوں سے دوستی اچھی نہ دشمنی، ان کے نیٹ ورک نے اس دنیا کے امن، خوشحالی کو اپنے پنجوں میں لے رکھا ہے، ہم مرثیہ کشمیر پوری دنیا کے سامنے درد بھرے انداز میں پیش کر رہے ہیں مگر یاد رہے کہ عالمی بدمعاشوں نے پہلے ہی سے جو طے کر رکھا ہے، ویسا ہی ہوتا رہے گا، یہ تیسری دنیا کس کی ایجاد ہے اور یہ مسلمانوں کے قتل عام کا سلسلہ کہاں جا تھمے گا۔ تیسری دنیا کے غربت زدہ انسانوں کی کمائی کون کھا رہا ہے، پیسہ ہمارا عالمی بینکوں میں تمہارا ہو گیا، آپ اتنے ہی اچھے ہیں تو اپنے بینکوں کو کیوں نہیں روکا، کہ منی لانڈرز کا ڈپازٹ پارک مت کرو، ترقی پذیر ملکوں کی اکانومی کو کون اوپر نہیں جانے دیتا، سب کو خبر ہے، جانے نجانے تیسری دنیا کا مفلس نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے، بالخصوص اکثر مسلم ممالک کی قیادتوں کو عالمی بدمعاشوں نے اپنا نمائندہ بنا رکھا ہے، کہاں سے آئے صدا لا الٰہ الا اللہ، کیا وجہ ہے کہ یو این او نے 70سالہ مسئلہ کشمیر کا حل پیش کرکے اس پر عملدرآمد نہیں کرایا؟ کبھی کسی نے غور کیا کہ دنیا بھر میں ان عالمی بدمعاشوں نے کیوں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا، اور کر رہے ہیں، اُن کے پاس بہانوں اور غداروں کی کمی نہیں، کیا ہمیں یقین ہے کہ مسئلہ کشمیر ہماری تابڑ توڑ سفارتی کوششوں سے حل ہو جائے گا؟ خود مسلم امہ اگر اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر ایک اجتماعی قدم آج بھی اٹھا لے تو مقبوضہ کشمیر کا حل پکے ہوئے پھل کی طرح کشمیریوں کی جھولی میں آن گرے گا، پر کتھوں؟ اگر ہم صاحبِ ایمان ہوتے تو ہم ہی غالب ہوتے یہ فرمان الٰہی ہے، کیا اقوام متحدہ کا ادارہ اپنی قراردادوں پر ہماری اس دوڑ دھوپ کے نتیجہ عملدرآمد کرا دے گا، یہ محض خیال، محال اور جنوں ہے، چین پاکستان کا سچا دوست ہے، اس کی تیز رفتار ترقی سے عالمی بڑی قوتیں خوفزدہ ہیں، اسی لئے پاک چین دوستی کو سبوتاژ کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں، تیسری دنیا کے ممالک اپنی الگ اقوام متحدہ قائم کیوں نہیں کر لیتے، موجودہ یو این او تو صرف عالمی بدمعاشوں کی خواہش پوری کرتی ہے۔

٭٭٭٭

اب نہیں تو کبھی نہیں

جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا: کشمیر پر اب صلح صفائی کا نہیں کارروائی کا وقت ہے۔ ایلس ویلز نے بیان دیا ہے کہ بھارت کشمیر میں پابندیاں ختم، سیاسی قیدی رہا، پاکستان سے کشیدگی میں کمی کر کے الیکشن کرائے۔ عمران خان ایغور کے بارے میں بات کیوں نہیں کر رہے‘‘۔ ایلس ویلز نے بہت درست کہا مگر مینگنیاں ڈال کر، جب مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو آزادی مل جائے گی تو پوری دنیا میں مسلم امہ کے مسائل بھی حل ہو جائیں گے، کشمیر، پاکستان کی شہ رگ ہے اور اپنی شہ رگ کو وا گزار کرانا اولین اور ناگزیر معاملہ ہے جسے طے ہو جانا چاہئے، ہمارا بھی خیال ہے کہ مسئلہ کشمیر پر صلح صفائی کا نہیں، کارروائی کا وقت ہے، اس تنازع کے ختم ہونے کے اثرات بہت دور دور تک جائیں گے۔ ہم سفارتی جنگ لڑ رہے ہیں جس کا جواب تاحال 5بار کی تالیوں کے سوا عالمی قیادتوں کی طرف سے کچھ اور نہیں آیا۔ کاش امریکہ اسرائیل سے بھی اس طرح کی بات کرتا۔ جب کچھ نہ کرنے کی نیت تھی تو بھارت پاکستان میں 70سال سے معلق مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لئے ایغور کا ذکر کیا گیا۔ کیا بھارت کے کشمیر میں مظالم جاری رکھنے پر یہ امریکی مہر تصدیق نہیں، ثالثی کا شوشہ بھی اسے ناممکن ہونے کے باعث چھوڑا جا رہا ہے۔ امریکہ کے ہم تو کام آتے رہے، وہ کبھی ہمارے کام نہیں آیا۔ یہی کڑوا سچ ہے۔

٭٭٭٭

اپنے ہی ووٹرز سپورٹرز ہوا دینے لگے

کرکٹ کے میدان میں تو ممولے کو شہباز سے لڑا کر ورلڈ کپ جیت لیا، حکومت میں آ کر خان صاحب اپنی ممولہ ٹیم کے ذریعے کیوں شکست سے دوچار ہیں، بندۂِ مفلس بلکہ بندہ متوسط بھی اس ڈر سے سو نہیں سکتا کہ بجلی کا بل کیا لے کر آئے گا، ایک مزدور خاتون نے بتایا لوگوں کےگھروں میں کام کر کے بمشکل دس بارہ ہزار کماتی ہوں، بجلی کا بل ساڑھے آٹھ ہزار آتا، ایک بلب ایک پنکھا چلتا شوہر بیروزگار، ایک طبقہ ایسا کہ ہر وقت کہتا رہتا ہے ’’نرخ بالا کن رَا ارزانی‘‘ نرخ اور بڑھائو کو ابھی بہت ارزانی ہے، کیونکہ وہ اپنے وسائل سے ماورا زندگی گزارتا ہے، جو افراد مقررہ آمدن رکھتے ہیں وہ اپنی آمدن نہیں بڑھا سکتے، ہم اعلیٰ افسران کی بات نہیں کرتے وہ تو یہ کرامت دکھاتے ہیں کہ ڈیڑھ لاکھ تنخواہ میں 20لاکھ آمدن والی زندگی بسر کرتے ہیں، ہم نے برسر اقتدار پارٹی کے بیشتر ووٹرز سپورٹرز سے پوچھا تو کہنے لگے ووٹ دے کر غلطی کی، مان لیا کہ اپوزیشن کا غوغا فقط شور شرابہ ہے مگر جو پی ٹی آئی پر جان نچھاور کرنے والے تھے وہ اب اتنی جان بھی نہیں رکھتے کہ جان دے سکیں، ایک سال گزرے بھی کئی دن گزر گئے مگر افق پر دور دور تک چاند کا نشان تک نہیں، بجلی ضرورت سے زائد ہو چکی ہے، نہ بل پر اثر پڑا نہ دل پر، اور لوڈ شیڈنگ بدستور جاری ہے، بل میں اجزائے ضربی کا سوال حل شدہ ملتا ہے، کیا ہی اچھا ہوتا کہ ٹیکسوں سے پاک ایک فلیٹ ریٹ ہوتا، جب انکم ٹیکس وصول کر لیا جاتا پھر یہ نیلم جہلم سرچارج کیوں؟ اس وقت کل بل کو دیکھ کر ساڑھے چوبیس روپے فی یونٹ وصول کیا جا رہا ہے، قبلہ کچھ کریں ورنہ لوگ اکلوتے دیانتدار کو بھی دیانتدار نہیں مانیں گے۔

٭٭٭٭

درخت جگائے بخت

....Oمودی نے اپنی تقریر میں کشمیر کا ذکر نہیں کیا،

کیوں کرتے، ہڑپ کر گئے اب تو ان کے پیٹ میں ہی جنگ لڑنا پڑے گی۔

....Oایک شخص نے تنگ آ کر دوسرے سے کہا اب تو یار کسی طرح گزارا ہی نہیں ہوتا کیا کروں، دوسرے نے کہا آزادی کشمیر کے لئے کوششوں پر گزارا کرو۔ 

....O بیوی کو میکے سے واپس لانے کے لئے شوہر سپریم کورٹ پہنچ گیا، ججز کے دلچسپ تبصرے۔

گویا ’’سپریم کورٹ‘‘ کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا۔

....Oآکسیجن کم ہوتی جا رہی ہے، اس لئے درخت کاٹنے کے بجائے درخت اگائو کیونکہ درخت جگائے بخت۔

٭٭٭٭