آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 14؍ربیع الثانی 1441ھ 12؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سفاکی اور بہیمانہ ظلم و ستم کو دو ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے مگر عالمی طاقتیں خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں۔ اس بات کا خدشہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھتے ہی کشمیریوں کی بڑی تعداد احتجاج کیلئے گھروں سے نکل پڑے گی اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بھارتی فوج بڑے پیمانے پر کشمیریوں کا قتل عام کرے گی۔ ایسی صورتحال میں کشمیری حریت پسند رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم اور مذموم عزائم بے نقاب کرنے کیلئے موثر آواز بن کر عالمی سطح پر ابھری ہیں۔ وہ جب بھی کشمیر کی حالت زار پر بات کرتی ہیں تو کشمیریوں کا دکھ اُن کے چہرے سے عیاں ہوتا ہے۔ گزشتہ دو مہینوں میں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جب مشعال ملک جدوجہد آزادی کی جنگ میڈیا پر لڑتے نظر نہ آئی ہوں۔ میری خواہش تھی کہ اُن کی جدوجہد آزادی کشمیر کی جنگ کا دائرہ کار کراچی تک بھی پھیلے۔ اس سلسلے میں، میں نے اور میرے بھائی اختیار بیگ نے مشعال ملک کو کراچی مدعو کرنے کا فیصلہ کیا۔ مراکش کے اعزازی قونصل جنرل کی حیثیت سے کراچی میں مقیم غیر ملکی قونصل جنرل سے میرے بہت قریبی مراسم ہیں، اِس لئے یہ طے ہوا کہ غیر ملکی سفارتکاروں اور بزنس کمیونٹی کی سرکردہ شخصیات کے ساتھ مشعال ملک کا انٹرکشن رکھا جائے تاکہ غیر ملکی سفارتکاروں کو بھارت کا مکروہ چہرہ دکھایا جاسکے۔

اس سلسلے میں مشعال ملک جب کراچی پہنچیں تو انہوں نے سب سے پہلے مزارِ قائد پر حاضری کی خواہش کا اظہار کیا جہاں وہ مقبرے کی جالیاں تھامے کافی دیر تک خاموش کھڑی رہیں۔ بعد ازاں انہوں نے بتایا کہ میں جب کراچی آئی تو خود کو بہت کمزور محسوس کررہی تھی کہ کشمیر کا یہ بڑا مشن کس طرح آگے بڑھائوں گی مگر یہاں آکر مجھے حوصلہ ملا اور ایسا لگا کہ قائداعظم نے مجھے ایک نئی طاقت عطا کردی ہے۔ مشعال ملک کے اعزاز میں ایک بڑی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں غیر ملکی سفارتکاروں اور بزنس کمیونٹی کی سرکردہ شخصیات کے علاوہ مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ تقریب سے میرے اور میرے بھائی اختیار بیگ کے علاوہ کمشنر کراچی افتخار شالوانی، ایڈمرل (ر) عارف اللہ حسینی، بزنس کمیونٹی کی سرکردہ شخصیت ایس ایم منیر، پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے یاسین ملک، آئی بی اے کی استاد ہما بقائی اور مشعال ملک کی والدہ ریحانہ ملک نے خطاب کیا جبکہ تقریب میں شریک غیر ملکی سفارتکاروں کی نمائندگی کرتے ہوئے ترکی کے قونصل جنرل تولگا یوکاک نے کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کے خلاف انتہائی پراثر تقریر کی اور مشعال ملک کو ترک حکومت کی جانب سے مکمل تعاون و حمایت کا یقین دلایا۔ آخر میں اپنے خطاب میں مشعال ملک نے کراچی مدعو کرنے پر میرا اور میرے بھائی اختیار بیگ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مزار قائد پر حاضری نے اُن میں ایک نئی روح پھونک دی ہے اور آج وہ کشمیر کی تحریک کا آغاز قائد کے شہر کراچی سے کررہی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے تقریب میں شریک غیر ملکی سفارتکاروں اور بزنس کمیونٹی کی سرکردہ شخصیات کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور مذموم عزائم سے آگاہ کرتے ہوئے اپیل کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور کشمیریوں کی نسل کشی رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

آج سے قبل کشمیر کاز کو ایسے لوگوں نے ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کیا جن کا کشمیر کاز سے کوئی تعلق نہیں تھا اور ان کی وجہ سے کشمیر کاز کو فائدہ پہنچنے کے بجائے نقصان پہنچا مگر یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کشمیر کا ایک پڑھا لکھا اور روشن خیال حقیقی چہرہ آزادیٔ کشمیر کی جدوجہد کو موثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کررہا ہے۔ وزیراعظم کچھ روز قبل ہی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کشمیر پر پرجوش تقریر کرکے وطن واپس لوٹے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وزیراعظم کی تقریر کے دوران اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی گیلری میں کشمیر کے اسٹیک ہولڈر آزاد کشمیر کے صدر یا وزیراعظم، کشمیر کمیٹی کے چیئرمین فخر امام یا مشعال ملک بھی وہاں موجود ہوتیں جس سے دنیا بھر کے کشمیریوں کو ایک مثبت پیغام ملتا۔

ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ کشمیر کی جنگ تقریروں اور ٹوئٹ سے نہیں جیتی جا سکتی بلکہ اس کیلئے ہمیں موثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ وقت آگیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی تمام سیاسی جماعتیں سر جوڑ کر بیٹھیں اور کشمیری قیادت بلاتاخیر ایک جلاوطن کشمیر حکومت کے قیام کا اعلان کرے جس میں پوری دنیا سے کشمیری قیادت کو شامل کیا جائے اور پاکستان کشمیریوں کی اس جلاوطن حکومت کو فوری تسلیم کرے۔ مجھے امید ہے کہ ترکی اور ملائیشیا جنہوں نے اقوام متحدہ میں کشمیر کے حق میں آواز بلند کی ہے، وہ بھی کشمیریوں کی جلاوطن حکومت کو تسلیم کرلیں گے جس سے نہ صرف کشمیریوں کو وادی کشمیر سے باہر عالمی سطح پر ایک پلیٹ فارم میسر آئے گا بلکہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کی گرفت بھی کمزور ہوجائے گی۔