آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍ صفر المظفر 1441ھ 21؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

قاضی فائز عیسیٰ کیس، صدر، وزیراعظم اور وزیرقانون کسی عدالت کو جوابدہ نہیں، درخواست ناقابل سماعت ہے، وفاق کا سپریم کورٹ میں جواب

اسلام آباد (رپورٹ: رانا مسعود حسین) وفاق نے سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے صدارتی ریفرنس کیخلاف دائر مقدمہ میں اپنا جواب داخل کروا دیا ہے۔

صدر، وزیراعظم اور وزیرقانون کسی عدالت کو جوابدہ نہیں،وفاق کا سپریم کورٹ میں جواب


اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے منگل کے روز جمع کروائے گئے جواب میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صدر،وزیراعظم اور وزیر قانون کسی عدالت کو جواب دہ ہی نہیںجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائر یہ ریفرنس نہ تو کسی بدنیتی پر مبنی ہے اور نہ ہی سپریم جوڈیشل کونسل کے دائرہ کار سے باہر بلکہ یہ قابل سماعت ہی نہیں ہے۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزارکی جانب سے بغیر کسی ثبوت کے اتنی دلیری کے ساتھ ریفرنگ اتھارٹی کے خلاف بدنیتی کا دعوی ٰ تو فاضل عدالت کے لئے قابل غور ہی نہیں ہے کیونکہ کسی کے خلاف بدنیتی کا کیس بنانے کے لئے کچھ مخصوص الزامات ضروری ہوتے ہیں اور انہیں عدالت میں ثابت کرنے کے لئے جواز ہونا لازم ہے۔

جواب میں درخواست کے پیراگراف 8کو غلط قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کردیا گیا ہے،جبکہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جس وقت یہ جائیدادیں خریدی گئی تھیں اس وقت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بیٹے کی عمر 23سال جبکہ بیٹی کی عمر 26سال تھی۔ درخواست گزار کا یہ موقف بالکل درست نہیں ہے کہ درخواست گزار اپنے بچوں اور اہلیہ کے لئے خریدی گئی جائیدادیں ظاہر کرنے کا پابند نہیں ہے۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کا تو کیس ہی یہی ہے کہ جائدادوں کی خریداری کے وقت درخواست گزار کے بچوںاور اہلیہ کے کوئی خود مختار ذرائع آمدن نہیں تھے اور وہ اس وقت انہی پر ہی انحصار کرتے تھے ، اس لئے ان کی جانب سے خریدی گئی جائیدادوں اور اس کے لئے خرچ ہونے والے فنڈز کے ذرائع کو ظاہر کرنا درخواست گزار کی قانونی ذمہ داری تھی۔

جواب گزار نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 5کے تحت ہر شہری آئین اور قانون پر عمل کرنے کا پابند ہے ،جبکہ ججوں کے حلف کے تحت ہر جج آئین ،قانون اور ججوں کے ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کا پابند ہے ،جواب گزار نے اپنے جواب میں صدر مملکت ، ور اعظم اور وزیر قانون کے لئے اس کیس میں استثنیٰ دینے کی استدعا بھی کی ہے۔

عدالت عظمیٰ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کئے گئے صدارتی ریفرنس کیخلاف دائر کی گئی15 آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران بنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے آبزرویشن دی ہے کہ ہم سپریم کورٹ کے وقار اور احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے اس مقدمہ میں کسی جواب کی بھی توقع نہیں کرتے ہیں، وہ کسی کو بھی جواب دینے کے لیے کہہ سکتی ہے، اس مقدمہ کے حقائق ماضی کے اس نوعیت کے مقدمہ کے حقائق سے یکسر مختلف ہیں، یہ وہ مقدمہ نہیں جس میں اعلیٰ عدلیہ کے کسی جج کو معطل کیا گیا ہو یا گھر میں نظر بند کردیا گیا ہو۔

کیس کو شفاف انداز میں چلائیں گے اورسپریم کورٹ اس مقدمہ کے ہر پہلو کا جائزہ لے گی جبکہ فاضل عدالت نے درخواست گزار ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکلاء کے پینل کے سربراہ، منیر اے ملک ایڈووکیٹ کی جانب سے سپریم جوڈ یشل کونسل کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب کا جواب الجواب داخل کروانے اور اپنے موکل سے ہدایات لینے کے لئے مہلت دینے کی استدعا پر کیس کی مزید سماعت سوموار 14اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل ، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس سید منصور علی شاہ ،جسٹس منیب اختر، جسٹس یحی ٰ آفریدی اور جسٹس قاضی محمدامین احمد پر مشتمل 10رکنی فل کورٹ بنچ نے منگل کے روز درخواست گزار ،مسٹر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ، پاکستان بار کونسل ،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ،سندھ ،پنجاب،کے پی کے اور بلوچستان بار کونسل سمیت 15مختلف فریقین کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت اس ریفرنس کے خلاف دائر کی گئی۔

درخواستوں کی سماعت کی تو اٹارنی جنرل انور منصور خان ، درخواست گزار ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکلاء کے پینل کے سربراہ ،منیر اے ملک ایڈووکیٹ اور دیگر وکلاء پیش ہوئے۔اٹارنی جنرل نے کہاکہ عدالت کے پچھلے حکم کے مطابق ایک ہفتے میں وفاق کی جانب سے جواب نہ جمع کروانے پر معذرت خواہ ہوں، میں دو دن پہلے ہی وطن واپس آیا ہوں، انہوں نے کہاکہ جواب تیار کرلیا گیا ہے جسے جلد ہی باضابطہ طور پر جمع کروا دیں گے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ ہم نے درخواست کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ بھی طے کرنا ہے۔جس پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ ہم نے اپنے جواب میں ان درخواستوں کے ناقابل سماعت ہونے کے حوالے سے بھی جواب دے دیا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ بینچ کے ایک رکن نے دو ہفتے بعد بیرون ملک جانا ہے، فی الحال ہم ان درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل سنیں گے ، دو ہفتے بعد ہمارے ایک برادر جج یہاں نہیں ہوں گے اس لیے چاہتے ہیں کہ اس معاملے کو تیزی سے نمٹایا جائے۔

انہوں نے اٹارنی جنرل کو کیس کی سماعت کے دوران اپنی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی تو انہوں نے کہاکہ میں اس ہفتے تو پاکستان میں موجود ہوں لیکن18 اکتوبر سے ایک ہفتے کیلئے یہاں نہیں ہونگا،جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ اس عرصے کیلئے آپ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کو عدالت کی معاونت کرنے کے لئے مقرر کردیں۔

انہوں نے منیر اے ملک کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ منیر ملک صاحب ویلکم بیک، آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ تو انہوں نے کہاکہ سماعت کے بعد بتائوں گا جس پر کمرہ عدالت میں ایک قہقہہ بلند ہوا۔

فاضل وکیل نے کہاکہ میرے موکل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان پر لگائے جانے والے الزامات بدنیتی پر مبنی تھے لیکن اٹارنی جنرل کی جانب سے کل سپریم جوڈیشل کونسل کے جمع کروائے گئے جواب میں بدنیتی کے الزام کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید