آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 21؍ربیع الاوّل 1441ھ 19؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ذہنی صحت کی بہتری کیسے ممکن ہے؟

پاکستان میں ذہنی بیماریوں کی شرح میں روز بروز ہوتا اضافہ افسوسناک ہے۔ 22کروڑ کی آبادی میں لاکھوں افراد مختلف وجوہات کی بنا پر نفسیاتی امراض کا شکار ہورہے ہیں۔ انسانی جسم میں یہ دماغ ہی ہے جو انسان کا سارا نظام کنٹرول کرتا ہے اور اگر انسان کا دماغ ہی کمزور ہوجائے تو اعصابی یا نفسیاتی ہی نہیں بلکہ جسمانی بیماریاں بھی جڑ پکڑنے لگتی ہیں۔ 

چنانچہ آپ کی ذہنی صحت کا بہتر ہونا بہت ضروری ہے۔ زیر نظر مضمون میں ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے مفید تجاویز دی جارہی ہیں ۔

صحت مند تعلقات کو فروغ دیں

امریکی ماہرین تنہائی کو ایک وبا تسلیم کرتے ہیںکیونکہ دنیا بھر میں بے چینی اور ڈپریشن میں مبتلا افراد کی بڑی تعداد تنہا ہے۔ ماہرین کے مطابق تنہائی انسان کی دماغی اور جذباتی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ تنہا لوگوں کے موٹاپےکا شکار ہونے یا سگریٹ نوشی کا عادی ہونے کے امکانات دیگر افراد کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔ 

ایک دوسری تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تنہائی انسان کی زندگی کے 15سال کم کرسکتی ہے ۔ لہٰذا ذہنی صحت کو بہتر بنانے کا سب سے بہترین طریقہ صحت مند اور مضبوط تعلقات کا قیام ہے۔ اجتماعی طور پر باہمی تعلقات اور رویوں کو ٹھیک کرنے سے ذہنی صحت بہتر بنائی جاسکتی ہے۔ لہٰذا مضبوط تعلقات کو قائم کرنا اپنی ترجیحات میں شامل کریں اور سماجی سرگرمیوں جیسے دعوتوں، محافل اور دیگر تقریبات میں بھرپور اندازسے شرکت کریں۔

ورزش

ورزش کا تعلق آپ کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت سے بھی منسلک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈپریشن ،انزائٹی اورذہنی تناؤ میں مبتلا مریضوں کو ماہرین باقاعدگی سے ورزش کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ورزش نیند کا معیار بہتر بناتی ہے اور انسان کو پرسکون رکھنے کے ساتھ ساتھ جسم میں ایسے ہارمون پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے، جو مزاج کو بہتر بناتے ہیں۔ 

لازمی نہیں کہ صحت مند رہنے کے لیےدن میں 4سے 5گھنٹے ورزش کے لیے وقف کیے جائیں بلکہ روزانہ صرف 30منٹ مختص کرتے ہوئے ذہنی اور جسمانی دونوں طرح سے صحت مند رہا جاسکتا ہے۔ صحت مند بالغ افراد کے لیے ماہرین ہفتے بھر میں 150منٹ کی ورزش یاچہل قدمی کو مثالی قرار دیتے ہیں ۔

خود کو چیلنج کریں

انسان کی زندگی میں سب سے بدترین چیز ٹھہراؤ اور آسودگی ہے۔ جو لوگ زندگی میں آگے بڑھنے یا خود کو چیلنج کرنے کے بجائے روٹین کے مطابق معمولات زندگی پر عمل کرتے ہیں، وہ صحیح طرح لطف اندوز نہیں ہوپاتے۔ 

زندگی کو کامیاب انداز میں گزارنے کے لیے ترتیب اورمقاصد کا تعین ضروری ہے۔ اپنے مقصد کو پورا کرنے کی لگن، صلاحیتوں کو بڑھا کر آپ کو پر اعتماد بناتی ہے اور ترقی و کامیابی کا احساس پیدا کرتی ہے۔ 

لہٰذاخود پر جمود طاری کرنے کے بجائے اپنی ذات کو چیلنج کرنا سیکھیں، اپنی زندگی پر نظر ثانی کریں اور کچھ ایسے اہداف مقرر کریں جو آپ کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیں مثال کے طور پر بہتر جسامت، کتاب کی اشاعت، بیرون ملک سفر کی منصوبہ بندی، ریٹائرمنٹ کے لیے پیسوں کی بچت وغیرہ۔ کچھ بھی نیا سیکھنے سے ذہنی صلاحیت بڑھتی ہے ۔

چند سوالات کے جواب لیں

دنیا بھر میں ڈپریشن اور انزائٹی میں مبتلا مریض اپنی بیماری سے لاعلم ہوتے ہیں۔ ذہنی بیماریوں میں بڑھتے اضافے کی ایک وجہ مرض سے لاعلمی بھی ہے۔ اپنے دماغ اور جسم کوہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ذہن کو متاثر کرنے والی علامات پر غور کریں۔ چند سوالات کے ذریعے آپ اپنی ذہنی صحت کا اندازہ لگاسکتے ہیں ۔

٭کیا آپ اب بھی ہر چیز میں ویسے ہی دلچسپی رکھتےہیں جیسے پہلے کبھی رکھتے تھے ؟

٭کیا آپ عام افراد سے زیادہ جلدی غصہ میں آنے، کنارہ کشی یا چڑچڑے پن کا شکار ہیں ؟

٭کیا آپ کی نیندکے اوقات اور معیار میں کمی واقع ہوئی ہے؟

٭کیا آپ کی بھوک میں کمی آگئی ہے ؟ وزن کم یا زیادہ ہوا ہے؟

٭کیا آپ میں کاموں کے لیے اتنی توانائی موجود نہیں جتنی ہونی چاہیے؟

نیند کو ترجیح دیں

اگر آپ مختلف کاموں اور بچوں کی ذمہ داریوں میں مصروف ہیںتو یقیناًآپ کے لیے بھرپور نیند لینا مشکل ہوجاتا ہوگا لیکن آپ کی ذہنی صحت کی بہتری کے لیے دن بھر میں کم ازکم 7سے9گھنٹے کی نیند لازمی ہے۔ 

نیند کی کمی بہت سے جسمانی اور ذہنی مسائل میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔تحقیق سے ثابت ہے کہ نیند کی کمی کے شکار افراد میں ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا خطرہ چار گنا زیادہ پایا جاتا ہے۔

اپنا خیال خود رکھیں

سیلف کیئر کی سطح ہر انسان میں مختلف ہوسکتی ہے لیکن یہ ایک عام سا تصور ہےجس کے لیے ضروری ہے کہ ایک انسان اپنی جسمانی ،ذہنی اور جذباتی صحت بہتر بنانے کے لیےخود پر توجہ دے۔ اگر آپ ذہنی طور پر صحت مند رہنا چاہتے ہیں تو دن بھر چاہے آپ مصروف رہیں لیکن آدھے سے ایک گھنٹہ اپنی ذات کے لیے وقف کریں۔ اس دوران آپ ورزش کرسکتے ہیں یا پھر نت نئے پلان ترتیب دے سکتے ہیں۔ 

ورزش کے لیے لازمی نہیں کہ آپ جِم جائیں بلکہ باغبانی، چہل قدمی اور صفائی کرنا بھی ورزش میں شامل ہیں۔ اپنی جسمانی سرگرمیوں کو متوازن غذا کے ساتھ ملا کر آپ ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند رہ سکتے ہیں۔ اس طرح آپ ظاہری اور باطنی دونوں طرح سے اچھا محسوس کریں گے۔

صحت سے مزید