آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاک بھارت کرکٹ شائقین کے دل ملنے لگے

پاک بھارت کرکٹ شائقین کے دل ملنے لگے
پاکستان نے آخری مرتبہ 2007ء میں بھارت کا مکمل دورہ کیا تھا

پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان مستقبل قریب میں کرکٹ روابط تو بحال ہوتے دکھائی نہیں دیتے لیکن کرکٹ شائقین کے دل ضرور ملنے لگے ہیں۔

پاکستان نے آخری مرتبہ 2007ء میں بھارت کا مکمل دورہ کیا تھا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دسمبر 2012ء میں بھارت میں ہی 3 ون ڈے اور 2 ٹی ٹوئنٹی پر مشتمل سیریز کھیلی جاچکی ہے۔

علاوہ ازیں بھارت نے آخری مرتبہ 2006ء میں پاکستان کا دورہ کیا تھا تاہم اکتوبر 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سیاسی محاذ پر حالات کشیدہ رہے ہیں جبکہ بھارت نے پاکستان سے کرکٹ روابط بھی منقطع کر دیے تھے۔

یہ بھی پڑھیے: کوچ مصباح الحق ٹیم کے کلین سوئپ پر حیران

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کے آخری میچ کے دوران ایک شائق نے تصویر شیئر کی، جس میں ایک شخص پلے کارڈ اٹھائے ہوئے ہے۔

اس پلے کارڈ میں بھارتی کپتان ویرات کوہلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ہم آپ کو پاکستان میں کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔

ساتھ ہی شائق نے اپنے ٹوئٹ میں یہ عبارت بھی لکھی کہ وہ بھارتی کپتان کے بہت بڑے مداح ہیں اور انہیں یہ امید ہے کہ وہ بھی پاکستان آکر کھیلیں گے۔

اپنے اس پیغام میں شائق نے بھارتی کپتان کو پاکستان کی جانب سے نیک تمنائیں اور پیار بھیجا۔

مذکورہ پیغام کو بھارتی کرکٹ شائقین کی جانب سے خوب پذیرائی ملی اور انہوں نے ان کی اس کاوش کو سراہا۔

ایک بھارتی شائق نے اس پیغام کے جواب میں کہا کہ ہم جلد ایسا ہوتا دیکھیں گے۔ 

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ بھی چاہتے ہیں کہ پاکستانی کھلاڑی بھارت میں آکر کرکٹ کھیلیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ ہمارے پڑوسی مداح کی جانب سے کیا خوب رویہ دکھایا گیا ہے، خدا ان کا بھلا کرے۔ 

اس صارف نے یہ بھی کہا کہ میں اپنے ملک میں موجود نفرت پھیلانے والوں کی جانب سے معذرت کرتا ہوں۔




ایک صارف نے جواب میں کہا کہ ضرور ایک دن آئے گا۔ 


ایک شخص نے تصویر پوسٹ کرنے والے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص کا کیا خوب رویہ ہے، پاکستان کے لوگ بہت سچے اور مثبت ہیں۔ 

اس کے ساتھ ساتھ ایک صحافی نے بھی اس ٹوئٹ کو سراہتے ہوئے کہا کہ میں نے 2006ء میں بطور اسپورٹس صحافی پاکستان کا دورہ کیا تھا اور وہاں 2 ماہ تک قیام بھی کیا تھا۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت وہاں حالات بہت اچھے تھے جبکہ پاکستان کے لوگ بھی بہت پیار کرنے والے تھے، ہمیں امن و ترقی کی امید رکھنی چاہیے۔ 

بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک اور صارف نے لکھا کہ ہم کرکٹ فینز ہوں گے کامیاب ایک دن۔


کھیلوں کی خبریں سے مزید