آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 19؍ صفرالمظفّر 1441ھ 19؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
روزآشنائی … تنویرزمان خان،لندن
آج کل عراق سے ہنگاموں اور ہلاکتوں کی خبریں آتی ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ اتنا ہنستا کھیلتا معاشرہ نیو ورلڈ آرڈر کے ٹھیکیداروں نے آن کی آن میں آسمان سے زمین پر ایسا پٹخا کہ ابھی تک زمین کے اندر دھنستا چلا جا رہا ہے۔ دنیا کے سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ملک کے عوام روٹی کو ترسنے لگے ہیں۔ قدیم ترین تہذیب کو گود میں لئے شہر بغداد جس کے سوداگر اور داستان گوئی کے قصے ہمارے ادب اور تاریخ کی زینت ہیں کوہ شہر اس تاریخ کو سامنے بٹھا کر بین ڈال رہا ہے۔ اس نے کبھی سوچا نہ تھا کہ اسے ایسے روند ڈال جائے گا۔ (WMD) Weapons of Mass Destruction کا ایسا شوشا چھوڑا گیا اور پھر اس نام پر ایسی چڑھائی کی گئی کہ نہ وہاں کوئی قوم رہی نہ ہی کوئی آزادی ،صدام حسین کی فسطائی آمریت اپنی جگہ ۔وہ عراقیوں کا اپنا اندورنی معاملہ تھا۔ یہ نیو ورلڈ آرڈر والے وہاں جمہوریت دینے گئے تھے اور جینے کے بنیادی انسانی حق سے بھی محروم کر ڈالا آج اگر وہاں بھوک اور بیروز گاری کے خاتمے کیلئے لوگ مظاہرے اور ہڑتالیں کرتے ہیں تو حکومت کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ ابھی حالیہ ہنگاموں میں سو سے زائد افراد حکومتی گولیوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ حالیہ ہنگامے اچانک رونما نہیں ہوئے بلکہ گزشتہ برس، عراق کے جنوبی شہر بصرہ

میں ہزاروں افراد آلودہ پانی پینے سے مختلف بیماریوں کا شکار ہوگئے تھے اور صاف پانی کی عدم دستیابی کے سبب سٹرکوں پر نکل آتے تھے اور گولیوں، ڈنڈوں اور قید و بندکا نشانہ بنے۔ اس مرتبہ عراقی فوج کے جنرل عبدالوہاب السوری کی فائرنگ نے معاملے کو یکدم بگاڑ دیا۔ جنرل السعدی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کرچکا ہے اور عراق میں موجود داعش کے خلاف جنگ میں بہت نمایاں کردار بھی اسی جنرل کے سہرے ہے۔ اسے ملازمت سے ہٹادیا گیا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ وہ فوج کےاندر شیعہ ملیشیا کا حمایتی بن چکا تھا۔ شیعہ ملیشیا ایران کے قریب سمجھی جاتی ہے لیکن ایران کے خلاف مغربی پروپیگنڈہ اس لائن کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ دراصل عراق میں ایک مختصر حکمران طبقہ خاصا مراعات یافتہ سمجھاجاتا ہے جبکہ عام آبادی خاصی پسماندہ زندگی گزارنے پر مجبور ہوچکی ہے اسی لئے عراقی عوام کرپشن اور نااہل حکومت کی بدانتظامی کے خلاف سٹرکوں پر نکل پڑے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے اسے پرتشدد بنادیا گیا۔ غربت زندگی کو فاقوں کا سفر کراکے موت کی طرف دھکیل رہی ہے۔ وہاں موسم گرما میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاپہنچتا ہے ۔ایسے میں دنیا کا سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک بغیر بجلی کے موسم کی شدت سے لڑنے پر مجبور ہے۔ عراق لاقانونیت کا عجیب نمونہ بن چکا ہے۔ وہاں مختلف اوقات میں کبھی کوئی سیاسی گروہ کبھی مذہبی کبھی کوئی علاقائی طاقتیں حکمرانی کے سسٹم کا کنٹرول سنبھالتی رہتی ہیں اور خوب لوٹ مچاتی ہیں۔ اپنے حواریوں کی جیبیں بھرتی ہیں۔ اسی لوٹ جھپٹ میں پبلک سروسز کے لئے کوئی رقم نہیں بچتی۔ لاقانونیت کے دور سے عراقی عوام کو احساس ہے کہ ان کی پرسکون زندگیوں پر ڈاکہ پڑچکا ہے۔ معاملات وزیر اعظم عبدالمہدی کے کنٹرول سے باہر ہیں۔ گزشتہ دنوں ہنگاموں کے دوران اس نے قوم سے خطاب میں اس بات کو تسلیم کیا کہ عوام کی شکایات بے بنیاد نہیں ہیںمگر وہ اسے کسی جادو کی چھڑی سے ٹھیک نہیں کرسکتے۔ عراق کی سیکورٹی فورسز کو اندرونی عوام کے احتجاج کو کنٹرول کرنے کا کوئی تجربہ نہیں ہے کیونکہ ان کی تربیت دہشت گردوں اور باغیوں سے لڑنے کی ہے جس کا مطلب ہےکہ وہ اپنے ملک کے احتجاجیوں کو بھی باغیوں کی طرح ہی ڈیل کرتے ہیں اور عوام قتل عام کی زد میں ہیں۔ شیعہ لیڈر مقتدل الصدر نے فوری اور قابلِ قبول اصلاحات کا مطالبہ کیاہے۔ ادھر پارلیمنٹ کے بائیکاٹ کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ احتجاج کا زور شیعہ اکثریتی علاقوں میں زیادہ ہے کرُد اور سنی علاقوں میں صورتحال مختلف ہے۔ ایران کے مظاہروں میں کسی ہاتھ ملوث ہونے کے حوالے سے کنفوژن ہے۔ کئی مظاہرین نے ایران کے خلاف پلے کارڈ بھی اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک دلچسپ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ سیکورٹی فورسز میں ایک بڑا حصہ فارسی بولتا ہے جو کہ ایران کی نیشنل زبان ہے۔ یہ فورسز مظاہرین کی طرف زیادہ پرتشدد رویہ اپنا رہی ہے۔ ایسی صورتحال میں حکومتی موقف یہ آرہا ہے کہ ان کی طرف سے سرکاری فورسزکو گولی چلانے کے کوئی احکامات نہیں ہیں۔ وہ اسے بیرونی ہاتھ قرار دے رہے ہیں۔ دراصل عراق کی سوسائٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔عراق لاقانونیت اور عالمی لوٹ مار کا مرکز بن چکا ہےجو کہ خطے میں امریکہ کے ایجنڈے کے عین مطابق ہے۔ ریاستی کنٹرول غائب ہے۔ امریکہ اور نیٹو فورسز نے تیل کی لوٹ مار اور خطے کے استحکام کے خاتمے کے نقطہ نظر سے عراق کا سماجی ڈھانچہ نیست و نابود کرکے رکھ دیا ہے۔ جہاں حقوق انسانی نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ ہم ہر وقت مسلم ورلڈ اور اسلامی اتحاد وغیر کا نام نہاد واویلا کرتے رہتے ہیں یہ ہم سب خود کو ایک دوسرے کو بیوقوف بنانے کیلئے کرتے ہیں ۔ ورنہ آج بشمول پاکستان کسی بھی مسلم ورلڈ کے ترم خان لیڈر کو اس نیو ورلڈ آرڈر کے خلاف ایک لفظ بھی بولنے کی جرأت نہیں۔

یورپ سے سے مزید