آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 22؍ صفر المظفّر1441ھ22؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

تحریر:ایم زیڈ حمید۔۔۔لندن
وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھر پور جذبے اور اعتماد کے ساتھ اپنا نقطہ نظر پیش کیا اور دلائل سے ایک وکیل، ایک اسلامی اسکالر اور منجھے ہوئے سیاستدان کی طرح دنیا کو پیغام دیا۔ اُنہوں نے اپنی خُدا داد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جرأتمندانہ انداز میں ہندوستان کا مکرو چہرہ بے نقاب کیا ہے۔ جس پر اُن کی بے حد پزیرائی ہوئی ہے۔ اُنہوں نے جس طرح اپنا کیس دنیا کے سامنے پیش کیا وہ قابل تعریف تھا اور اپنے خطاب میں ہندوستان کی دھجیاں اُڑا دیں جن چار نکات پر اُنہوں نے خطاب کیا وہ: ماحولیات ،ناموس رسالت، مودی اور کشمیر تھا۔ ماحولیات کے متعلق اُنہوں نے بڑے افسوس کے ساتھ کہا کہ دنیا کے امیر ترین ممالک دوسرے غریب ملکوں پر زور دیتے ہیں کہ ماحول کو آلودگی سے بچائیں اور یہ جانتے ہوئے کہ اُن کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ ان سے نمٹ سکیں۔ اُنہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا خود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتی۔ اُن کاخاص اشارہ امریکہ کی طرف تھا، ہم جانتے ہیں کہ امریکہ فیول اومیشن کم کرنے کی مہم پر رضامند نہیں ہے کیونکہ اومیشن کنٹرول کرنے سے اُس کی معیشت پر اثر پڑے گا اور وہ دنیا کو کہتا ہے کہ ماحول کو آلودگی سے بچائیں۔ وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ اس کے لئے

امیر ملکوں کو پہل کرنی ہو گی۔ناموسِ رسالت پر عمران خان نے صریحاً مغربی دنیا کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس کے ذمہ دار کچھ سیاستدانوں کو مورد الزام ٹھہرایا کہ وہ جان بوجھ کر انتشار پھیلانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں جس سے نفرت جنم لیتی ہے اور عام عوام جو حقائق سے بے خبر ہوتے ہیں اُنہیں استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے نفرت انگیز کلمات سے معاشرے میں تنگ نظری اور بد امنی پیدا ہوتی ہےجس سے لوگوں کے دل دکھتے ہیں اور پھر اس کا رد عمل ہوتا ہے ۔ اُنہوں نے نائن الیون کے حوالے سے بتایا کہ اُن خود کُش لوگوں میں سے کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا اور جہاں بھی کوئی دہشت گرد خود کُش حملہ کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ مسلمان دہشت گرد ہیں ۔حانکہ اسلام دوسرے مذ اہب کی طرح امن پسند مذہب ہے۔مسئلہ کشمیر پراُنہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کا وحشیانہ اور قاتلانہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ ہندوستان جو دنیا کا سب سے بڑی جمہوریت والا ملک مانا جاتا ہے اُس کا وزیر اعظم نریندر مودی آر ایس ایس کا سر غنہ ہے جو ہٹلر کی طرح فاشسٹ ہے اور وہ ایک قاتل ہے جس کے ہاتھ نہتے مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں جس نے گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل کرایا اور ڈیڑھ لاکھ مسلمانوں کو اُنکے گھروں سے بھگا دیا تھا ۔ کشمیر کے حوالے سے اُنہوں نے بتایا کہ وہاں پر ہندوستان کی 9 لاکھ افواج کشمیریوں پر مسلط کی گئی ہے جس نے ظلم و ستم سے ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا گیا ہے اور دس ہزار سے زیادہ نوجوان لڑکوں کو قید میں رکھا ہوا ہے،عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے اور ہر روز کشمیریوں کو شہید کیا جاتا ہے۔ باوجود اس کے پاکستان نے مودی کے ساتھ امن کیلئے بات چیت کرنے کی پوری کوشش کی لیکن وہ بیٹھنے کو تیار نہیںہے۔ کشمیر دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ بن چکا ہے۔ہندوستان اور پاکستان دونوں ایٹمی طاقتیں آمنے سامنےہیں۔ خُدا نخواستہ اگر جنگ ہوئی تو اُسکے اثرات نہ صرف ان دونوں ملکوں پر بلکہ ساری دنیا پر پڑیں گے۔ اسلئے ہر حالت میں دنیا کو مسئلہ کشمیر پر اقدام کرنے ہوں گے۔ اُنہوں نے یو این کو بھی یاد دلایا کہ کشمیر کا تنازع پچھلے72 سال سے لٹک رہا ہے ۔ اس پر کئی قراردادیں یو این او میں موجود ہیں اسلئے یو این او کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس معاملے کو سلجھائے، عمران خان نے دنیا کے ضمیر کو جھنجوڑتے ہوئے کہا’’ شاید اسلئے کہ ہندستان کے ساتھ دنیا کے معاشی اور اقتصادی مفادات وابستہ ہیں لیکن کیا دنیا معاشی مفادات کو انسانیت سے زیادہ اہمیت دیتی ہے ‘‘۔
وزیر اعظم عمران خان کے واپس وطن لوٹنے پر کچھ سیاستدانوں اور کچھ تجزیہ کاروں نے یہ شور مچانا شروع کر دیا کہ عمران خان نے کشمیر بیچ دیا ہے اور کچھ نے یہ کہا کہ کشمیر کے متعلق اپنا موقف بیان کرنے میں نا کام رہے ہیں۔ بلاول بھٹو نے بھی عمران خان کے دورہ امریکہ کے متعلق اسی نوعیت کے بیان دئیے ہیں کہ عمران خان نے کشمیر کا کیس خراب کر دیا ہے ۔بلاول بھٹو تنقید برائے تنقید کرنے کے عادی ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے ملک کی نمائندگی اور اپنا موقف بہترین اور دلیرانہ اندز میں پیش کیا۔ اُنہوں نے 45 منٹ میں ماحولیات، ناموسِ رسالت، مودی اور کشمیر کے موضوع پر خطاب کیا جسے دنیا نے سراہا۔ اس سے زیادہ وہ کیا کر سکتے تھے۔ تنقید برائے تنقید سے عمران خان کی تقریر اور اُس کی اہمیت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

یورپ سے سے مزید