آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ24؍ ربیع الاوّل 1441ھ 22؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

یہاں کسی نے کب سیکھا، جو یہ سیکھیں گے۔ جب اپنا فائدہ، عمران خان کی ہر تقریر، بیان، انٹرویو میں سانحہ ماڈل ٹاؤن، آج؟ جب اپنا فائدہ، قومی اسمبلی حلف نامہ تبدیلی، فیض آباد دھرنے پر سیاستیں، آج؟

جب اپنا فائدہ، طاہر القادری سیاسی کزن، مل کر جدوجہد، نظام بدلنے کے عہدوپیماں، آج؟ عمران خان تو آکسفورڈ کے پڑھے لکھے، مغرب، مغربی تہذیب کو جاننے، پہچاننے والے، عمران خان کی اپنی ذاتی زندگی فتوؤں سے جہنم بنی رہی، پلے بوائے، پاگل خان، طالبان خان، یہودی ایجنٹ، جمائما خان سے بشریٰ بیگم تک، کہانیاں، داستانیں، عمران خان کو تو اپنے فائد ے کیلئے مذہب کو سیڑھی نہیں بنانا چاہئے تھا مگر یہاں کسی نے کب سیکھا جو عمران خان سیکھتے۔

پیپلز پارٹی کو لے لیں، ذوالفقار بھٹو پر فتوے، نصرت بھٹو پر فتوے، بے نظیر بھٹو پر فتوے، بلاول بھٹو پر فتوے، تیسری نسل فتوے سہہ رہی، بے نظیر بھٹو کا قتل، انتہا پسندی کی انتہا پسندی، کیا پیپلز پارٹی کو مذہب کے نام پر مولانا کی سیاسی چھوڑیں، اخلاقی حمایت بھی کرنا چاہئے تھی مگر پیپلز پارٹی تحفظِ ناموسِ رسالت کی چھتری تلے مولانا کے اس آزادی مارچ کی حمایتی، جس آزادی مارچ کے ڈنڈا برداروں سے مولانا سلامی لے چکے، بات وہی، یہاں کسی نے کب سیکھا، جو بلاول، زرداری صاحب سیکھتے۔

مانا مسلم لیگ(ن) کی ڈکشنری میں مذہبی سیاست، سیاست میں مذہب سب جائز، مانا کہ نواز شریف کی پرورش ضیاء الحق نے فرمائی پھر بھی جب ابھی کل اپنی ہی حکومت میں مذہبی سیاست، نفرتی فتوؤں کی بدولت نواز شریف کو دینی مدرسے میں جوتا لگ چکا، شہباز شریف فتوے بھگت چکے، خواجہ آصف کے منہ پر سیاہی پھینکی جا چکی، ایاز صادق پر حملہ ہو چکا، احسن اقبال کو گولی لگ چکی، رانا ثناء اللہ پیروں، گدی نشینوں کے ہاں حاضریاں لگو ا چکے، زاہد حامد کا گھر سے نکلنا مشکل ہو چکا، لیگی وزراء کے گھروں پر حملے ہو چکے،

تب آج نواز شریف کا رنگین پنجابی فلم ’ووٹ کو عزت دو پارٹ ٹو‘ کی آڑمیں تحفظِ ناموسِ رسالت کی چھتری تلے ڈنڈا بردار اس ملیشیا کے سربراہ مولانا صاحب کا ساتھ دینا چاہئے جو اقوامِ عالم سے کہہ رہے ’’دنیا بحیثیت وزیراعظم عمران خان سے معاہدے نہ کرے‘‘، بات وہی کہ یہاں کسی نے کب سیکھا جو نواز شریف سیکھتے۔

مولانا صاحب کو دیکھ لیں، مذہبی پارٹی کے سربراہ ہو کر مذہبی انتہا پسندی کے شکار ہو چکے، قتل کے فتوے، خود کش حملے، دھمکیاں، کئی ساتھی مذہبی دہشت گردی کا شکار ہوئے مگر سب بھول بھُلا کر وہ پھر سے مذہبی سیاست کا الاؤ دہکائے بیٹھے۔ یہ خطرناک کھیل کیوں، اس لئے اقتدار میں آنا، عمران خان کو اقتدار سے نکالنا، ذاتی لڑائی مذہب کے نام پر، نتائج کتنے خطرناک، کوئی پروا نہیں، بات وہی کہ یہاں کسی نے کب سیکھا جو مولانا سیکھیں گے۔

اب آجائیں اس پر کہ آزادی مارچ ہوگا یا نہیں، صرف آزادی مارچ ہوگا یا دھرنا، لاک ڈاؤن بھی، آزادی مارچ، دھرنا، لاک ڈاؤن اسلام آباد میں ہوگا یا باقی شہروں میں بھی، مسلم لیگ شامل ہوگی یا نہیں، مسلم لیگ صرف آزادی مارچ میں شامل ہوگی یا آزادی مارچ، دھرنوں، لاک ڈاؤنوں میں بھی،

مولانا کو پی پی کی صرف اخلاقی حمایت حاصل ہوگی یا عملی مدد بھی، پی پی آزادی مارچ کا ساتھ دے گی یا دھرنوں، لاک ڈاؤنوں کا حصہ بھی بنے گی، سب اپوزیشن اکٹھی ہے یا نہیں، کون کس نکتے پر ساتھ، کسے کس نکتے سے اختلاف، بلاشبہ لیگیوں، پیپلیوں اور مولانا کا مشترکہ دشمن عمران خان، سب کپتان سے چھٹکارے کے متمنی لیکن لیگیوں سے پوچھو آزادی مارچ، دھرنوں، لاک ڈاؤنوں کا آغاز، اختتام کیا، ناکامی، کامیابی کا معیار کیا،

لیگیوں کو کچھ پتا نہیں، پی پی سے پوچھو، مولانا چاہ کیا رہے، صرف عمران خان کو ہٹانا، نہ ہٹے تو، نئے انتخابات نہ ہوئے تو، پیپلز پارٹی کو ککھ پتا نہیں، مزے کی بات، مولانا کی بڑھکیں، دھمکیاں،

اعصابی وار اپنی جگہ مگر ان کی اپنی جماعت میں کنفیوژن، کرنا کیا، کیسے کرنا، کس نے کرنا، کب کیا کرنا، ابھی تک کچھ طے نہ ہو سکا، اوپر سے اپوزیشن کے اندر اپوزیشن، بداعتمادیاں، بدگمانیاں، حالات یہ، کچھ باتیں نواز شریف تک پہنچائی جارہیں، کچھ چیزیں شہباز شریف سے چھپائی جارہیں، کچھ منصوبے زرداری صاحب تک پہنچائے جارہے، کچھ لائحہ عمل بلاول سے چھپائے جارہے، ڈبل مزے کی بات، سب کے سب بیک ڈور رابطوں میں بھی لگے ہوئے۔

اب کل کیا ہوگا، کل کیا ہوجائے، یہ علیحدہ بات لیکن یقین مانیے، اس گھڑی تک آزادی مارچ، دھرنے، لاک ڈاؤن، حکومت، اپوزیشن، عمران خان، مولانا صاحب، نواز شریف، شہباز شریف، بلاول، زرداری صاحب، اے پی سی، رہبر کمیٹی، پی پی، (ن)لیگ،

جمعیت علمائے اسلام، بھانت بھانت بیان بازیاں، متضادی تقریریں، لمحہ بہ لمحہ بدلتے مؤقف، اپنی حالت تو اس پاگل جیسی جس سے جب ڈاکٹر پوچھ بیٹھا، تمہاری یہ حالت کیسے ہوئی، لمحہ بھر سوچ کر پاگل بولا ’’ڈاکٹر صاحب مجھے تو رشتوں نے پاگل کردیا‘‘،

ڈاکٹر نے پوچھا، وہ کیسے؟ پاگل نے کہا ڈاکٹر صاحب میں نے ایک بیوہ عورت سے شادی کی، اس عورت کی ایک جوان بیٹی تھی، کچھ عرصے بعد میرے والد نے میری اس سوتیلی بیٹی کے ساتھ شادی کر لی، اب میرا والد، میرا باپ بھی اور میری سوتیلی بیٹی سے شادی کے بعد میرا داماد بھی،

جبکہ میں اپنے والد کا بیٹا بھی، اپنے والد کا سسر بھی، ہم ایک دوسرے کے سمدھی بھی، میری بیوی میرے والد کی بہو بھی، ساس بھی، سمدھن بھی، میری بیوی کی بیٹی میرے والد کی بیوی بھی، پوتی بھی، میری والدہ بھی، میں اپنی سوتیلی بیٹی کا والد بھی، بیٹا بھی، میری سوتیلی بیٹی میری بیوی کی بیٹی بھی، میری بیوی کی ساس بھی، ایک سال بعد میرے اور میرے والد کے ہاں ایک ایک بچہ پیدا ہوا، میرا بیٹا اب میرے والد کا پوتا بھی، سالا بھی، اسی طرح میرا بیٹا میری ماں کا پوتا بھی، بھائی بھی، دوسری طرف میرے والد کا بیٹا میرا بھائی بھی، میرا نواسہ بھی

، میرے والد کا بیٹا میری بیوی کا نواسہ بھی، میری بیوی کا دیور بھی۔۔۔ اور۔۔ اور۔۔۔ پاگل ابھی یہیں پہنچا تھا کہ ڈاکٹر کی ہمت جواب دے گئی، چیخ کرکہا، چپ۔۔۔چپ ہو جاؤ ورنہ میں بھی پاگل ہو جاؤں گا۔ یقین مانیے، ان دنوں اپنے سیاستدانوں کی آپس کی تہہ در تہہ رشتے داریوں نے اپنا حال بھی اس بھلے مانس پاگل جیسا کر دیا۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)