آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان کے معاشی حالات میں بتدریج بہتری آنا شروع ہو گئی ہے اور امید ہے کہ آنے والے عرصہ میں مہنگائی کی موجودہ صورتحال بھی اطمینان بخش سطح پر چلی جائے گی۔ اسٹیٹ بینک کے موجودہ گورنر ڈاکٹر رضا باقر بینک کی تاریخ کے نوجوان ترین مگر باصلاحیت اور بین الاقوامی سطح پر آئی ایم ایف کے ساتھ وابستگی کے حوالے سے اپنا مقام رکھتے ہیں۔ پچھلے دنوں انہیں جنگ کے معروف برانڈ ’’بریک فاسٹ وِد جنگ‘‘ کی خصوصی نشست میں اظہارِ خیال کا موقع ملا جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور خواتین شریک ہوئیں۔

لاہور کے ایچی سن کالج سے فارغ التحصیل نے سادہ اور عام فہم زبان میں یوں اظہار خیال کیا کہ نشست میں موجود ہر کسی کو ان کی باتیں سمجھ میں آتی گئیں۔ خاص کر انہوں نے کہا کہ مہنگائی کم کرنا اسٹیٹ بینک کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے جو بھی دبائو اس وقت محسوس کیا جارہا ہے وہ بتدریج کم ہونا شروع ہورہا ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ مالی سال کے دوسرے حصہ میں اس کے مثبت اثرات سامنے آتے جائیں گے۔ اس لئے کہ اسٹیٹ بینک نے سخت مانیٹرنگ پالیسی بنائی ہے، تاہم صورتحال سے پریشان ہونے کے بجائے تحمل اور صبر سے اچھے وقت کا انتظار کرنا ہوگا جو زیادہ دور کی بات نہیں ہے۔ اسٹیٹ بینک گورنر نے ملک میں ٹیکسوں کے نظام کے حوالے سے خوب کہا کہ ٹیکس دینے والے فائلرز کو ٹیکس نہ دینے والوں کو اس طرف راغب کرنے کے لئے بھی حکومتی اقدامات اور اصلاحات کا ساتھ دینا چاہئے۔ ان کی یہ بات درست ہے اس لئے ہماری رائے ہے کہ ملک میں اس وقت قومی محاصل میں اضافہ کے لئے سب کو اپنا اپنا حصہ ڈالنا چاہئے۔ یہ وقت اور حالات کا تقاضا ہے۔ ایک پاکستان میں نہ تو دو طرح کی معیشت اور معاشی نظام نہیں چلنے چاہئیں اس کے لئے ایف بی آر نے جن اقدامات کا آغاز کیا کہ دستاویزی معیشت کو زیادہ سے زیادہ یقینی بنایا جائے۔ اس سلسلہ میں سب حلقوں اور افراد کو اپنے حصہ کا ٹیکس ادا کرنا چاہئے۔ اس سلسلہ میں سب سے اہم کردار ہماری پارلیمنٹ اور اس کے اراکین ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں مالیاتی ڈسلپن لانے کے لئے اسٹیٹ بینک کی طرف سے جو بھی اقدامات تجویز کئے جاتے ہیں ان پر عملدرآمد سے کئی مفید نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

اس نشست میں گورنر رضا باقر نے کہا کہ آپ لوگ یقین کریں، ہمارا مستقبل روشن ہے، آنے والے دنوں میں ڈیجیٹل نیٹ سسٹم کا نظام عالمی بینک کے تعاون سے مزید وسیع ہونے والا ہے جس سے بینکوں کے صارفین کو اپنی پیمنٹ کے سلسلہ میں کافی آسانیاں ہوجائیں گی۔ گورنر بینک نے ہر سوال کا تسلی بخش جواب دیا تو ہمیں ان کے والد مرحوم سید رضا باقر یاد آگئے، وہ اچھے وقتوں کے قانون دان تھے اور سابق وزیراعظم ملک معراج خالد اور دیگر سیاستدانوں کے پرانے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ لاہور میں جب بھی کسی نشست میں جاتے تو پوری دلیل کے ساتھ اپنی بات کرتے اور سامنے والے صاحب وقت سے پہلے اپنی چائے کی پیالی ختم کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کر دیتے۔ اس نشست میں بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہوا کہ اسٹیٹ بینک گورنر پر بات کا دلیل کے ساتھ جواب دیا اور سب مہمان ہر طرح سے مطمئن نظر آئے۔

اللہ کرے اسٹیٹ بینک گورنر کی طرف سے دلائی جانے والی امید کہ مہنگائی کا دبائو بتدریج کم ہوتا جائے گا، وہ جلد سے جلد پوری ہو۔ اس لئے کہ امریکہ سمیت دنیا کے ہر ترقی یافتہ ملک میں حکومت اور ریاست عوام کو مطمئن کرنے کے لئے روٹی اور فیول کی قیمتوں کو ہر قیمت پر قابو میں رکھتی ہے تاکہ عوام کو قوت خرید متاثر نہ ہو اور عوام کا کچن کم از کم آسانی سے چلتا رہے۔ اللہ کرے ہمارے ہاں بھی یہ سوچ عملی شکل اختیار کرے اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے ہر حکمران جماعت پر دبائو ڈالنے کے رجحان میں کمی ہو سکے اور عام افراد کی زندگی میں سکون آسکے۔

ادارتی صفحہ سے مزید