فضائی آلودگی کی اوسط سے بلند سطح سیکڑوں اضافی ہارٹ اٹیک اور سٹروک کا سبب
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فضائی آلودگی کی اوسط سے بلند سطح سیکڑوں اضافی ہارٹ اٹیک اور سٹروک کا سبب

 لندن (پی اے) فضائی آلودگی کی اوسط سے بلند سطح اضافی سیکڑوں افراد کے دل کے دورے اور سٹروک کا سبب بنتی ہے۔ نئی ریسرچ میں انکشاف ہوا ہے کہ برطانیہ میں فضائی آلودگی کی سطح میں اچانک اضافے سے مزید سیکڑوں افراد کو دل کے دورے، سٹروک اور دمہ کے شدید حملے شروع ہوجاتے ہیں۔ کنگز کالج آف لندن کی ایک ٹیم نے لندن، برمنگھم، برسٹل، ڈربی، لیورپول، مانچسٹر، ناٹنگھم، آکسفورڈ اور سائؤتھمپٹن کے ڈیٹا کا جائزہ لیا۔ ریسرچ میں پتہ چلا کہ جن دنوں میں فضائی آلودگی کی سطح میں سالانہ اوسط سطح سے اچانک پچاس فیصد اضافہ ہو جاتا ہے تو ان دنوں میں اضافی 124 کارڈیک اریسٹ ہوتے ہیں۔ این ایچ ایس انگلینڈ کے سربراہ سائمن سٹیونز نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ہیلتھ ایمرجنسی کا ثبوت ہے۔ ان اعداد و شمار کی بنیاد ایمبولینس سروس کال ڈیٹا ہے۔ اس میں ان مریضوں کو شامل نہیں کیا گیا جو پہلے ہی عارضہ قلب کی وجہ سے ہسپتالوں میں زیر علاج تھے۔ ریسرچ میں سامنے آیا کہ فضائی آلودگی کی سطح میں اچانک اضافے کے صحت پر مختصر مدتی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں اوریہ صورتحال ہیلتھ رسک کو بڑھاتی ہے۔ یورپ میں ہر سال فضائی آلودگی سے 500000 افراد پری میچور موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یورپ میں اموات میں فضائی آلودگی کا کردار ٹاپ پر ہے۔ برطانیہ کے 9 شہروں میں جن دنوں فضائی آلودگی کی سطح معمول سے زیادہ ہوتی ہے تو ان دنوں میں ہسپتالوں میں معمول سے 231 افراد زیادہ ہسپتالوں میں داخل کرائے گئے اور ان مریضوں کے داخلے کا سبب سٹروک تھا۔ علاوہ ازیں ایستھما ٹریٹمنٹ کیلئے اضافی 193 بچوں اور ایڈلٹس کو ہسپتالوں میں لایا گیا۔ کنگز کالج لندن کے انوائرمنٹل ریسرچ گروپ کی ڈاکٹر ہیتھر والٹن نے کہا کہ فضائی آلودگی کے صحت پر ضرر رساں اثرات کی وسیع تر رینج سامنے آئی ہے۔ فضائی آلودگی میں کمی کیلئے ہماری پالیسیوں کا محور متوقع زندگی پر اثرات سے منسلک ہے۔ فضائی آلودگی کا صحت پر نقصان دہ اثرات سے گہرا تعلق ہے۔ لندن میں فضائی آلودگی کی بلند سطح والے دنوں میں اوسطاً 87افراد اضافی طور پر کارڈیک اریسٹ کا شکار ہوئے۔ 144افراد سٹروک کے اضافی شکار جبکہ 74 بچے اور 30 ایڈلٹس اضافی ایستھما علاج کیلئے ہسپتالوں میں لائے گئے۔ برمنگھم میں فضائی آلودگی کی اوسط سے زیادہ سطح کے دنوں میں عارضہ قلب کے 12 اضافی مریض سٹروک کے 27 اضافی مریض اور ایستھما کے 26 مریض لائے گئے۔ برسٹل، لیور پول، ناٹنگھم، آکسفورڈ اور سائوتھمپٹن میں فضائی آلودگی کی سطح میں اضافے کے دنوں میں ہارٹ اٹیک کے 2سے 4اضافی مریض سٹروک اور ایستھما کے 14مریض ہسپتالوں میں داخل کرائے گئے۔ صرف ڈربی میں کوئی واضح اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ ریسرچ میں کہا گیا کہ فضائی آلودگی کی بلند سطح سے منسلک طویل مدتی خطرات میں پھیپھڑوں کے مسائل اور کم وزن بچوں کی پیدائش بھی شامل ہے۔ کنگز کالج کی ریسرچ میں یہ بھی تجویز کیا گیا کہ سروے کے مطابق نو شہروں میں 20 فیصد فضائی آلودگی کم کرنے سے پھیپھڑوں کے کینسر کے واقعات میں 5 سے 7 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ این ایچ ایس سربراہ سٹیونز نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ کلائمیٹ ایمرجنسی درحقیقت ہیلتھ ایمرجنسی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی کی وجہ سے یہ اموات ہو رہی ہیں، جن سے بچا جا سکتا ہے۔ 2025 یا 2050 میں نہیں بلکہ ابھی مل کر اس سلسلے میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ اعداد و شمار بدھ کو ہونے والے انٹر نیشنل کلین ائر سمٹ سے قبل شائع ہوئے ہیں، اس سمٹ کی میزبانی میئر لندن صادق خان اور مقامی حکومت کے رہنماؤں کے یوکے 100 نیٹ ورک کر رہے ہیں۔ یوکے 100 کے ڈائریکٹر پولی بلنگٹن نے کہا کہ پبلک ہیلتھ کرائسس سے نمٹنے کیلئے مقامی حکومت کو اضافی اختیارات اور وسائل دینے کی ضرورت ہے۔ ڈپارٹمنٹ آف انوائرمنٹ فوڈ اینڈ رورل افیئرز نے کہا کہ وہ ہوا کی کوالٹی کو بہتر بنانے اور آلودگی سے نمٹنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی قانون سازی میں فضائی آلودگی کے اہم ذرائع سے نمٹنے کیلئے مقامی حکومتوں کے اختیارات میں اضافہ ہوگا۔ ہم ٹرانسپورٹ سے خارج ہونے والے دھوئیں سے نمٹنے کیلئے پہلے ہی سخت اقدامات کر رہے ہیں اور ہوا کو آلودگی سے پاک کرنے کیلئے 3.5 بلین پونڈ کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

یورپ سے سے مزید