آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

لیاقت مظہر باقری

صادق ابھی کمسن ہی تھا کہ اس کے والد ایک ٹریفک حادثہ میں انتقال کر گئے۔ ایسے کڑے وقت میں کہ جب کمانےوالا کوئی نہیں تھا کسی قریبی یا دورکے رشتہ دار نے ان کی باز پرس کی نہ ہی کوئی خبر لی۔ اس کی ماں نے محلے والوں کےکپڑے سلائی کر کے تنگ دستی کے عالم میں گزارا کرتے ہوئے اپنی حیثیت کے مطابق تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کےلئے صادق کو ایک سرکاری اسکول میں داخل کروا دیا۔ 

ماں کے پاس اتنے پیسے نہیں تھےکہ وہ روزانہ اسےاسکول جاتے ہوئے چند روپے بطور جیب خرچ دیتی، تاکہ وہ بھی دیگر بچوں کی طرح ہاف ٹائم میں اسکول کی کینٹین سے چیزیں خرید کر کھا سکے۔ گھر کے کرائے اور روز مرہ اخراجات کے باعث وہ بھی مجبور تھی، تاہم جب کبھی ماں پیسے دے دیتی صادق خوشی خوشی اسکول جاتا، جب کہ جیب خرچ کے بغیر وہ انتہائی مایوسی و بے دلی کے ساتھ جاتا۔ ہاف ٹائم میں وہ بچوں کو چیزیں کھاتے ہوئے للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتا ،بعض مرتبہ اپنے سے چھوٹے بچوں کی چیزیں چھین کر کھا لیتا۔ 

یہ سلسلہ آخر کار کتنے دن چلتا، کسی نے صادق کی ان حرکتوں کی شکایت پرنسپل تک پہنچا دی، انہو ں نے صادق کو اپنے آفس بلا کر باس پرس کی۔ اس کی خاموشی پر وہ غصے میں آگئے گرج دار آواز میں اسے آفس سے نکالتے ہوئے کہنے لگے ’’کل اپنے والد یا والدہ کو ہمراہ لے کر آنا ورنہ تمہارا نام اسکول سے خارج کر دیا جائے گا۔‘‘ صادق چھٹی کے بعد گھر پہنچا صحن کی دیوار کے قریب لگے نیم کے درخت کے سائے میں بچھی چارپائی پر بیٹھ گیا۔ ماںجب باہر آئی تو دیکھا کہ صادق کمرےکےبجائے باہر سو رہا ہے، اس نے صحن کے کونے میں بنے باورچی خانے پر نظر ڈالی ، یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ صادق نے کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔ 

ماں نے اس کی طبیعت جاننے کے لئے کہ کہیں بخار تو نہیں ہے پیشانی پر ہاتھ رکھا۔ بخار تو نہیں تھا۔ اس دوران صادق آٹھ بیٹھا۔ ماں نے پوچھا ’’بیٹا! کیا بات ہے کھانا کیوں نہیں کھایا؟‘‘۔ ماں اس کی افسردگی کو بھانپ گئی کہ اسکول میں ضرور کوئی بات ہوئی ہے۔ ماں نے جیسے ہی پیار سے سرپر ہاتھ پھیرا اس کی آنکھوںمیں آنسو امنڈ آئے، اس نے اپنی غلطی اور ناپسندیدہ حرکتوں کا اقرار کرتے ہوئے تمام واقعات ماں کو بتا دیئے۔ صادق ماں کے ساتھ پرنسپل کے آفس جانے کو تیار نہ تھا، تاہم ماں نے اسے سمجھا بجھا کر اسکول لے جانے پر آمادہ کر لیا۔ 

صادق کی والدہ نے تمام حقائق سے پرنسپل صاحب کو آگاہ کیا ساتھ ہی ساتھ اس کو اپنی غلطی پر شرمندہ ہونے اور سچ سچ تمام شرارتوں کا اعتراف کرنےکے بارےمیں بھی بتایا۔ پرنسپل صاحب صادق کی بیوہ ماں کی درد بھری داستان سن کر بے حد متاثرہوئے۔پرنسپل صاحب نے صادق سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ’’تمہاری والدہ تمہارا مستقبل سنوارنا چاہتی ہے اور تم ان کے خوابوں اورخواہشات کے الٹ کام کر کےنہ صرف انہیں شرمندہ کر رہے ہو بلکہ ان کی امیدوں پر پانی پھیر رہےہو۔‘‘ صادق پر ان کی ڈانٹ اور نصیحت کااس قدر اثرہوا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ وہ روتے روتے اپنی ماں سے لپٹ گیا، وہ روتا جاتا اورکہتا جاتا ’’سر! میں آئندہ ایسی حرکتیں دوبارہ نہیں کروں گا۔ میں وعدہ کرتاہوں کہ اپنی ماں کا سہارا بنوںگا اور ان کے خوابوں کو پورا کروں گا‘‘۔

پرنسپل صاحب نے صادق کو کچھ دیرکےلئے آفس سے باہر جانےکو کہا ، اس کے باہر جانے کے بعد انہوں نےاس کی والدہ سے کہا ’’بہن! صادق ابھی آٹھویں کلاس میں ہے میٹرک اور اس سے آگے کی تعلیم کا بوجھ اٹھانا آپ کیلئے بہت مشکل ہو گا، چنانچہ اسکے تمام تعلیمی اخراجات میں پورے کروں گا، آپ اپنے گھر کی باقی ماندہ ضروریات پوری کریں۔ 

میں ایک گارمنٹ فیکٹری کا پتہ دے رہا ہوں وہاںآپ کو ملازمت مل جائے گی‘‘۔ صادق کی والدہ نے پرنسپل صاحب کا شکریہ اداکرتے ہوئے گزارش کی کہ جناب تعلیمی اخراجات بھی میں یہ ہی پورے کروں گی، آپ نے ملازمت دلوانے کی جو مجھ پر کرم نوازی کی ہے اس کے لئے میں تہہ دل سے آپ کی مشکور ہوں۔‘‘

پرنسپل صاحب کہنے لگے،’’ آپ مجھے حقوق العباد جیسی عظیم نیکی سے محروم نہ کریں‘‘۔

صادق نے اس کے بعد تمام برائیوں سے توبہ کر لی جونادانی و ناسمجھی کے باعث اس سے سر زد ہوئیں تھیں۔ پرنسپل صاحب نے شام کے وقت اسے روزانہ اپنےگھر آنے کی ہدایت کی، تاکہ جن مضامین میں کمزور ہے، اس میں بہتری لائی جا سکے۔ 

صادق نے خوب محنت کر کے آٹھویں جماعت میں اول پوزیشن حاصل کی، اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رکھا۔ ان واقعات کے چندبرس بعد پرنسپل صاحب اپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہو گئے، تاہم انہوں نے اپنے وعدے کے مطابق صادق کے تعلیمی اخراجات میں کوئی کمی نہ آنے دی ، صادق نے بھی پوری محنت لگن اور شوق کےساتھ تعلیم کے میدان میں خوب ترقی کی یوں وقت گزرنے کےساتھ ساتھ میٹرک کے بعد ایف ایس سی میں بھی اس نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹاپ کیا۔ 

یوں اچھے نمبروں کےحصول کی بنیاد پر اسے میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔ صادق کی والدہ پرنسپل صاحب اور ان کی اہلیہ جوکہ اولاد کی نعمت سے محروم تھے کے لئےوہ ایک عظیم اور پر مسرت دن تھا جب صادق ڈاکٹر بن گیا۔

بچوں کا جنگ سے مزید