آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار10؍ ربیع الثانی 1441ھ 8؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’نیرہ نور‘ فنونِ لطیفہ کے طلبا کیلئے انسٹیٹیوشن کا درجہ رکھتی ہیں

ٹیکنالوجی کے میدان میں تیز رفتار ترقی نے کئی نئے شعبہ جات کو جنم دیا ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ سائنس سے دور رہنے والی قومیں ترقی کی اس دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گی۔ ہرچندکہ یہ بات بالکل دُرست ہے اور اس سے انکار ممکن نہیں، تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مستقبل میں لبرل آرٹس کے مختلف شعبہ جات کی اہمیت و افادیت ختم ہوجائے گی۔ مستقبل دراصل تعلیم کے ان دونوں اہم شعبہ جات (سائنس اور لبرل آرٹس)کے لیے مساوی طور پر تابناک ہے۔ 

ایک طرف جہاں، ٹیسلا اور اسپیس ایکس جیسی مستقبل بین کمپنیوں کے بانی ایلن مسک ایک ایسے مستقبل کی بات کرتے ہیں، جو مکمل طور پر خودکار اور روبوٹک ہوگا تو دوسری جانب دورِ حاضر کی سب سے بڑی ای کامرس کمپنی علی بابا کے بانی جیک ما، والدین پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو ایسا ہنر سکھائیں اور ان میں وہ خصوصیات پیدا کریں، جس کا متبادل کمپیوٹر یا روبوٹ کبھی بھی نہ بن پائے۔ 

یقیناً جیک ما کا اشارہ لبرل آرٹس کے مختلف ذیلی شعبہ جات جیسے فنونِ لطیفہ، ابلاغ ، لیڈرشپ اور پیچیدہ باہمی اور ادارہ جاتی مسائل حل کرنے جیسی صلاحیتوں اور ہنر کی طرف ہے۔

موسیقی، لبرل آرٹس کا ایک اہم ذیلی شعبہ ہے۔ کیریئر کے لحاظ سے بھی موسیقاری اور گلوکاری کے میدان میں ترقی کے شاندار مواقع پائے جاتے ہیں۔ ایک اور بات جو موسیقی کو دیگر فنون سے منفرد بناتی ہے، وہ اس کا عالمگیر ہونا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ موسیقی سرحدوں کی پابند نہیں ہوتی، دنیا کے ایک کونے میں گایا ہوا گانا پلک جھپکتے ہی ہر کونے میں پہنچ جاتا ہے۔

پاکستان نے شعبہ موسیقی میں کئی لیجنڈ پیدا کیے ہیں، جو آج کےنوجوان گلوکاروں اور آنے والے وقتوں میں شعبہ موسیقی میں قدم رکھنے کے خواہاں فنکاروں کے لیے ’کیس اسٹڈی‘ اور ’انسٹیٹیوشن‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی زندگیوں اور فنی سفر کو جان کر وہ اس شعبہ کے بارے میں بہت کچھ جان سکتے ہیں۔

پاکستانی موسیقی کا ایک درخشاں ستارہ، خصوصاً 70ء،80ء اور 90ء کی دہائی میں پاکستانی موسیقی کو کئی لازوال غزلیں، فلمی اور ملی نغمے دینے والی سدا بہار فنکارہ نیرہ نور کا شمار بھی ایسی ہی گلوکاراؤں میں ہوتا ہے، جو اپنی شخصیت اور فن میں ایک ’انسٹیٹیوشن‘ کا درجہ رکھتی ہیں۔ 3نومبر 1950ء کو پیدا ہونے والی نیرہ نور نے موسیقی کی کبھی کوئی باقاعدہ تربیت حاصل نہیں کی تھی۔ 

یہ 1968ء کی بات ہے، جب نیرہ نور، نیشنل کالج آف آرٹس میں منعقدہ’سالانہ عشائیہ‘ میں دوستوں اور اساتذہ کے لیے شوقیہ گیت پیش کر رہی تھیں۔ وہاں پروفیسر اسرار نے ان کے اندر گلوکاری کے جوہر کو پہچانا، جس کے بعد انھیں یونیورسٹی سے ریڈیو پاکستان پروگرامز میں باقاعدہ طور پر اپنی گلوکارانہ صلاحیتیں دِکھانے کی پیشکش کی گئی۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب موسیقار ارشد محمود اپنے دوستوں کے ایک گروپ کے ساتھ گٹار بجایا کرتے تھے۔ 

ایک دن انھیں این سی اے میں ایک کنسرٹ کیلئے مدعو کیا گیا، جہاں انھوں نے نیرہ نور کو لتا منگیشکر کا گانا ’او سجناں برکھا بہار آئی‘ گاتے سُنا۔ ارشد محمود کو نیرہ نور کی گلوکارانہ صلاحیتوں نے بہت متاثر کیا اور اس طرح ان دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ کام کا آغاز کیا۔ 1971ء تک نیرہ نور، ریڈیو پاکستان کے ڈرامہ سیریلز اور اس کے بعد فلموں کیلئے پلے بیک سنگنگ کا آغاز کرچکی تھیں۔ اسی دوران انھوں نے مرزا غالب اور فیض احمد فیض کی غزلیں بھی گائیں، جبکہ انھیں کیریئر کی ابتداء میں ہی شہنشاہ غزل مہدی حسن کے ساتھ گانے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

نیرہ نور نے اپنی گائیکی کے ذریعے اپنے ورسٹائل ہونے کا ثبوت دیا، چاہے وہ فلموں کیلئے رومانوی گانے ہوں؛ تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا (فلم گھرانہ، بول کلیم عثمانی)، تو ہی بتا پگلی پَون (فلم پھول میرے گلشن کا)، اتنا بھی نہ چاہو مجھے (فلم پردہ نہ اُٹھاؤ)، روٹھے ہو تم، تم کو کیسے مناؤں پیا (فلم آئینہ)، یا پھر غمگین گانے؛ آج غم ہے تو کیا (فلم مستانہ)، ٹوٹ گیا سپنا (فلم صبح کا تارہ) سبھی کو انھوں نے کمال خوبصورتی سے گایا۔ 

نیرہ نور کی گائی ہوئی غیرفلمی غزلیں بھی لازوال ہیں، جن میں، رنگ برسات نے بھرے کچھ تو (ناصر کاظمی، جوکہ نیرہ کے پسندیدہ ترین شاعر ہیں)، پھر ساون رُت کی پون چلی (ناصر کاظمی)، اے عشق ہمیں برباد نہ کر (اختر شیرانی کی لازوال نظم)، برکھا برسے چھت پر، میں تیرے سپنے دیکھوں (فیض احمد فیض)وغیرہ شامل ہیں۔ نیرہ نور کا گایا ہوا مِلی نغمہ ’وطن کی مِٹی گواہ رہنا‘ آج بھی کراچی سے کشمیر تک ہر محبِ وطن پاکستانی کا لہو گرماتا ہے۔

نیرہ نور کی بے مثال کامیابی کے حوالے سے ارشد محمود نے ایک بار کہا تھا، ’’70ء اور 80ء کے عشرے میں جب میں نیرہ کے ساتھ کسی گانے پر کام کرتا تھا، تو اس وقت ہمارے ذہن میں یہ بات نہیں ہوتی تھی کہ یہ گانا کامیاب ہوگا یا نہیں۔ بس، ہمارے اندر تخلیقی اور سب سے بہترین کام کرنے کا جذبہ اور لگن ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ، ہم اس بات کو بھی مدِنظر رکھتے تھے کہ ہم جس شاعر کا کلام پیش کررہے ہیں، وہ اس کے ذریعے کس چیز کا اظہار کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

وہ نوجوان جو موسیقی کے میدان میں طبع آزمائی کرنا چاہتے ہیں اور اس شعبہ میں کامیابی کے خواب دیکھ رہے ہیں، ان کے لیے نیرہ نور کا پیغام سادہ لیکن انتہائی اہم ہے، ’’موسیقی، آرٹ کی غالباً سب سے خالص قسم ہے، اس میں ملاوٹ مت کریں‘‘۔ مزید برآں، نیرہ نور کہتی ہیں کہ انھوں نے پورے کیریئر کے دوران موسیقی کو اپنی روح کے لیے لیا، اس کا دنیاوی چیزوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔