اسلام آباد(خصوصی رپورٹر/ایجنسیاں) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان دل و جان سے ایران کے ساتھ کھڑا ہے‘ اسلام آباد کا ریاض کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ ہے ‘ایران کو سعودی عرب کی سرزمین حملوں کےلیے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی پاکستان نے لےکر دی ‘اگرایران خلیجی ممالک پر جوابی حملہ نہ کرتاتو ہم ملکر امریکا اور اسرائیل کی کارروائی کیخلاف آواز اٹھاتے ‘ہماری پرخلوص سفارتی کوششوں کو ملک کے اندرغلط رنگ دینا مناسب نہیں‘ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان مسلسل کوششیں کر رہا ہے‘گزشتہ تین دنوں میں کئی ممالک سے پاکستان رابطہ کر چکا ہے‘سب نے دیکھاکہ ہماری کوششوں سے سعودی عرب اور عمان کیخلاف ایران کی کارروائیاں کم ہوئیں‘ہماری بات کو سمجھا گیا، فیلڈ مارشل اب بھی کوششیں کر رہے ہیں‘پاکستان کی کوششوں کے بارے میں ایرانی قیادت بخوبی آگاہ ہے‘ ڈائیلاگ کے زریعے افہام و تفہیم کا معاملہ نکل آئے گا۔منگل کوایوان بالا میں ایران کی صورتحال پر پالیسی بیان دیتے ہوئے سینیٹراسحاق ڈارکا کہناتھاکہ 28 فروری کو پاکستان نے ایران پر حملے کی صورتحال پر پہلا باضابطہ ردعمل دیا جبکہ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت پر وزیراعظم شہباز شریف نے یکم مارچ کو تعزیتی بیان جاری کیا‘ پاکستان نے ہر فورم پر یہ موقف اپنایا کہ مسئلہ بین الاقوامی قوانین اور مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ گزشتہ تین دنوں میں متعدد ممالک سے رابطے کیے گئے اور عمان کے وزیر خارجہ کے ساتھ بھی بات چیت ہوئی، جس میں امید ظاہر کی گئی کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ جون میں بھی ایران پر حملہ ہوا تھا اور اس وقت بھی پاکستان نے ترکیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور یورپی یونین سمیت متعدد ممالک سے رابطے کیے تاکہ معاملہ سلجھایا جا سکے۔انہوں نے زور دیا کہ ایران پاکستان کا برادر اسلامی اور ہمسایہ ملک ہے اور پاکستان اپنی ذمہ داری پوری کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران نے خود واضح کر دیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا اور تمام مسائل کا حل بات چیت اور سفارتی ذرائع سے نکالا جائے گا۔