آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ22؍ربیع الاوّل 1441ھ 20؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت میں کمی

دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت میں کمی
ہانگ کانگ میں 2018 میں نجی دولت چار فیصد کم ہوکر 319 اعشاریہ 8 ارب ڈالر ہوگئی۔

دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت میں 2015 کے بعد پہلی بار کچھ کمی واقع ہوئی ہے، سوئٹزرلینڈ میں کام کرنے والے اداروں یو بی ایس اور پی ڈبلیو سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اسکی وجہ کچھ تو سیاسی حالات و عدم استحکام ہے جبکہ حصص مارکیٹوں میں ہونے والا غیرمعمولی اتار چڑھاؤ بھی ہے جو دولت کمی کا باعث بنا ہے۔

یو بی ایس اور پی ڈبلیو سی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برس ارب پتی افراد کی دولت دنیا بھر میں موجود 8 اعشاریہ 5 کھرب ڈالر میں چار اعشاریہ تین فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے، اس میں زیادہ کمی گریٹر چائنا بشمول ہانگ کانگ اور ایشیا پیسفک ریجن میں نظر آئی ہے۔

رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ ہانگ کانگ میں 2018 میں نجی دولت چار فیصد کم ہوکر 319 اعشاریہ 8 ارب ڈالر ہوگئی۔

یاد رہے کہ چین کے زیرانتظام نیم خودمختار شہری ریاست ہانگ کانگ میں گزشتہ کئی مہینوں سے حکومت مخالف مظاہرے چل رہے ہیں اور اس برس اس صورتحال کی وجہ سے معاشی کساد بازاری کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

اس غیر یقینی صورتحال کے حوالے سے رواں برس جون میں ایک بڑی عالمی خبر رساں ایجنسی نے بڑھتے ہوئے مظاہروں پر تشویش ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ ہانگ کانگ کے بعض دولت مندوں نے اپنی دولت آف شور مقامات پر منتقل کرنا شروع کردی ہے۔

دنیا کے دولت مندوں کی دولت میں چارفیصد کمی
ہانگ کانگ کے بعض دولت مندوں نے اپنی دولت آف شور مقامات پر منتقل کرنا شروع کردی ہے۔

یو بی ایس کے ایشیا پیسفک ریجن کے ویلتھ منیجمنٹ کی شریک سربراہ ایمی لو کا کہنا ہے کہ ویسے تو ہم نے دولت کی بڑے پیمانے پر منتقلی نہیں دیکھی جو کچھ ہم نے دیکھا وہ عمومی طور پرہوتا رہتا ہے، ہمارے کلائنٹس ہمیشہ تنوع کی تلاش میں ہوتے ہیں اور ایسا صرف گزشتہ ایک برس سے نہیں ہو رہا ہے۔

نجی بینک بشمول دنیا کی بڑی مالی معاملات کی منتظم یو بی ایس سمجھتی ہے کہ اس کی ایک وجہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی اور عالمی سیاسی غیریقینی صورتحال بھی ہے۔

یوبی ایس کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس کلائنٹس نے تجارتی لین دین میں کمی کی اور نقد رقوم کو روک کر ادھار پر زیادہ کام کیا۔ چین کے دولت مندوں کی ڈالر کی شکل میں مجموعی دولت میں 12 اعشاریہ 8 فیصد تک کمی ہوئی، اس کی وجوہات میں گرتی ہوئی اسٹاک مارکیٹ، کمزور مقامی کرنسی اور معاشی بڑھوتری میں سست روی شامل ہے۔

یو بی ایس کے الٹرا ہائی نیٹ ورتھ کلائنٹ کے سربراہ جوزف اسٹیڈلر نے کہا کہ دولت میں اس کمی کے باوجود چین ہر دو سے ڈھائی دن میں ایک نیا ارب پتی پیدا کررہا ہے۔

گوکہ دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی تعداد کم ہورہی ہے لیکن امریکا میں ایسا نہیں ہے اور وہاں پر ٹیک کمپنیاں چلانے والے تاجر دولت میں اضافہ کررہے ہیں۔