آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اعجاز الحق اعجاز

اقبال کا فکر و فلسفہ امتزاجی نوعیت کا ہے۔ وہ حقیقت کی کوئی یک رخی تصویر پیش کرنے کی بجائے اس کا ایک کلی تصور پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کے ہاں تصوریت پسندی، حقیقت پسندی، تجربیت پسندی، ارادیت پسندی، عملیت پسندی، وجودیت پسندی اور دیگر بہت سے فلسفوں کا ایک خوبصورت امتزاج پایا جاتا ہے۔ اقبال ان سب فلسفوں کو بہت گہری نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے ایسے عناصر ہی کو قبول کرتے ہیں جو ان کی فکر سے قریب ہوتے ہیں۔ وہ ان فلسفوں کو بعینہٖ قبول نہیں کر لیتے بلکہ ان کو تنقیدی بصیرت سے دیکھتے ہیں۔ 

وہ ان فلسفوں کی اندھا دھند تقلید نہیں کرتے بلکہ وہ ان کو اپنے فکر و نظر کی کسوٹی پہ پرکھنے کے بعد اپنی فکر کا حصہ بناتے ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے فلسفیوں پر دوسرے فلسفیوں کے اثرات لازمی طور پر پائے جاتے ہیں مگر وہی فلسفی اوریجنل فلسفی کہلاتا ہے جو ان اثرات کے باوجود اپنا فریم آف ریفرنس رکھتا ہو۔ اقبال بھی اسی لیے ایک اوریجنل فلسفی کہلائے جانے کے حق دار ہیں کہ وہ دوسرے فلسفیوں سے اثرات قبول کرنے کے باوجود اپنا ایک فریم آف ریفرنس رکھتے ہیں اور اسی لیے وہ دوسرے فلسفیوں کے مقابل انفرادیت کے حامل ہیں۔

اقبال بنیادی طور پر ایک جدت پسند مفکر ہیں۔ ان کی جدت پسندی کا ایک زاویہ یہ بھی ہے کہ ان کے ہاں جس قدر سائنسی شعور پایا جاتا ہے اردو کے کسی اور شاعر کے ہاں نہیں پایا جاتا۔ انہوں نے اپنی شاعری، خطبات اور دیگر تحریروں میں اپنے دور کے سائنسی نظریات سے گہری واقفیت کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ ہمیشہ استقرائی فکر پہ زور دیتے ہیں اور تقلید کو ذہنی غلامی کی ایک شکل قرار دیتے ہیں۔ 

ان کے نزدیک نئے جہان کی تشکیل افکار تازہ کے بغیر ممکن نہیں۔ اقبال پر عقل دشمنی کا بے بنیاد الزام لگایا جاتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ غزالی اور کانٹ کی طرح یہ بتاتے ہیں کہ عقل کی افادیت عالم مظاہر کو سمجھنے اور کارِ دنیا میں تو مسلمہ ہے مگر عالم حقیقت تک اس کی رسائی نہیں۔ وہ سائنس اور باقی تمام علمی شعبوں میں عقلی نقطہ ہائے نظر ہی کے قائل ہیں۔

اقبال زندگی کو ایک بے حد مثبت اور متحرک حقیقت کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ ان کا تصورِ حقیقت مسلسل حرکت و حرارت سے عبارت ہے۔ مگر اقبال کے نزدیک حیات اور کائنات کی تمام تگ و تاز بے مقصد نہیں بلکہ اس میں ایک بامقصد ارادہ پوشیدہ ہے اور اس کی ایک خاص غایت ہے۔ اقبال کا خودی کا تصور ایک بے نظیر تصور ہے۔ 

عام طور پہ یہ کہا جاتا ہے کہ اقبال نے یہ تصور فختے اور نطشے سے مستعار لیا ہے حالانکہ اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اقبال کے تصور خودی پہ ان فلاسفہ کے بہت کم اثرات پائے جاتے ہیں اور اپنی ماہیت، مراحل اور نتائج کے لحاظ سے یہ ایک جداگانہ تصور ہے جس کے بیشتر نقوش اقبال نے خود ابھارے ہیں۔ اقبال کے نزدیک خودی کا جوہر عشق ہے۔ اقبال کے تصور عشق کے بھی بہت سے پہلو ایسے ہیں جو مشرق و مغرب کے کسی دوسرے شاعر میں نہیں پائے جاتے حتیٰ کہ رومی کے ہاں بھی نہیں۔ 

اسی طرح اقبال کا تصور جمال و جلال بھی بہت سے منفرد پہلوئوں کا حامل ہے۔ اقبال کا تصور خیر و شر ہو یا تصور تقدیر یا تصور حسن یا دیگر تصوارت کا مرکز و محور ان کا تصورِ خودی ہی ہے۔ اقبال ہر شے کو خودی کے لحاظ ہی سے پرکھتے ہیں۔ اقبال قوت، رفعت اور حسن کو اصل کے اعتبار سے ایک ہی شے خیال کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک وہی شے جمیل و جلیل ہے جو استحکام خودی کا باعث ہے۔ اسی طرح خودی کی قوت ان کے نزدیک خیر ہے اور خودی کا ضعف شر۔

نظم ’’مسجد قرطبہ‘‘ میں اقبال مسجد کے جمال کے ساتھ ساتھ اس کے جلال کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ دونوں صفات مرد مومن کی شخصیت کا اہم حصہ ہیں۔ وہ مسجد قرطبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتے ہیں۔

تیرا جلال و جمال مردِ خدا کی دلیل

وہ بھی جلیل و جمیل تو بھی جلیل و جمیل

اقبال کے نزدیک زندگی ایک مسلسل بہائو ہے اور یہ ہر لحظہ تغیر پذیر ہے۔ ان کے نزدیک زندگی بہتی ہوئی ندی ہے جو ہمیشہ بہتی ہی رہے گی۔ جو تھا اور نہیں ہونا چاہئے وہ درمیاں سے نکل جائے گا اور جو ہونا چاہئے اور نہیں ہوا وہ ضرور ہو کر رہے گا یعنی زندگی ہمیشہ ارتقائی مراحل سے گزرتی رہے گی اور ہر دم جواں رہے گی۔

زندگی جوئے رواں است و رواں خواہد بود

ایں مے کہنہ جواں است و جواں خواہد بود

آنچہ بود است و نباید و میاں خواہد رفت

آنچہ بایست و نبود است ہماں خواہد بود

اقبال سمجھتے ہیں کہ جب کسی قوم میں ذوق یقیں پیدا ہو جائے اور اسے اپنی صلاحیتوں پہ اعتماد آ جائے تو غلامی کی زنجیریں خود بخود کٹ جاتی ہیں۔

اقبال بنیادی طور پہ ایک رجائیت پسند مفکر ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ امید اور آس کی شمعیں فروزاں کی ہیں اور زندگی کا مثبت رخ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ناامیدی ان کے نزدیک غلامی سے بھی بدتر ہے۔ اقبال کی شاعری اور فکر کا مرکزی موضوع انسان ہی ہے، وہ اس کی آرزوئوں، امیدوں، دکھوں اور بہتر مستقبل کے نغمہ گر ہیں۔ 

وہ مقام آدمیت کو پہچاننے اور احترام آدمیت کا درس دیتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انسان اپنے وجود کی شناخت کرے اور اس کی اہمیت کو تسلیم کرے کہ وہ ایک بے حد منفرد اور بے نظیر وجود ہے جسے کسی بھی صورت کائناتی قوتوں کے سامنے سپر انداز نہیں ہونا چاہئے۔ یعنی انسان اپنے وجود اور جوہر کا حقیقتِ مطلقہ کے ساتھ گہرا تعلق استوار کرتے ہوئے اپنے مقام نیابت کا ادراک کرکے ہی اپنی حیثیت منوا سکتا ہے۔ 

اقبال انسان کا مستقبل بے حد تابناک دیکھتے ہیں۔ وہ حیات انسانی کے بہترین آدرشوں کی جمیل ترین صورتوں اور مفید ترین مظاہر کا ادراک رکھتے ہیں۔ وہ روئے زمین پر ایک نئے انسان کے آرزو مند ہیں جو ایمان، عقل، وجدان اور ارادے کے بہترین اجزا کا مرکب ہے اور ذہن و قلب کی بہترین صفات سے مزین ہے۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید