آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 21؍ربیع الاوّل 1441ھ 19؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

شملہ معاہدہ کے باعث کشمیری عالمی حمایت حاصل نہ کر سکے، محمد خان

وٹفورو (نمائند ہ جنگ) شملہ معاہدہ کے باعث کشمیری عوام عالمی حمایت حاصل نہیں کر سکے جبکہ بھارت مذاکرات کی میز پر مسئلہ کشمیر کو اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے حکمرانوں نے آج تک شملہ معاہدہ سمیت اور سابقہ معاہدوں کے تحت کشمیر، سرکریک، سیاہ چن، سندھ طاس معاہدہ کے تحت دریائوں کے پانی کا مسئلہ حل نہیں کیا۔ بلکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مزید ڈیمز تعمیر کر کے پاکستان کا پانی روک دیا ہے جو کہ سندھ طاس معاہدے کی شدید خلاف ورزی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما محمد خان نے نمائندہ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ محمد خان نے کہاکہ کشمیر پر بھارت کی ہٹ دھرمی، دریائوں پر پانی کی آبی جارحیت اور شملہ معاہدہ کی منسوخی کیلئے وزیراعظم پاکستان عمران خان نیازی ان معاملات پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں اور ان معاملات پر قومی سطح پر بحث ہونی چاہئے۔ پارلیمنٹ قوم کا جمہوری و مقدس فورم ہے قوم کو اعتماد میں لیتے ہوئے وزیراعظم پاکستان شملہ معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان کریں۔ انہوں نے کہا شملہ معاہدہ اور مسئلہ کشمیر ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ محمد خان نے کہا بھارت کا یہ پروپیگنڈہ بے نقاب ہو گیا ہے کہ کشمیر دو طرفہ مسئلہ ہے تو پھر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت

کشمیر میں رائے شماری سے مقبوضہ کشمیر کو کنٹرول کرنے کیلئے ریاست کو دوحصوں میں تقسیم کر کے یہ ثابت کر دیا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کا پرامن حل نہیں چاہتا۔ بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگا کر کشمیر میں ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو محصور کر رکھا ہے۔ ہزاروں افراد بھارت کی مختلف جیلوں میں نظربند ہیں خواتین کی بے حرمتی کی جاتی ہے جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بہت بڑھ چکی ہیں پھر بھی کشمیری عوام پاکستان کے پرچم میں آزادی کی جنگ میں مصروف عمل ہیں۔ محمد خان نے کرتار پور کوریڈور کھولنے پر وزیراعظم پاکستان کی کاوشوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ کرتارپور کوریڈور خطے میں امن کی جانب ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔ اس طرح بھارت کے حکمرانوں کو بھی مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کیلئے فوری مثبت رویہ کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

یورپ سے سے مزید