آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

زرد پتوں کو بھی ہے تازہ ہوائوں کی طلب

اس موئی جمہوریت نے پاکستان کے عوام کی زندگی خراب کرکے رکھ دی ہے۔ کیا ہمارا نظریۂ جمہوریت عوام کو عزت و توقیر دیتا ہے؟ مغربی دنیا میں جمہوریت کا بنیادی نظریہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا ہے مگر اب وہاں بھی جمہوریت قابلِ اعتبار نہیں۔ برطانیہ اور یورپی یونین کے معاملات اور مسائل صرف کاروبار اور سیاست کے تناظر میں نظر آتے ہیں، جمہور جو چاہتےہیں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ کچھ ایسا ہی امریکی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ہمارے سیاسی لیڈران بھی نظریۂ جمہوریت کا بہت پرچار کرتے نظر آتے ہیں۔ نظریۂ جمہوریت کے لئے ایک نعرہ ووٹ کو عزت دو آج کل ان کا پسندیدہ ہے۔ مجھے تو ووٹ کو عزت دو کی سمجھ نہیں آتی، ووٹ جو ایک پرچی کا نام ہے، جو ایک موج کی طرح ہے۔ موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں، اس کی حیثیت جمع کی صورت میں قابلِ اعتبار ہوتی ہے۔ اب جمع کرنے کا نظریہ بھی غریب اور نادار لوگوں کے لئے امتحان ہوتا ہے۔ ہاں! تقسیم کا نظریہ معیشت میں سب سے زیادہ قابل قبول ہوتا ہے۔ معاشی طور پر جمع کی چیزیں صرف جمع کرنے والے استعمال کرتے ہیں مگر تقسیم کے بعد اپنا حصہ اپنی فلاح اور خیر خیریت پر بھی استعمال ہو سکتا ہے مگر تقسیم کے بعد خود مختاری ختم ہو سکتی ہے۔

اس وقت وطنِ عزیز شدید سیاسی انتشار کا شکار ہے۔ جمہوری نظام کے مطابق جو لوگ اسمبلی میں جمہور کی نمائندگی کرتے ہیں، وہی سرکار میں رد و بدل کر سکتے ہیں مگر ہمارے ہاں جمہوریت نظریہ نہیں، صرف نعرہ ہے، جو سیاسی لوگ اس لئے لگاتے ہیں کہ عوام کو اس کی سمجھ نہیں اور ناسمجھی کی بنیاد پر ہی وہ عوام کا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں کتنے ہی الیکشن ہو چکے ہیں، جمہوریت کی گاڑی ہے کہ مسلسل مشکلات کا شکار ہے۔ کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ جمہوریت نے ہمارے ملک کی ترقی کو یرغمال بنا رکھا ہے، اب موجودہ سرکار کو ہی دیکھ لیں کہ انتخابات میں کامیابی کے بعد ہی عمران خان کو سرکار بنانے کا موقع ملا اور وہ اپنے طور پر کوشش بھی کرتا نظر آتا ہے کہ ملک کی سمت درست ہو جائے مگر ہمارا سیاسی نظام ہی ہماری مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔

آج کل آزادی مارچ اور دھرنے کا بڑا شور و غل ہے، سمجھ نہیں آتا کہ آزادی مارچ کا حاصل فقط استعفیٰ ہے تو کیا کسی شخص کی خواہش پر ملکی نظام کو دائو پر لگایا جا سکتا ہے؟ آزادی مارچ اور دھرنے کے لئے مخصوص نظریہ کے لوگ اسلام آباد میں موج میلہ کرتے نظر آتے ہیں۔ کیا اس آزادی مارچ اور دھرنے سے جمہوریت کی توقیر میں اضافہ ہوگا؟ ایک طرف تو مارچ اور دھرنے کا خالق جمہوریت میں اپنی حیثیت کا تعین نہیں کر سکتا۔ مولانا نے انتخابات میں خوب زور و شور سے حصہ لیا لیکن ان کی جماعت کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کر سکی اور اس کے فوراً بعد ہی انتخابات مشکوک ہونے کا فتویٰ دے دیا گیا جو حقائق کے بالکل برعکس ہے کیونکہ اب تک ملک میں جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں ان پر مسلسل دھاندلی کا الزام لگتا رہا ہے۔

پاکستان میں سیاسی انتشار آنے والے دنوں میں مزید گمبھیر ہوتا نظر آتا ہے۔ اس آزادی مارچ اور دھرنے کو نامعلوم حلقوں کی اشیرباد حاصل نظر آتی ہے۔ اگر عمران خان آزادی مارچ والوں کی بات قبول کر لیں تو اس کی قانونی اور آئینی حیثیت کیا ہوگی؟ پاکستان ایک اور آئینی بحران میں مبتلا ہوتا نظر آ رہا ہے۔ آزادی مارچ اور دھرنے والوں نے ملک کے اہم اداروں پر کئی سوالات اٹھائے ہیں اور یہ سوال کسی بھی طور فقط الزام ہیں اور وہ بھی مخالفت اور سیاست کی وجہ سے، آزادی مارچ کے قائدین آور لوگ آپس میں بھی فکری انتشار کا شکار نظر آتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہمدرد سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے مسائل ہیں۔ ایک طرف نواز لیگ کے لوگ سابق وزیراعظم کی صحت کی وجہ سے خلفشار کا شکار ہیں، سابق وزیراعلیٰ پنجاب گھریلو سیاست کی وجہ سے قوتِ فیصلہ سے محروم نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف ان کی اپنی صحت بھی متاثر ہے۔ پھر نواز شریف کیلئے ضروری ہے کہ علاج کے لئے جلد از جلد ملک سے باہر چلے جائیں، ان کے ہمراہ مریم صفدر کا جانا بھی ضروری ہے۔ آزادی مارچ کے فلاسفر اس معاملہ میں میاں نواز شریف کی مدد بھی کر رہے ہیں اور گفتگو میں یہ معاملہ ان کی شرائط میں شامل ہے اور لگتا ہے کہ کچھ نہ کچھ طے ہو گیا ہے۔

دوسری طرف پیپلز پارٹی کے قائدین بلاول زرداری کے سیاسی اصولوں سے مطمئن نظر آتے ہیں البتہ آصف علی زرداری کے خلاف نیب کے معاملات شواہد کی بنیاد پر پریشان کن ہیں۔ دھرنے والے بیک وقت سابق صدر زرداری اور سابق وزیراعظم کی نیب کے معاملات میں مدد کرنے کے لئے اپنی شرائط میں نرمی دکھانے پر تیار ہیں، اگر دوبارہ انتخابات کا طے ہو جائے تو بھی یہ مسئلہ جلد حل ہوتا نظر نہیں آتا اور اس معاملہ کو طے کرنے کے لئے اعلیٰ عدالت کے پاس ہی جانا پڑے گا۔ جو ملکی اداروں کی ساکھ کے لئے کسی نئے طرز کے حکومتی نظام کا تصور دے سکتے ہیں مگر اس کے بعد کیا وہ قابلِ قبول ہوگا؟ معیشت اور سی پیک کے تناظر میں ایسے نظام کی اشد ضرورت ہے مگر کرپشن کرنے والوں کے احتساب کا فیصلہ بھی ضروری ہے۔ دیکھئے یہ گرد و غبار اور طوفان کتنا عرصہ جاری رہتا ہے۔

زرد پتوں کو بھی ہے تازہ ہوائوں کی طلب

ہر مسافر اک نئی منزل کا راہی ہے یہاں

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)