آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 21؍ربیع الاوّل 1441ھ 19؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بابری مسجدفیصلہ، کرتارپور خوشی پر اوس ڈالنے کے مترادف،شاہ محمود

کراچی(جنگ نیوز)جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘میں میزبان شہزاداقبال سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت میں عدالتی چھٹی کے دن بابری مسجد کا فیصلہ دراصل کرتارپور راہداری کی خوشی پر اوس ڈالنے کے مترادف ہے ہندوستان کی سوچ آج بھی آر ایس ایس کی سوچ ہے اس کو تبدیل کرنا ہوگا گاندھی نہرو کا ہندوستان دفن ہوگیا نریندر مودی نے وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا مودی کو چاہیے وہ بھی عمران خان کو شکریہ کا موقع دیں۔

بابری مسجدفیصلہ، کرتارپور خوشی پر اوس ڈالنے کے مترادف


شہزاد اقبال نے کہاکہ بھارتی سپریم کورٹ کے بابری مسجد پر فیصلے سے سیکولر بھارت کے امیج کو شدید ٹھیس پہنچی ہے بھارت میں مسلمانوں پر مزید زمین تنگ ہو سکتی ہے ،بینچ میں شامل مسلمان جج نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ مسجد کی تعمیر کے لئے اس مقام پر کسی مندر کو نہیں گرایا گیا تھا جب کہ مسجد کی تعمیر ایک کھنڈر پر ہوئی تھی۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ فضل الرحمٰن کی دعائیں کام آگئی ہیں یہ حقیقت ہے پلی بارگین ہو رہی ہے نواز شریف جارہے ہیں آصف زرداری کے فرنٹ مین پلی بارگین کر لیں گے، کیسز وہیں موجود ہیں یہ سب لوگ ضمانت پر ہیں لیکن تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ کیس ختم ہوگئے، اگر نواز شریف کو کچھ ہوجاتا تو پھر یہ بات حکومت پر آتی لیکن اب جو کچھ بھی ہونا ہے ان کے گھر میں ہونا ہے یا لندن میں ہونا ہے، نواز شریف اب گلے پڑ رہے تھے بجائے لینے کے دینے پڑجانے تھے، عمران خان پریشر لینے والا آدمی نہیں ہے اصل کیس حمزہ، سلمان اور خورشید شاہ کا ہے تین لوگوں کے کیس اتنے سریس ہیں کہ شہباز شریف کو اپنی سیاست پر ایک سو ایک مرتبہ سوچنا پڑے گا کیوں کہ اس کے ثبوت بہت ٹھوس ہیں اور شہباز شریف کے دونوں بیٹوں کا بچنا مشکل ہے۔

عمران خان نے خالصتاً کل میٹنگ میں یہ بات کہی ہے کہ میں نے انسانی بنیادوں پر ان کو باہر جانے کا فیصلہ کیا ہے اگر آزادی مارچ نہ ہوتا تب بھی عمران خان یہی فیصلہ کرتے اگر عدالت یہ کہتی ہے کہ کل تک گارنٹی دیں اگر انہیں کچھ ہوگیا تو ذمہ دار حکومت ہوگی عمران خان ٹھیک کہتے ہیں کہ میں اپنی ضمانت نہیں دے سکتا ان کی کیسے دے سکتا ہوں۔ 

ایک سوال پر کہا کہ خواجہ آصف کی بات کو بالکل آپ مسترد نہیں کر سکتے کہ اسٹیبلشمنٹ نے اس حوالے سے ممکنہ کردار ادا کیا ہواسوقت پاک فوج اور عمران خان کی حکومت گاڑی کے دو پہیے ہیں اور پاکستان کی بہتری کے لئے دونوں قوتیں آگے لے کر جانا چاہتی ہیں اس میں ایک دوسرے سے مشورے ہوتے رہتے ہیں اگر ایک اچھا مشورہ ہوا ہے تو کیا حرج ہے ہمارا کیس ان سے وصولی کا تھا وہ ہم سے وصول کرنے کے چکر میں آگئے تھے۔

مریم نواز کے حوالے سے کہا کہ اگر ان کا معاملہ حکومت کے پاس آتا ہے تو ابھی تک یہی فیصلہ ہے کہ ان کو نہیں نکالا جائے گا۔

اہم خبریں سے مزید