آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان میں سکھوں کے بڑے مذہبی مقامات کہاں ہیں؟

گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور کے علاوہ پاکستان میں 18 گوردوارے ایسے ہیں جہاں سکھ مذہبی عبادات کے لیے آتے ہیں۔

تاریخ دانوں اور محققین کے مطابق سکھوں کے اہم مذہبی مقامات بھارت  اور پاکستان میں موجود ہیں جہاں پر ہر سال سکھ اپنی مذہبی رسومات عقیدت و احترام سے مناتے ہیں۔

گوردوارہ جنم استھان، ننکانہ صاحب

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ضلع ننکانہ صاحب پوری دنیا میں سکھ مذہب کے بانی گرو بابا نانک کی پیدائش کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔

تقسیم کے وقت گردوارہ ننکانہ صاحب پاکستان کے حصے میں آیا ۔اب تک حکومت پاکستان ہی اسکی دیکھ بھال کرتی ہے۔

ننکانہ صاحب کو 2005 میں ضلعے کا درجہ دیا گیا ۔ یہاں سکھوں کے پہلے ’’گرو دیو‘‘کا بچپن اور جوانی گزری،  بعد میں ’ارجن دیو اور گرو ہر گو‘نے ننکانہ صاحب کا دورہ کیا اور 1969ء میں اپنے گرو کی یاد میں ایک گرد وارہ تعمیر کیا۔

سکھوں کے دور حکومت میں اس گردوارے کی تعمیر کے لیے دل کھول کر رقم خرچ کی گئی۔ گردوارہ ننکانہ صاحب 7000ایکڑ میں ہے۔

بابا گرو نانک نے ننکانہ صاحب ہی سے سکھ مذہب اوراس کی تعلمیات کا آغاز کیا تھا اور اسی وجہ سے اس شہر کو سکھ مذہب میں انتہائی مقدس سمجھا جاتا ہے۔

گوردوارہ دربار صاحب، کرتارپور


پاکستان میں سکھوں کے بڑے مذہبی مقامات کہاں ہیں ؟


بابا گرونانک کی آخری آرام گاہ گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور دنیا بھر میں بسنے والے سکھوں کا مقدس مقام ہے۔

حال ہی میں تعمیر کے بعد دربار صاحب دنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ بن گیا ہے جس میں بارہ دری، لائبریری، میوزیم، مہمان خانہ اور لنگر خانہ بھی شامل ہے۔

دریائے راوی کے کنارے ، لاہور سے تقریبا 120 کلومیٹر کی مسافت پر واقع گردوارہ دربار صاحب، کرتار پور سکھ مذہب کےماننے والوں کا ’گوردوارہ جنم استھان ‘ کے بعد دوسرا مقدس ترین مقام ہے۔

کرتارپور گوردوارہ ضلع نارووال کی تحصیل شکر گڑھ میں واقع ہے جو بھارتی سرحد سے کچھ دوری پر ہے، گوردوارہ دربار صاحب 1539 میں قائم کیا گیا۔

نارووال شکر گڑھ روڈ سے کچے راستے پر اتریں تو گوردوارہ کرتار پور کا سفید گنبد نظر آنے لگتا ہے، یہ گوردوارہ مہاراجہ پٹیالہ بھوپندر سنگھ بہادر نے 1921 سے 1929 کے درمیان تعمیر کروایا تھا۔

بابا گرونانک نے وفات سے قبل 18 برس اس جگہ قیام کیا اور گرونانک کا انتقال بھی کرتارپور میں اسی جگہ پر ہوا۔ گرو نانک مہاراج نے اپنی زندگی کے آخری ایام یہیں بسر کیے اور اُن کی سمادھی اور قبر بھی یہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ کرتارپور سکھوں کے لیے مقدس مقام ہے۔

گردوراہ پنجہ صاحب، حسن ابدال

گردوراہ پنجہ صاحب سکھوں کا مشہور گردوارہ ہے جو حسن ابدال ضلع اٹک کے مقام پر واقع ہے۔

گردوراہ پنجہ صاحب میں ایک پتھر پر گرونانک جی کا پنجہ لگا ہوا ہے۔ یہ پتھر قصبے کے اندر ایک مکان میں محفوظ ہے، جو بالعموم مقفّل رہتا ہے اور سکھ زائرین یا دوسرے زائرین کی آمد پر کھولا جاتا ہے۔

سکھ مذہب کے بانی گرونانک 1521ء میں حسن ابدال پہنچے۔ ان کی جائے قیام پر ان کی یاد میں ایک گوردوارہ تعمیر کیا گیا ہے۔

گوردوارے میں پتھرکی ایک چٹان پر ہاتھ کا ایک نشان کندہ ہے جسے باباگورونانک کی ایک کرامت کا نتیجہ بتایا جاتاہے۔

گردوراہ پنجہ صاحب کو 1823ء میں سردار ہری سنگھ نے تعمیر کروایا تھا۔ 1920ء تک یہ ہندوؤں کے قبضے میں رہا۔ تاہم  1933ء میں سکھوں کے زیر انتظام آنے کے بعد  اس عمارت کی تجدید کی گئی۔

حسن ابدال اپنے خوبصورت تاریخی مقامات اور سکھ مذہب کی ایک اہم عبادت گاہ گردوارہ پنجہ صاحب کی وجہ سے مشہور ہے۔

بیساکھی میلے میں شرکت کے لیے بھارت سمیت دنیا بھر سے سکھ یاتری ہرسال حسن ابدال کا رخ کرتے ہیں۔سکھ یاتری گردوارہ پنجہ صاحب پر حاضر ہو کر اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔

دیگر معروف گردواروں میں گرودوارہ پاتشاہی چھیویں، مزنگ، لاہور، گرودوارہ ٹاہلی صاحب گھکا کوٹلی شکرگڑھ، گرودوارہ بھائی جوگا سنگھ، پشاور، گرودوارہ سری دیالسر، ٹوپی، گرودوارہ بھائی پھیرو، ضلع قصور و دیگر شامل ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید