امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکی افواج آنے والے دنوں میں ایران پر حملے تیز کرنے جا رہی ہیں۔
فوکس نیوز ریڈیو پر بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تیسرے ہفتے میں جنگ بڑھنے جارہی ہے۔ اگلے ہفتے امریکی فوج ایران پر سخت حملے کریں گی۔
انٹرویو کے دوران ایران کے خارگ جزیرے پر بنے آئل ٹرمینل پر قبضے کے سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے براہ راست جواب دینے سے گریز کیا، ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا امریکہ ایران کے اس اہم جزیرے پر قبضہ کرنے پر غور کر رہا ہے جہاں سے ملک کے زیادہ تر تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ ’میں اس طرح کے سوال کا جواب نہیں دے سکتا، یہ ترجیحات کی فہرست میں بہت اوپر نہیں ہے، لیکن بہت سی چیزوں میں سے ایک ہے، اور میں کسی بھی لمحے اپنا فیصلہ بدل سکتا ہوں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے خارگ جزیرے سے متعلق سوال کو ’بیوقوفانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی ایسا منصوبہ بنا بھی رہے ہوں تو اس کے بارے میں عوامی طور پر کیوں بتائیں گے۔
خیال رہے کہ خارگ جزیرہ خلیج فارس میں ایران کے ساحل کے قریب تقریباً پانچ میل طویل جزیرہ ہے جو ایران کی تیل برآمدات کا مرکزی مرکز سمجھا جاتا ہے، ماہرین کے مطابق ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل برآمدات اسی جزیرے کے ذریعے ہوتی ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس جزیرے پر قبضہ کرنے یا اسے نشانہ بنانے کی کوشش کی جائے تو اس کے لیے بڑی تعداد میں زمینی فوج درکار ہوگی، تاہم اب تک امریکی حکومت نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں زمینی فوج اتارنے سے گریز کیا ہے۔