آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ایک رپورٹ کے مطابق سوئی ناردرن اور سدرن دونوں کمپنیوں نے گیس کی قیمتوں میں یکم جولائی 2019سے مزید اضافے کا مطالبہ کیا ہے جس کا آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی ان کی درخواستوں کی سماعت کے بعد فیصلہ کرے گی۔ اپنی درخواستوں میں سوئی ناردرن نے 194روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ مانگا ہے جس کا صارفین پر 71ارب روپے کا مزید بوجھ پڑے گا۔ اسی طرح سوئی سدرن نے 62روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کا تقاضا کیا ہے جس سے عوام الناس کو 22ارب67کروڑ روپے مزید ادا کرنا ہوں گے۔ یہ اکتوبر 2018سے اب تک گیس کی قیمتوں میں چوتھا اضافہ ہوگا، مزید دو اضافے اکتوبر 2018کو جبکہ تیسرا جولائی 2019میں کیا گیا۔ ان 12ماہ کے دوران سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں وفاقی بجٹ 2019-20کے تحت محض دس فیصد اضافہ ہوا جبکہ جملہ غیر سرکاری اور اجرتوں پر ملازم افراد کی مالی حالت اس سےبھی زیادہ دگرگوں ہے جو بتدریج بڑھتی مہنگائی کے بھنور میں ایسا پھنسے ہیں کہ سنبھلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ یہ ریت بن چکی ہے کہ سردی کا موسم قریب آتے ہی گیس اور گرمی کی آمد سے پہلے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے جس کی شرح بھی بتدریج بڑھ رہی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ملک میں وسیع پیمانے پر بجلی اور گیس چوری ہوتی ہے جس کے خاتمے کے لئے آج تک کوئی نتیجہ خیز اقدام نہیں اٹھایا جا سکا حالانکہ اس حوالے سے گزشتہ برسوں میں قانون سازی بھی ہوئی۔ آج لائن لاسز کا تخمینہ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ عوام اس کا مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔ حکومت کو اس ساری صورتحال کا جائزہ لینا چاہئے اور بڑھتی مہنگائی اور عوام کی مالی زبوں حالی کے پیش نظر گیس کے نرخ مزید نہیں بڑھانا چاہئیں۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998