آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پی ایم اے کی صوبائی کابینہ کا اجلاس،ایم ٹی آئی ایکٹ بارے گفتگو

پشاور(نیوزڈیسک)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی صوبائی کابینہ کا اجلاس صوبائی صدر ڈاکٹر حسین ہارون کی صدارت میں ہوا جس میں تمام صوبائی کابینہ کے ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبہ خیبر پختونخوا میں تقریباً د و ماہ تک جاری ہڑتال صوبے کے تمام بڑے ہسپتالوں میںآر ایچ اے، ڈی ایچ اے، ایم ٹی آئی نج کاری ایکٹ پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ پی ایم اے نے حالیہ ہڑتال میں مکمل طور پر جی ایچ اے کا ساتھ دیا لیکن حکومتی مذاکرات کا بائیکاٹ کیا کیونکہ صوبائی حکومت نے ڈاکٹروں کے ساتھ جب بھی مذاکرات کئے مذاکرات میں ہونے والے فیصلوں پر عمل درآمد نہ کر سکی کیونکہ حکومت کی کمیٹی بے اختیار ہوتی ہے۔ تمام اختیارات ڈاکٹر نوشیروان برکی کے پاس ہوتے ہیں۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ایم اے نے مذاکرات کا حصہ نہ بنتے ہوئے ڈی ایچ اے، آر ایم اے، ایم ٹی آئی نج کاری کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت کی مذاکراتی چکر میں نہ آنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور ان کے کزن ڈاکٹر نوشیروان برکی ہر وقت میڈیا اور پریس میں یہ شدت سے کہتے کہ ہم اصلاحات سے پیچھے نہیں بٹنے والے لیکن ڈاکٹروں کے ساتھ مذاکرات کرینگے۔ اس صورت حال میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا ہیلتھ ایمپلائز اور عوام کے ساتھ غدداری ہے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے اصلاحات کے نام

پر صوبے کے تمام بڑے اور چھوٹے ہسپتالوں کی نج کاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور خیراتی ہسپتالوں میں شام کے وقت پرائیویٹ مریضوں کو دیکھا جاتا ہے جن سے او پی ڈی پرچی کے نام پر ایک ہزار، پندرہ سو وصول کئے جاتے ہیں اور آپریشن کے ہزاروں لاکھوں روپے بٹورے جاتے ہیں جب کہ اس سے پہلے خیبر پختونخوا کے چھوٹے بڑے ہسپتالوں میں مفت آپریشن علاج، ادویات، انوسٹی گیشن کی جاتی تھی۔ پی ایم اے حکومت سے پر زور مطالبہ کرتی ہے۔ ڈی ایچ اے، آر ایچ اے، ایم ٹی آئی ایکٹ فوری طور پر واپس لے ہسپتالوں میں کی جانے والی نج کاری ختم کی جائے ہسپتالوں میں پرائیویٹ پریکٹس پر پابندی لگائی جائے ہسپتال میں داخل مریضوں اور ایمرجنسی میں مفت ادویات مہیا کی جائے حالیہ ہڑتال کے دوران جن ڈاکٹروں پیرامیڈکس، نرسز، کلاس فور، ملازمین کے خلاف کئے جانے والے اقدامات پوری طور پر واپس لیا جائے اور ایل آر ایچ میں لاٹھی چارج کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی جائے ادویات کی قیمتیں کم کی جائے اور سرکاری ہسپتالوں میں کھلے جانے والی پرائیویٹ میڈیکل سٹور بند کئے جائے۔

پشاور سے مزید