آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کوئی بھی قیدی علاج کیلئے پاکستان سے باہر جاسکتا ہے، فروغ نسیم

کوئی بھی قیدی علاج کیلئے پاکستان سے باہر جاسکتا ہے، فروغ نسیم


وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ نواز شریف کی سزا معطل ضرور ہوئی ہے لیکن وہ اپنی جگہ موجود ہے، پاکستان میں کوئی بھی قیدی جس کا علاج پاکستان میں نہیں ہوسکتا وہ باہر جاسکتا ہے۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں فروغ نسیم نے کہا کہ کا بینہ نے پہلے ہی نوازشریف کو چار ہفتے کے لیے ایک بار جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا، انڈیمنٹی بانڈ بیل بانڈ نہیں ہے، انڈیمنٹی بانڈ طلب کرنا کابینہ کا مشترکہ فیصلہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ انڈیمنٹی بانڈ نہ سہی لیکن شریف برادران نے عدالت کے سامنے کسی اور انڈر ٹیکنگ کو مان لیا ہے۔

وزیر قانون نے مزید کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے نوازشریف کے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت پر عبوری حکم دیا ہے، عبوری آرڈر پر سپریم کورٹ 99 فیصد اپیل نہیں لیتی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف واپس نہ آئے تو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف توہین عدالت کے مرتکب ہوسکتے ہیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے یہ بات تسلیم کی کہ نوازشریف کو ایک بار جانے کی اجازت ہے، اگر ہم سمجھیں گے کہ وفاقی حکومت کو اپیل کرنی ہے تو ہم ضرور کریں گے، اپیل کا موقع موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اپیل نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ متعدد فیصلے کرچکی ہے، جیسے عبوری آرڈر میں اپیلیں نہیں سنے گی، جب جنوری میں اس کیس کا فیصلہ ہوگا تو ہم تب بھی اس پر اپیل کرسکتے ہیں۔

وزیر قانون نے مزید کہا کہ عمران خان کا احتساب کا ایجنڈا ہے، ایک کرپشن فری سوسائٹی بنا سکے تو پاکستان اگلے لیول پر جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مین زیادہ تر تباہی اسی لیے ہوئی کہ اربوں کی منی لانڈرنگ ہوتی رہی، کک بیکس لیے جاتے رہے، اب یہ تمام چیزیں نہیں ہورہی اس لیے معیشت کو استحکام ملا ہے۔

فروغ نسیم نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی قیدی جس کا علاج پاکستان میں نہیں ہوسکتا وہ علاج کی غرض سے باہر جاسکتاہے، لیکن علاج کا خرچہ ریاست نہیں دے رہی۔

ان کا کہنا تھاکہ جب اس قسم کا کیس عدالت میں چلا جاتا ہے تو وہ شخص عدالت کی تحویل میں ہوتاہے، فائنل فیصلہ آنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ قانونی چارہ جوئی کرنی ہے یا نہیں۔

قومی خبریں سے مزید