آپ آف لائن ہیں
پیر21؍ذیقعد 1441ھ 13؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

فرح یوسف

طالب علموں کو عموماًیہ کہتے سنا ہے کہ، انہیں کچھ یاد ہی نہیں رہتا۔جو یاد کرتے ہیں کچھ دنوں بعدیا بعض اوقات چند لمحوں میں ہی اپنی کہی ہوئی بات بھول جاتے ہیں۔ ایسے طلباء درج ذیل چند طریقوں پر عمل کرکے اپنی یاد داشت کو بہتر بنا کر مختلف پریشانیوں سے بچیں۔

٭… نوجوانوں کو چاہیے کہ نت نئی چیزیں سیکھنے کا عمل جاری رکھیں، جب یہ سیکھنے کا عمل جاری رکھیں گے تو ان کے ذہن کے خلیات کو تیزی سے کام کرنے کی عادت ہوجائے گی، جو کہ مختلف دماغی بیماریاں جیسے الزائمر وغیرہ سے محفووظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

٭… یاد داشت بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ، طلبہ کم سے کم 6 گھنٹے روزانہ سوئیں، رات کی نیند یاد داشت کو مضبوط بنانے والے خلیات کی نشو و نما میں اہم کردار ادا کرتی ہے، ساتھ ہی نیند پوری ہونے سے اسٹروک کے خطرے سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔

٭… طلبہ کو اپنی خوراک پر خصوصی توجہ دینی چاہیے، ہرے پتوں والی سبزیاں زیادہ سے زیادہ کھانی چائیں، ساتھ مچھلی، خشک میوہ جات، ناریل اور زیتون کا تیل کھانے میں ضرور شامل کریں۔ یہ تمام غذائیں یاد داشت کو بہتر بناتی ہیں اور الزائمر سے بچاتی ہیں۔

٭… طلب علموں کو چاہیے کہ انہیں یاد کرنے میں جو چیزیں مشکل لگتی ہیں جیسے، کسی جگہ کا نام، کوئی سبق یا الفاظ اور اس کے معنی، انہیں بطور چیلنج لیں ان مشکل ناموں اور اسباق کو یاد کریں، تین مشکل نام یا الفاظ ایک دن میں یاد کرنے سے یاد داشت کو بہتر کیا جاسکتا ہے، اس لیے ہر وقت کچھ نہ کچھ یاد کرتے رہیں۔

٭… روزانہ کوئی نہ کوئی ورزش یا پھر کچھ دیر چہل قدمی ضرور کریں، کوشیش کریں کہ ایسی ورزش کریں جو ذہنی تناؤ کو دور کرنے میں معاون ثابت ہو۔اس کے علاوہ اپنے دوست احباب، عزیز و اقارب جن کے ساتھ میں آپ خود کو پُرسکون محسوس کرتے ہیں ان کے ساتھ چہل قدمی پر جائیں۔ 

موسیقی سنیں، دوستوں سے ان موضوعات پر بات کریں جو پڑھا یا یاد کیا ہو، انہیں اپنے خیالات بتائیں ، اس پر تبصرہ کریں صرف یہ نہیں بلکہ اس حوالے سے کوئی عملی سرگرمی ممکن ہو تو اس میں بھی حصہ لیں۔ اس طرح آپ جو یاد کر رہے ہیں، سن رہے ہیں یا جس کا تجربہ کر رہے ہیں وہ زیادہ عرصے تک یاد رہتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یاد داشت مضبوط ہوتی رہتی ہے۔

٭… مراقبہ کرنے کی عادت اپنائیں، کیوں کہ دن بھر پڑھائی کرنے، سبق یاد کرنے، امتحانات کی ٹینشن سے ذہنی تناؤ کا شکار ہوجاتے ہیں، ایسے میں طلبہ کو چاہئے کہ وہ روزانہ رات کو سونے سے پہلے دس منٹ کے لیے مراقبہ ضرور کریں، سائنس اندر کھینچیں اور سات تک گنتی گنیں، اس دوران سانس روکے رکھیں پھر باہر نکالیں اور سات تک گنتی گنیں اس ورزش کو مراقبے کے دوران آزمائیں۔