آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر یکم جمادی الثانی 1441ھ 27؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

تجارتی تناؤ سے بڑے عالمی برآمدکنندگان متاثر

لندن:ویلنٹینا رومی

سیؤل : ایڈورڈ وائٹ، سانگ جنگ اے

مشرقی جنوبی کوریا کے علاقے پوہنگ میں اسٹیل ساز پوسکو فیکٹری کے پلانٹ مینیجر جیونگ تائی نے کہا کہ معاملات اتنے اچھے نہیں ہیں۔وہ پوسکو کے گرم رولڈ اسٹیل کی طلب کی سطح کی جانب اشارہ کررہے تھے تاہم وہ عالمی تجارت کے نقطہ نظر کے بارے میں بھی بات کرسکتے تھے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجارتی جنگ شروع کرنے کے بعد 18 ماہ میں بین الاقوامی تجارتی حجم متاثر ہوا ہے، برآمدات پر انحصار کرنے والی جنوبی کوریا جیسی معیشتیں مشکلات کا شکار ہیں۔

آکسفورڈ اکنامکس میں ماہر اقتصادیات ایڈم سلاٹر نے کہا کہ سامان تجارت سے قریبی منسلک خدمات جیسے ٹرانسپورٹ،سست ہورہی ہیں، کچھ شعبوں میں تجارت میں رکاوٹیں بتدریج کم ہورہی ہیں اور مالیاتی خدمات کی تجارت میں نمو کمزور ہے۔

اکتوبر میں جنوبی کوریا کی برآمدات میںگزشتہ برس اسی ماہ کے مقابلے میں 7.14 فیصد کمی ہوئی،جوکہ تقریباََ چار سال اور مسلسل 11 ماہ کے ماہانہ کمی میںسب سے بڑی کمی ہے۔

گزشتہ برس اسی عرصے کے مقابلے میں اکتوبر تک 10 ماہ میں حجم کے لحاظ سےلوہے اور اسٹیل کی برآمد میں 7.9 فیصد کمی آئی ہے۔

کوریا کسٹمز سروس کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اکتوبر میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کوریا کی برآمدی مصنوعات کی درجہ بندی دوتہائی سکڑ گئی۔بالخصوص الیکٹرانک مصنوعات میں اس پریشانی کو بہت بری طرح محسوس کیا گیا،جس کی برآمد میں 18 فیصد اور سیمی کنڈکٹر کی برآمدات میں 32 فیصد کمی ہوئی۔

تجارتی تناؤ نے دیگر معیشتوں کیلئے باد مخالف میں اضافہ کیا جو جنوبی کوریا کے لئے بھی ناسازگار ہے،جہاں گزشتہ تین ماہ کے مقابلے میں سال کی تیسری سہ ماہی میں محض 4.0فیصد اضافہ ہوا، جو تجزیہ کاروں کی پیشن گوئی سے کم ہے۔

یہ ایک وسیع طریقہ کار کا حصہ ہے۔گزشتہ سال اسی ماہ کے مقابلے میں رواں سال اگست میںعالمی تجارتی حجم 2.1 فیصد سکڑ گیا،جوایک عشرے قبل آنے والے مالیاتی بحران کے بعد سے مسلسل تیسری ماہانہ سالانہ کمی اورسکڑاؤ کا طویل ترین عرصہ ہے۔

گزشتہ ماہ آئی ایم ایف نے جزوی طور پر تجارت میں سست روی کی وجہ سےعالمی جی ڈی پی کی رواں برس 3.3 فیصد ترقی کی پیشنگوئی میں کمی کرکے اس موسم بہار میں 3 فیصد تک کردی۔

پوسکو اس تکلیف کو محسوس کررہا ہے، تیسری سہ ماہی میں خالص منافع میں کمی کی اطلاعات ہیں۔

مسٹر جیونگ نے کہا کہ عالمی معیشت سست ہورہی ہے،لہٰذا ہم اسٹیل کی کمزور تر طلب دیکھ رہے ہیں۔

جنوبی کوریا کی جی ڈی پی میں مصنوعات اور خدمات کی برآمدات 40 فیصد سے زیادہ ہیں،جو دنیا کی 20 بڑی معیشتوں میں سب سے زیادہ اور صرف جرمنی کے برابر ہے،جو تجارت سے متعلق بے چینی کو اسی طرح برداشت کررہی ہے۔

تاہم نقصان صرف بھاری برآمدات والی معیشتوں تک ہی محدود نہیں ہے۔

فنانشیل ٹائمز کے آئی ایم ایف کے پچھلے 33 سال سے زائد کے اعدادوشمار کے تجزیئے کے مطابق جنوبی کوریا سمیت تقریباََ 100 ممالک نے رواں سال کے پہلے نصف حصے میں اپنی برآمدات کے حجم میں کمی دیکھی۔مشینری اور ٹرانسپورٹ کے سازوسامان کی برآمدات خاص طورپر شدید متاثر ہوئیں۔

رواں ماہ آئی ایم ایف نے عالمی گڈز اینڈ سروسز کی برآمدات کی سالانہ شرح نمو کے لئے اپنی پیش گوئی کو کم کرکے 2019 ءکے لئے حجم میں 2.1 فیصد کردی،جوکہ گزشتہ سال اس کی 7.3 فیصد کی پیشن گوئی سے کم ہے۔

آکسفورڈ اکنامکس میں ماہر اقتصادیات ایڈم سلاٹر نے کہا کہ سامان تجارت سے قریبی منسلک خدمات جیسے ٹرانسپورٹ،سست ہورہی ہیں، کچھ شعبوں میں تجارت میں رکاوٹیں بتدریج کم ہورہی ہیں اور مالیاتی خدمات کی تجارت میں نمو کمزور ہے۔

پالیسی کی اعلیٰ سطح کی غیریقینی صورتحال کا مطلب ہے کہ متعدد کمپنیاں سرمایہ کاری میں کٹوتی کررہی ہیں۔آئی ایم ایف کے مطابق 2017 ءمیں 1.4 فیصد کے ساتھ مقابلے میںاس سال جدید معیشتوں میں سرمایہ کاری کی شرح نمو 5.1 فیصدتک سست ہونے کی توقع ہے۔

ہفتہ وار پوڈکاسٹ

فنانشیل ٹائمز کے خارجہ امور کے کالم نگار گیڈون راچ مین سے نیا ہفتہ وار پوڈکاسٹ سنا،اورعالمی امور کی تشکیل دینے والے دنیا بھر کے فیصلہ سازوں اور مفکرین کے ساتھ ان کی گفتگو سنی۔

تجارتی تناؤ نے دیگر معیشتوں کیلئے باد مخالف میں اضافہ کیا جو جنوبی کوریا کے لئے بھی ناسازگار ہے،جہاں گزشتہ تین ماہ کے مقابلے میں سال کی تیسری سہ ماہی میں محض 4.0 فیصد اضافہ ہوا، جو تجزیہ کاروں کی پیشن گوئی سے کم ہے۔

چین کو بڑے سپلائر کی حیثیت سے، یہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں سست رو ترقی کے اثرات کو محسوس کررہا ہے۔اکتوبر میں جنوبی کوریا کی چین کو برآمدات میں بتدریج 17 فیصد کمی واقع ہوئی۔ویت نام، سنگاپور، جاپان اور تھائی لینڈ سمیت متعدد ممالک کی چین کو برآمدات کم ہونے کے ساتھ خطے میں دیگر ممالک بھی متاثر ہوئے۔

جاپان کے ساتھ کشیدگی میں اضافے سے بھی جنوبی کوریا متاثر ہے۔حالیہ مہینوں میں تلخی بڑھ گئی ہے جیسا کہ چپ میکرز کے استعمال میں آنے والے کلیدی مواد کی جنوبی کوریا کو برآمدات پر نئی پابندیاں عائد کردیں۔

سیمی کنڈکٹر جوجنوبی کوریا کی خاص پیداوار ترقی کا محرک ہے، اس کی صنعت تجارتی اتار چڑھاؤ کا سامنا کررہی ہے۔

کچھ علامات پائی جاتی ہیں کہ صورتحال مستحکم ہوسکتی ہے۔امریکا اور چین کے درمیان مذاکرات میں لہجے میں کم محاذآرائی کا مظاہرہ کیا گیا جیسا کہ وہ کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کررہے ہیں، اگرچہ متعدد ماہرین محتاط ہیں کہ کوئی بھی قلیل المدتی معاہدہ بنیادی تناؤ کو کم کرے گا۔

جون کے مقابلے میں جولائی اور اگست میں عالمی تجارت کی شرح میں معمولی کمی ہوئی،جبکہ عالمی برآمدات کے نئے آرڈرز کے لئے جے پی مورگن آئی ایچ ایس مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس نے گزشتہ مہینے کی نسبت ستمبر میں تھوڑے سکڑاؤ کی نشاندہی کی۔

حالیہ شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مستقبل قریب میں عالمی تجارت کے کمزور رہنے کے امکانات ہیں، کیپٹل اکنامکس کے ماہر اقتصادیات بیتھائی بیکٹ نے کہا کہ صورتحال کم از کم مزید بدتر نہیں ہورہی ہے۔

اس کے باوجود ماضی میں تجارتی معاہدے کی امید مایوسی میں ڈھلی ہوئی ہے،اقتصادی اعدادوشمار ملے جلے ہیں اور چینی درآمدات پر امریکی سودے جو ستمبر میں متعارف کرئے گئے تھے عالمی معیشت پر مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

کنسلٹنسی فوکس اکنامکس کے ماہر معاشیات اسٹیون برک نے کہا کہ ٹیک مصنوعات کے لئے عالمی مانگ میں کمی،تجارتی تحفظ پسندی اور عالمی سطح پر سیمی کنڈکٹر کی قیمتوں میں کمی جنوبی کوریا کی معیشت میں ابھی بھی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

نتیجے کے طور پر پالیسی سازوں نے محرک اقدامات کی ضرورت کا اعتراف کرلیا ہے۔

اکتوبر میں جنوبی کوریا کے صدر مون جا نے معیشت کو درپیش سنگین صورتحال کے بارے میں خبردار کیا تھا،جب انہوں نے قانون سازوں سے مالی بحران کے بعد سے ملک کے سب سے بڑے مالیاتی محرک مروگرام کو منظور کرنے کی اپیل کی۔

اور ماہرین اقتصادیات نے آنے والے مہینوں میں مزید مصائب کے بارے متنبہ کیا ہے۔

فچ سولیوشنز کے تجزیہ کار ٹی کیی پینگ نے کہا کہ جنوبی کوریا کی معیشت کے لئے ان کی توقعات سال کے اوائل میں قدرے زیادہ تیزی کی تھیں،تاہم اب گروپ کا خیال ہے کہ آنے والی سہ ماہیوں میں اس کےمزید کمزور ہونے کا امکان ہے۔

اس نے خاص طور پر پیداوار کو خودکار بناکر اپنے منافع کی شرح کو بچانے کیلئے پوسکو کو جدوجہد پر مجبور کردیا ہے۔

پوسکو کے سینئر نائب صدر کیم کی سو نے کہا کہ ایک سے دو فیصد لاگت میں بچت یا منافع میں ایک سے دو فیصد اضافہ کے بارے میں جنگ ہے۔یہ مارکیٹ میں کامیابی یا مکمل ناکامی کی صورتحال بھی ہوسکتی ہے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید