آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ28؍جمادی الاوّل 1441ھ 24؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ، جسے پاکستان کی پھلوں کی ٹوکری بھی کہا جاتا ہے، سطح سمندر سے 5ہزار 253فٹ بلندی پر واقع ہے۔ کوہ چلتن، کوہ مرداراور تکاتو کے درمیان واقع وادی کوئٹہ اپنے موسم اور ریل کے دلکش سفر کے باعث ایک افسانوی روپ کی حامل ہے۔ 

ماضی میں ’لٹل لندن‘کہلانے والے اس شہر کا پہلا تاریخی حوالہ گیارھویں صدی میں ملتا ہے، جب محمود غزنوی نے اس پر قبضہ کیا تھا۔ اس کے بعد مختلف حکمرانوں کے زیرِ دست رہنے کے بعد کوئٹہ 1876ء میں انگریزوں کے قبضہ میں چلا گیا۔قیامِ پاکستان کے بعدیہ رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کا صدر مقام بنا۔

قلعہ مِری

’مِری‘ براہوی لفظ میر سے نکلا ہے۔ سرتھامس ہولڈچ نے 1884ء میں بلوچستان کے ضلع گزیٹیئر میں کہا تھا، ’’کوئٹہ کا تاج ہی مِری تھا۔ یہ قدیم زمانے سے ہی کوئٹہ کا قلعہ رہا ہے اور امکانی طور پر اس کی بنیاد مٹی کا آتش فشاں (Mud volcano) تھا۔ دور سے قلعہ مٹی کے ٹیلے کی طرح لگتا ہے۔ مغرب کی جانب سے کوئٹہ شہر کے داخلی راستے پر حکمت عملی کے لحاظ سے قلعہ مِری بہتر جگہ بنایا گیا ہے۔ 

اس کے اندر ایک میوزیم اور مندر بھی ہے۔ ٹھیکیدار ایل بابو رام نے1940ء میں قلعے کی دیواروں کے اندر اسے تعمیر کیا تھا۔ دیوار اور چھت پر مصورانہ شہ پارے بہت دلچسپ ہیں، جن میں سورگ و نرکھ (جنت و دوزخ) کے دیوی اوردیوتاؤں کو اسی طرح باتصویر بیان کیا گیا ہے،جیسے مائیکل اینجلو نے مسیحی تعلیمات کی روشنی میں مصوری کی تھی۔

ہنہ جھیل

کوئٹہ سے پانچ میل کے فاصلے پر واقع ہنہ جھیل اپنے چاروں اطراف پہاڑوں اور صحراؤں کے منفرد نظاروں کی وجہ سےسیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ یہ جھیل کوئٹہ کے سب سے زیادہ مقبول اور پُرکشش مقامات میں سے ایک ہے، جسے انگریزوں نے 1894ء میں تعمیر کیا تھا۔ یہ جھیل نزدیکی پہاڑوں سے بارش کے پانی اور برف سے بنتی ہے۔ 

ہنہ جھیل 818ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی ہے ۔اس میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 22کروڑ20لاکھ گیلن ہے جبکہ یہ49فٹ گہری ہے۔ یہاں واٹر سپورٹس کی سہولیات کے ساتھ ساتھ جھیل کی سیر سے لطف اندوز ہونے کے لئے کشتیاں بھی موجود ہیں۔ 1976ء میں سیلاب کے دوران ہنہ جھیل کو بنانے والے ڈیم کو نقصان پہنچا تھا ، اس لیے وہ سوکھ گئی تھی۔ 1999ء اور2005ء میں بھی اسی صورتحال کا سامنا رہا۔

ہزار گنجی چلتن نیشنل پارک

کوئٹہ سے کراچی جانے والی شاہراہ پر17کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہزار گنجی چلتن نیشنل پارک کو1980ء میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا۔ یہاں جانوروں اور پرندوں میں مارخور، بھیڑیا، گیدڑ، لومڑی، چکور، سی سی، سنہری عقاب اور پودوں میں جونیپر، خنجک، جنگلی بادام اور جنگلی ایش پائے جاتے ہیں۔10ہزار ہیکٹر رقبے پر پھیلےکرخسہ اسٹیٹ فاریسٹ کوبھی پارک میں شامل کیا گیا ہے۔ 1990ء میں کوہ سرخو اور دُز درہ کے علاقے کو بھی بطور ’گیم ریزرو ائز‘ شامل کیا گیا، اس طرح نیشنل پارک کا کُل رقبہ47ہزار ہیکٹر ہے۔

بلوچستان آرکیالوجیکل میوزیم

کوئٹہ شہر کی رونق آثارِ قدیمہ کا عجائب گھر ہے، جو بلوچستان کی جیتی جاگتی تاریخ ہے۔ اسےانگریزوں کے دور میں میک موہن آرکیالوجیکل میوزیم کے نام سے قائم کیا گیا تھا۔ تاہم بد قسمتی سے جب یہ 1935ء کے زلزلے میں تباہ ہوا تو اس کے باقی بچ جانے والے عجائبات اور نوادرات کو کلکتہ ، دہلی اور لندن منتقل کردیا گیا۔ 1972ء میں ’’بلوچستان آرکیالوجیکل میوزیم ‘‘ کے نام سے دوبارہ قائم کردہ اس میوزیم میںمٹی سے بنے مہرگڑھ، نوشہرو کے نوادرات، قدیم مخطوطات، 16ہزار سے زائد قیمتی پتھر، کرہ ارض پر زندگی کے ابتدائی اجسام جبکہ قدیم مقامی اسلحہ میں ڈھاڈری اور برطانوی دور کی رائفلیں اور پستول وغیرہ بھی موجود ہیں۔ 

اس میوزیم کی سات گیلریز ہیں۔ کئی صدیوں پر مبنی عالمی ارضی تاریخ کا جتنا بھی جیالوجیکل ریکارڈ ہے، وہ میوزیم میں موجود پتھروں میں محفوظ ہے۔ خاص الخاص بات یہاں موجود ڈائناسورز، واکنگ ویل، بلوچی تھیریم کے رکازات ( Fossil )ہیں، جو بلوچستان سے ہی دریافت ہوئے ہیں۔ پاکستان بھر میںایسے رکازات کہیں اور موجود نہیں۔ اس کے علاوہ قیمتی پتھر، معدنیات، مختلف طرح کے پتھراور بالخصوص شہاب ثاقب آپ کو یہاں ہی ملیں گے۔

ادارہ ثقافت بلوچستان

بلوچستان کا عظیم ثقافتی ورثہ یہاں کی بلوچی، پشتون اور براہوی دستکاریاں ہیں۔ ثقافت کی شناخت صرف دستکاریوں سے ہی نہیں ہوتی بلکہ لوک موسیقی، رقص اور پینٹنگز بھی اس کے اظہار کا ایک اہم ذریعہ ہیں اور کوئٹہ میں یہ تما م اصناف جس ایک مقام پر یکجا نظر آتی ہیں، وہ ہے ادارہ ثقافت بلوچستان، جس کی سیاحت و شاپنگ کسی سحرسے کم نہیں۔

زیارت ریزیڈنسی

کوئٹہ کے مضافات میں واقع زیارت ریزیڈنسی کوپاکستان کی تاریخ میں اہم مقام حاصل ہے،جہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے آخری ایام اس پُرفضا مقام پر گزارے۔ یہ رہائش گاہ فن تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے، جس کا لکڑی سے بنا ہوا ڈھانچہ فطرت شناس مکانات کی اولین درجہ بندی میں شمار ہوتا ہے۔

یہ عمارت 1892ء میں تعمیر کی گئی تھی، اس دور میں برطانوی حکومت کے افسران اسے اپنی رہائش کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔ اس کے چاروں طرف چنار (دیودار) کے درخت، خوبصورت سرسبز گھاس، گلابوں سے آراستہ باغ اور دلکش وادی کے حیرت انگیز نظارے اس رہائش کو حقیقی معنوں میں سحر انگیز بنا دیتا ہے۔ اس وقت یہ دو منزلہ عمارت قائداعظم میوزیم کے طور پر استعمال ہورہی ہے، جہاں بابائے قوم کے زیر استعمال رہنے والا فرنیچراس طرح سجایا گیا ہے،جیسے قائد اب بھی وہیں مقیم ہیں۔ اس عمارت کی تعمیر نو کا کام 2014ء میں مکمل کیا گیا تھا۔

تعمیرات سے مزید